بن جبل بن عمرو بن ادس بن عائذ بن عدی بن کعب بن عمرو بن ادی بن سعد بن علی بن اسد بن ساردہ بن یزید بن جشم بن خزرج انصاری خزرجی، جشمی: اور ادی جوان کی طرف منسوب ہے۔ وہ سلمہ بن سعد کا بھائی ہے اور یہ انصار میں سے وہ قبیلہ ہے جو ان کی طرف منسوب ہے۔ بعض لوگوں نے انہیں بنو سلمہ سے منسوب کیا ہے۔ ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ انہیں بنو مسلمہ سے اس لیے منسوب کیاگیا ہے۔ کیونکہ وہ سہل بن محمد بن جد بن قیس کے اخیانی بھائی تھے اور سہل بنو سلمہ میں سے ہے۔ کلبی کہتا ہے کہ وہ بنوادی سے تھے۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنو ادی کا کوئی فردداب باقی نہیں رہا اور انہیں بنو سلمہ سے شمار کیا جاتا ہے اور ان کا جو آخری ایک آدمی بچ گیا تھا۔ اس کا نام عبد الرحمٰن بن معاذ تھا۔ یہ صاحب شام کے علاقے عمواس میں طاعون سے فوت ہوگئے تھے۔ ایک روایت کے مطابق یہ اپنے والد معاذ سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ اس بناء پر آ۔۔۔
مزید
بن حارث الانصاری: بنو خزرج کے قبیلے بنونجار سے تعلق رکھتے تھے۔ کنیت ابو حلیمہ تھی۔ بقول طبری کنیت ابو الحارث تھی اور عرف قاری تھا۔ غزوۂ خندق میں شامل تھے۔ ایک روایت کی رو سے انہوں نے صرف چھ برس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے استفادہ کیا۔ ان سے عمران بن ابی انس اور نافع مولی ابن عمر نیز المقبری نے روایت کی۔ یہ ان لوگوں سے ہیں۔ جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں تراویح پڑھانے پر مقرر کیا تھا۔ اور ابو عبیدہ ثقفی کے ساتھ یوم الجسر میں موجود تھے اور میدان جنگ سے بھاگ کر آگئے تھے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ بالیقین ہم ان کے ساتھی ہیں۔ ان کا شمار اہلِ مدینہ سے ہوتا ہے۔ ان سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مروی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا منبر جنت کی نہروں میں سے ایک نہر پر واقع ہے۔ ان کی وفات زید بن ثابت سے پہلے واقع ہوئ۔۔۔
مزید
بن سعد بن قیس بن خلدہ بن عامر بن زریق الانصاری زرقی: غزوات بدر اور اُحد میں شریک تھے اور بئرمعونہ کے حادثے میں شہید ہوئے۔ ابو عمر نے واقدی سے روایت کی کہ بقول عبد اللہ بن محمد بن عمارہ وہ غزوۂ خیبر میں شہید ہوئے۔ ابو عمر نے ان کا دو بار تذکرہ کیا ہے۔ ایک میں انہوں نے حسبِ قولِ واقدی ان کی شہادت غزوۂ خیبر میں بیان کی ہے اور دوسرے میں سانحۂ بئر معونہ میں۔ ابو نعیم کا قول ہے، کہ ان کی شہادت خیبر میں ہوئی۔ ابو نعیم، ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمر بن عمیر بن عوف بن عقبہ بن غیرہ بن عوف بن ثقیف الثقفی ابو اسحاق: ان کے والد جلیل القدر صحابہ سے تھے اور جناب مختار کی پیدائش ہجرت کے سال میں ہوئی۔ انہیں حضور اکرم کی نہ تو صحبت میّسر آئی اور نہ اُنہوں نے کوئی حدیث ہی آپ سے سُنی اور ان کی روایات غیر حسن ہیں۔ ان سے شعبی وغیرہ نے روایت کی، لیکن ان کے درمیان تعلقات کی نوعیّت کچھ ایسی تھی کہ آخر میں دونوں میں کسی ایک کی بات نہیں سُنی جاتی تھی۔ مختار حضرت حسین کا بدلہ لینے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ چنانچہ شیعہ کی ایک بڑی جماعت کوفے میں اِن کے گرد جمع ہوگئی اور کوفے پر قبضہ کرلیا اور قاتلین حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا شروع کردیا۔ شمر بن ذی الجوش اور خولی بن زید الاصیحی کو قتل کیا۔ آخر الذکر وہ شخص ہے جس نے حضرت امام کا سر میدانِ جنگ سے اٹھا کر کوفے پہنچایا تھا۔ پھر عمر بن سعد بن ابی وقاص کو جو یزیدی لشکر کا کماندار ۔۔۔
