منگل , 18 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 05 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا مطلب رضی اللہ عنہ

بن حنطب بن حارث بن عبید بن مخزوم مخزومی قرشی: ان کی والدہ حفصہ بنتِ مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم تھی۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابو بکر اور عمر کی نسبت مجھ سے ویسی ہی ہے جیسی کان اور آنکھ کی نسبت سر سے ہوتی ہے، لیکن اس کا اسناد قوی نہیں ہے۔ انہوں نے یہی حدیث اپنے والد حنطب کو بھی سنائی۔ ان سے ایک اور حدیث بایں انداز مذکور ہے کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ غیبت کیا ہے آپ نے فرمایا۔ غیبت اسے کہتے ہیں کہ جس آدمی کے بارے میں تو جو بات بیان کرتا ہے، اسے سن کر وہ بُرا منائے۔ مَیں نے کہا، اگر وہ بات سچی ہو تو پھر؟ آپ نے فرمایا۔ اگر تو جھوٹ کہے گا۔ تو وہ بہتان ہوگی۔ انہی مطلب کی اولاد سے حکم بن مطلب بن عبد اللہ بن مطلب بن حنطب اپنے عہد کے بہت بڑے سخی اور کریم النفس تھے۔ آخری عمر میں پارس۔۔۔

مزید

سیّدنا مطلب رضی اللہ عنہ

بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف: ایک روایت میں ان کا نام عبد المطلب مذکور ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لڑکے تھے۔ زبیر کہتے ہیں کہ اچھے خاصے مرد تھے۔ انہوں نے دمشق میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ ایک روایت میں ہے: کہ ۲۹ ہجری میں افریقہ جانے کے ارادے سے مصر آئے تھے۔ عبد الوہاب بن ابی حبہ نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد سے: انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے محمد بن جعفر سے انہوں نے شعبہ سے اُنہوں نے عبد ربہ بن سعید سے اُنہوں نے انس بن ابی انس سے، اُنہوں نے عبد اللہ بن نافع بن عمیا سے اُنہوں نے عبد اللہ بن حارث سے اُنہوں نے مطلب بن ربیعہ سے روایت کی، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز دو دو رکعتوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے مجھے ہر دو رکعت کے بعد تشہد، خشوع، خضوع کے علاوہ اپنے ہاتھوں کو دعا کےلیے پھیلان۔۔۔

مزید

سیّدنا مطلب رضی اللہ عنہ

بن ابی وداعہ: ابو وداعہ کا نام حارث بن صبیرہ بن سعید بن سعد بن سہم بن عمرو بن حصیص قرشی سہمی تھا۔ اور ان کی ماں کا نام اروی بنت حارث بن عبد المطلب بن ہاشم تھا۔ فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا۔ پھر کوفہ آگئے اور وہاں سے پھر مدینہ چلے گئے اور ان کے والد ابو وداعہ بدر کے دن گرفتار ہوگئے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسے قابو رکھنا۔ اس کا ایک لڑکا ذہین و فطین ہے۔ چنانچہ مطلب بن ابی وداعہ زرِ فدیہ لے کر چپکے چپکے باپ کو چھڑانے کے لیے مدینے گئےا ور چار ہزار درہم ادا کر کے باپ کو چھڑا لائے۔ یہ پہلے قیدی تھے جس نے زرِ فدیہ ادا کیا۔ چنانچہ قریش نے اسے جلد بازی اور ادائیگی قرضہ پر ملامت کی۔ مطلب نے کہا۔ مَیں اپنے باپ کو قید میں نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ اس کے بعد لوگ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اپنے اپنے قیدیوں کو چھڑا لائے۔ مطلب سے ان کے بیٹوں کثیر او۔۔۔

