بدھ , 19 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 06 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا نہشل رضی اللہ عنہ

بن مالک الوائلی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مکتوب دیا یوسف بن عمرو بن موسیٰ بن سعید بن مسلم بن قیتبہ بن مسلم عمرو بن حصین وائلی باہلی نے اپنے والد سے انہوں نے مسلم بن قیتبہ سے روایت کی کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہشل کو ایک فرمان لکھ کر دیا اور حدیث بیان کی ابن مندہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نہیر رضی اللہ عنہ

بن ہیشم بن بنی نابی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس انصاری اوسیٰ بیعت عقبہ میں موجود تھے مگر غزوۂ بدر میں شرکت سے محروم رہے ابو عمر نے ذکر کیا ہے ایک روایت میں بہیر آیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن رباح ابو زہیر ثقفی: یحییٰ ثقفی نے اذناً باسنادہ ابو بکر سے انہوں نے ابو بکر بن ابی شیبہ سے انہوں نے یزید بن ہارون سے انہوں نے نافع بن عمر الجمی سے، انہوں نے اُمیّہ بن صفوان بن عبد اللہ سے۔ انہوں نے ابو بکر بن ابی زہیر ثقفی سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ مَیں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو طائف کے ایک ٹیلے پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا۔ جلدی ہی تمہیں اہلِ جنت اور اہلِ نار کا یا بھلے لوگوں اور بُرے لوگوں کا علم ہوجائے گا۔ ایک آدمی نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نیک آدمی اس کی تعریف و توصیف سے اور بُرا آدمی اپنی بدعملی اور بد کرداری سے پہچانا جاتا ہے تم ایک دوسرے کے نگران اور پاسدار ہو۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

ابو زہرہ: ان سے یہ حدیث مروی ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تو فرماتے ’’اللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ‘‘: یحییٰ بن یونس نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ حصین بن عبد الرحمان نے ان سے روایت کی جعفر کا قول ہے کہ وہ تابعی تھے۔ جس شخص نے ان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحبت ثابت کی ہے، وہ غلطی پر ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن صمہ بن عمرو بن جموح: احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے اور حرہ کے موقع پر مارے گئے۔ یہ معاذ بن عمرو بن جموح کے بھتیجے تھے۔ ہم ان کا ذکر بھی کریں گے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن سنان الاسلمی: امام زہری نے ان کا ذکر اس حدیث میں کیا ہے جو انہوں نے عبد الرحمٰن بن کعب بن مالک سے روایت کی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ بنو خزرج نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو رافع بن ابی الحقیق کو قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، چنانچہ مندرجۂ ذیل اصحاب اس مہم پر روانہ ہوئے: عبد اللہ بن عتیک (سردار قوم) عبد اللہ بن انیس، مسعود بن سنان، ابو قتادہ اور خزاعی بن اسود، جو بنو اسلم سے تھے اور بنو خزرج کے حلیف تھے، چنانچہ خیبر جاکر انہوں نے اسے قتل کردیا۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے ابو عمر لکھتے ہیں کہ مسعود بن سنان بن اسود بنو غنم کے حلیف تھے، جو انصار کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھتے تھے۔ غزوۂ احد میں شریک تھے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن سوید بن حارثہ بن نضلہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب قرشی، عدوی: یہ بنو عدی کے ان ستر آدمیوں میں شامل تھے۔ جو ہجرت کر کے مدینہ آگئے تھے۔ اور بقول زبیر و ابن کلبی انہوں نے غزوۂ موتہ میں وفات پائی۔ نیز زبیر نے لکھا ہے کہ یہ لاولد تھے۔ یہ مسعود بن اسود بن حارثہ کے جن کا ذکر پیشتر آچکا ہے عمزاد تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن ضحاک بن عدی بن جابر اللخمی: ان سے عبد السلام بن مستیز بن مطاع بن زائدہ بن مسعود بن ضحاک نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا مسعود سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام مطاع رکھا اور فرمایا کہ تم اپنی قوم کے مطاع ہو اور پھر انہیں ابلق گھوڑے پر سوار کرایا۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ لیکن ابو عمر اور ابن مندہ نے ان کا نام مسعود بن عدی لکھا ہے۔ ابو موسیٰ نے بھی ان کا ذکر کیا ہے اور ان کانام مسعود بن ضحاک لکھا ہے اور چونکہ ابن مندہ نے ان کا نام مسعود بن عدی لکھا ہے، اس بنا پر ابو موسیٰ نے انہیں مسعود بن ضحاک کے علاوہ کوئی اور آدمی سمجھا ہے اسی لیے استدراک کیا ہے۔ ابن مندہ نے پھر سے ان سے مستیز بن مطاع بن زائدہ بن مسعود بن عدی بن جابر کی روایت کا اپنے سے اور پھر اپنے دادا سے ذکر کیاہے۔ اس سے ظاہر ہوگیا کہ جو کچھ ابن مندہ نے بیان کیا ہے۔ دونوں ایک ہیں۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن عبد سعد: ہم ان کا ذکر مسعود بن سعد کے ترجمے میں کرچکے ہیں۔ ابو عمر نے بھی ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے اور جو کچھ ہم نے مسعود بن سعد کے ترجمے میں بیان کیا ہے۔ وہی کچھ ابو عمر نے ان کے بارے میں لکھ دیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن عبدہ بن مظہر: علامّہ طبری لکھتے ہیں کہ مسعود بن عبدہ اپنے بیتے نبار کے ساتھ غزوۂ اُحد میں موجود تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔

مزید