مزید
یہ ان ہدایات کے وقت موجود تھے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علاء حضرمی کے لیے لکھی تھیں۔ جب انہیں بحرین بھیجا تھا۔ ۔۔۔
مزید
ابن ماکو لانے ان کا نسب یوں لکھا ہے: مخربہ بن عدی الجذامی الضبی، جعفر بن کمیل بن و برہ بن حارثہ بن اُمیّہ بن خبیب نے بیان کیا۔ میں نے عصمہ بن کہیل سے اُنہوں نے اپنے بزرگوں سے اُنہوں نے حارثہ بن عدی سے سُنا، اُنہوں نے کہا کہ میں اور میرا بھائی مخریہ اس وفد میں موجود تھے، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ لشکر جو ہم پر حملہ آوار ہوا تھا موجود تھا۔ ہمیں ان کے لشکر سے جو تکلیف پہنچی تھی۔ ہم نے اس کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ حضور اکرم نے فرمایا۔ تم جاؤ: اور اپنے جانوروں سے جو جانور سامنے آئے۔ اسے بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرو جو شخص اس ذبیحہ کو کھالے، اسے چھوڑ دو۔ انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ہم ان کا ذکر اس سے پہلے مُحرش کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں۔۔۔
مزید
انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تھی۔ سماک بن حرب نے سوید بن قیس سے روایت کی کہ میں نے اور مخرفۃ العبدی نے بیچنے کے لیے ہجر سے (مقام کا نام) کچھ کپرا خریدا۔ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک شلوار خریدی۔ بعد میں ایک بیچنے والے نے جو وہاں تھا ٹکڑے ٹکڑے کر کے بیچنا شروع کردیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ناپ کر بیچو اور تھوڑا سا زائد کپڑا بھی دے دیا کرو۔ ایوب بن جابر نے سماک سے اور انہوں نے مخرفہ سے روایت کی۔ یہ اسناد غلط ہے اور درست صورت وہی ہے، جو ثوری اور اسرائیل وغیرہ نے سماک سے اور انہوں نے سوید سے روایت کی۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
نبو عبد الشمس کے حلیف تھے۔ ابن وہب نے یونس سے انہوں نے زہری سے انہوں نے سائب بن یزید سے روایت کی۔ کہ مخرمہ بن شریح نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا اور کہا کہ فلاں آدمی قرآن پر صرف تکیہ ہی نہیں کرتا، بلکہ اس پر عمل بھی کرتا ہے اور وہ جنگ یمامہ میں موجود تھا۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے اور کہا کہ فلاں آدمی قرآن پر صرف تکیہ ہی نہیں کرتا، بلکہ اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ اور وہ جنگِ یمامہ میں موجود تھا تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن مخرمہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لگان سے ان کے لیے چالیس وسق غلّہ مقرر فرما دیا تھا۔ یہ ابن اسحاق کی روایت ہے، لیکن اس نے ان کا نام نہیں لیا۔ بلکہ ان کی روایت میں آیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مخرمہ کو ۳۵ وسق غلّہ عطا کیا تھا۔ ہاں ابنِ اسحاق کے علاوہ اور لوگوں نے ان کے نام کی تصریح کی ہے۔ مثلاً زبیر کا قول ہے کہ حضور نے مخرمہ بن قاسم کو چالیس وسق (۶۰ صاع کا ایک وسق ہوتا ہے) غلّہ ارزانی فرمایا تھا اور یہ لاولد تھے۔ ۔۔۔
مزید