مزید

سیّدنا مطیع رضی اللہ عنہ

بن اسود بن حارثہ بن نضلہ بن عوف بن عبیدہ بن عویج بن عدی بن کعب قرشی عدوی: ان کا نام عاصی تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر مطیع بنادیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ تمہارا عمزاد عاصی، عاصی نہیں بلکہ مطیع ہے۔ ان کی ماں کا نام عجماء بنت عامر بن فضل بن کلیب بن حبشیہ بن سلول خزاعیہ تھا۔ ان سے ان کے بیٹے عبد الملک نے روایت کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگوں کو حکم دیا کہ بیٹھ جاؤ۔ عین اسی وقت عاصی مسجد میں داخل ہوئے اور بیٹھ جاؤ کی آواز سن لی۔ وہ وہیں بیٹھ گئے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اُترے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصی سے فرمایا۔ مَیں نے تمہیں نماز میں نہیں دیکھا۔ عرض کیا، یا رسول اللہ! مَیں مسجد میں داخل ہُوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بیٹھ جاؤ سُنا اور مَیں ب۔۔۔

مزید

سیّدنا مطیع رضی اللہ عنہ

بن عامر بن عوف بن کعب بن ابی بکر بن کلاب بن ربیعہ: وہ ذولحمیہ کلابی کے بھائی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کا نام عاصی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطیع کردیا۔ دار قطنی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مظہر رضی اللہ عنہ

بن رافع بن عدی بن زید بن جشم بن حارثہ بن حارث بن خنررج بن عمرو بن عامر بن اوس انصاری اوسی حارثی: وہ ظہیر بن رافع کے سگے بھائی تھے: اور غزوۂ اُحد اور بعد کے تمام غزوات میں شامل رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت تک زندہ رہے۔ واقدی لکھتے ہیں کہ جنابِ مظہر حارثی شام سے توانا مزدوروں کا ایک گروہ لے کر خیبر میں اپنی زمینوں پر کام کرانے کو لائے۔ خیبر میں تین دن کے بعد، یہودیوں نے انہیں اُکسایا چنانچہ وہ شہر سے باہر نکلے، تو وہ شامی جو بیگار میں پکڑے آئے تھے۔ حملہ آور ہوئے اور انہیں قتل کردیا یہود نے شامیوں کو زادِ راہ دیا، چنانچہ وہ واپس چلے گئے، خلیفہ کو یہود کی شرارت کا علم ہوا۔ تو یہود کو جلا وطن کردیا۔ ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن انس جہنی: ان کے بیٹے کا نام سہل تھا۔ مصر میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ ان کے بیٹے سہل نے ان سے روایت کی۔ ان کے بیٹے کے پاس ایک بڑی سی کتاب تھی۔ جس میں ان کی روایات مذکور تھیں۔ اس مجموعے سے امام احمد بن حنبل نے مسند میں، ابو داؤد، نسائی، ابو عیسیٰ، ابن ماجہ اور ان کے علاوہ اور لوگوں نے بھی فائدہ اُٹھایا ہے۔ ابراہیم بن محمد اور اسماعیل بن علی وغیرہ نے باسناد ہم ابو عیسیٰ ترمذی سے، انہوں نے عباس دوری سے اُنہوں نے عبد اللہ بن یزید مقرمی سے انہوں نے سعید بن ابی ایوب سے، انہوں نے ابو محروم عبد الرحیم بن میمون سے اُنہوں نے سہل بن معاذ بن انس الجہنی سے۔ انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو اچھا لباس پہننے کی استطاعت ہو اور وہ بر بنائے تواضع اچھا لباس نہ پہنے، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے ساری مخلوق کے سامنے بلائے گا اور ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

ابو بشر اسدی: ہم ان کا ذکر ان کے بیٹے بشر بن معاذ کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

التمیمی: سائب بن یزید نے بنو تمیم کے ایک آدمی سے جس کا نام معاذ تھا روایت بیان کی کہ وہ حضور اکرم کی خدمت میں آئے اور آپ نے اوپر نیچے دوزر ہیں پہن رکھی تھیں۔ یہ ابو علی کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نحات رضی اللہ عنہ

بن ثعلبہ ہم اس سے پیشتر ان کا ذکر کرچکے ہیں ابو عمر نے ان کا نام نحات اور ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے نجاب لکھا ہے غزوۂ بدر میں شامل تھے وہ بلوی ہیں اور انصار کے حلیف۔ ۔۔۔

مزید