یہ قبیلۂ تمیم الداری سے عبد الرحمٰن الداریان کے بھائی تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیبر کی پیدا وار سے کچھ غلہ مخصوص فرما دیا تھا۔ جعفر المستغفری نے باسنادہ ابن اسحاق سے روایت کی ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابو عمر کہتا ہے کہ ایک روایت میں ابن ربیعہ انصاری عمری مذکور ہے۔ جن کا تعلق بنو عمر و بن عوف سے تھا۔ ہشام بن کلبی کے مطابق ان کا سلسلۂ نسب مرارہ بن ربعی بن عدی بن زید بن عمرو بن زید بن جشم بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس ہے یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے۔ یہ ان تین انصار میں سے تھے، جو غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہوسکے تھے۔ اور جن کے بارے میں قرآن کی آیت ’’وَعَلٰی الثَّلاثَۃ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا‘‘ نازل ہوئی تھی۔ ہمیں ابو عبد اللہ بن علی بن سعید نے باسنادہ ابو الحسن علی بن احمد الواحدی سے بتایا۔ انہیں احمد بن حسین حیری نے، انہیں حاجب بن احمد نے، انہیں محمد بن حماد نے انہیں ابو معاویہ نے، انہیں اعمش نے انہیں ابو سفیان نے انہیں جابر نے۔ ان تین انصار کے بارے میں بتایا کہ وہ کعب بن مالک، مرارہ ربیع اور ہلال بن امیّہ تھے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ہم ان کا نسب پیشتر ازیں ان کے بیٹے مجاعہ کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں۔ ان سے ان کے بیٹے مجاعہ نے روایت کی اور ان کے بیٹے مجاعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ یحییٰ بن راشد صاحب السابری نے حارث بن مرہ سے انہوں نے سراج بن مجاعہ بن مرارہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام غورہ، عوانہ اور جبل کی جاگیر لکھ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے الحضرمہ کی جاگیران کے نام کردی۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نجران کا علاقہ دے دیا۔ پھر وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ تو انہوں نے بھی جاگیر عطا کی۔ جب عمر بن عبد العزیز خلیفہ ہوئے، تو وہ وہی پرانا فرمان لے کر ان کے پاس گئے، انہوں ۔۔۔
مزید
وہ زید بن مربع، عبد اللہ و عبد الرحمٰن کے بھائی تھے، انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ان کا والد مربع قیظی منافق تھا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد جاتے ہوئے اس کے احاطے میں داخل ہوئے تھے تو اس نے حضور سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہوتے تو میری اجازت بغیر میرے احاطے میں داخل نہ ہوتے۔ ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
جعفر سے مروی ہے کہ ابن منیع نے اسے بتایا کہ اس سے اس حدیث کا ذکر علی بن قرین نامی ایک بڈھے نے جو بغداد کے مشرق میں رہتا تھا۔ کیا وہ حد درجہ ضعیف الحدیث تھا اور میری رائے میں اس حدیث کی قطعاً کوئی اصلیت نہیں ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
یحییٰ بن یونس اور بغوی کے علاوہ بھی اور لوگوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ مجھے یہ اطلّاع موصول ہوئی ہے کہ سلیمان بن داؤد الشاذ کونی نے ابو قتیبہ سے انہوں نے معلی بن یزید سے انہوں نے بکر بن مرثد بن ربیعہ سے روایت کی کہ مَیں نے مرثد بن ربیعہ کو یہ کہتے سُنا کہ مَیں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ آیا گھوڑے پر زکوٰۃ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں، ہاں اگر بہ غرض تجارت ہو۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بغوی وغیرہ نے ان کا ذکر صحابہ میں کیا ہے۔ ان سے ان کے بیٹے عبد الرحمٰن نے روایت کی کہ میرے والد نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آلۂ تناسل کو چھونے کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا۔ تمہارے جسم کا ایک حصّہ ہے۔ یہ صاحب بصری تھے اور ان کی حدیث کا مخرج ان کے اہلِ خاندان تھے۔ ابو نعیم، ابو موسیٰ اور ابو عمر نے اِن کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
عسکری نے ان کا نسب بیان کیا ہے۔ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور غزوۂ حنین میں آپ کے ساتھ شریک تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو بکر بن وائل کی طرف ایک خط لکھ کر دیا تھا۔ ہمیں عبد الوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد سے روایت کی کہ مُجھ سے میرے باپ نے ان سے یونس اور حسین نے بیان کیا کہ مجھ سے سفیان نے ان سے قتادہ نے ان سے مضارب بن حزن العجلی نے بیان کیا، کہ ان کو مرثد بن ظبیان نے بتایا کہ ہمارے پاس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موصول ہوا۔ ہمارے قبیلے میں کوئی پڑھنے والا نہ تھا۔ آخر بنو ضبیعہ کے ایک شخص نے پڑھا۔ مرقوم تھا: محمد رسول اللہ سے بکر بن وائل کے نام: اسلام لاؤ، اور محفوظ رہو، اور یہ لوگ بنوالکاتب کے نام سے مشہور تھے۔ ابن اسحاق نے یہ روایت قرہ بن خالد سے اس نے مضارب بن حزن سے بیان کی کہ مرثد بن ظبیان حضور اکرم کی خدمت میں ۔۔۔
مزید
جعفر کو ابنِ منیع نے بتایا، کہ ان سے بغداد کے ایک ضعیف الحدیث شیخ نے جس، کا نام علی بن قرین تھا حدیث بیان کی، جس کی کوئی اصل نہیں۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابن منیع نے ان کا ذکر کیا ہے اور جس طرح مرثد بن عامر کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے، اسی طرح ان کے متعلق بھی کیا ہے۔ ان سے مروی حدیث یہ ہے: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو عبد القیس اہلِ مشرق کے بہترین لوگوں سے ہیں۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید