بن زرارہ: یہ ابو امامہ اسعد بن زرارہ کے چھوٹے بھائی تھے۔ غزوۂ اُحد اور بعد کے غزوات میں شامل رہے۔ یہ عدوی کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن زید بن سبیع: ان کی کنیت ابو محمد تھی۔ یہ وہ صاحب ہیں جن کے بارے میں ہم پیشتر لکھ آئے ہیں کہ وہ وتر کے وجوب کے قائل تھےاور جن کے بارے میں عبادہ نے کہا تھا کہ ان کا یہ خیال غلط ہے۔ یہ ابو جعفر کا قول ہے۔ موسی بن عقبہ نے امام زہری سے بہ روایت شرکائے بدر ان کا نام مسعود بن زید لکھا ہے اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے، لیکن جیسا کہ ہم مسعود بن اوس بن اصرم کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں۔ وجوب وتر کے قائل مسعود بن اوس ہیں، نہ کہ مسعود بن زید۔ ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اس پر ابو موسیٰ نے استدراک کیا ہے، میرے خیال میں ابو موسیٰ بھی یہی کہنا چاہتے ہیں، لیکن ان سے اوس بن اصرم کا نام رہ گیا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے، اور نیز یہ کہ وہ شرکائے بدر سے تھے۔ واللہ اعلم۔ ۔۔۔
مزید
بن عاص: ان کا نسب ہم ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں عددی کا قول ہے کہ انھیں رسولِ کریم کی صحبت میسّر آئی۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو یہ جوان تھے واقدی لکھتا ہے کہ محمد بن عمرو بن عاص جنگ صفین میں موجود تھے انھوں نے لڑائی میں حصّہ لیا، لیکن ان کے بھائی عبد اللہ شریک نہ ہوئے یہی رائے زبیر کی ہے محمد بن عمرو بے اولاد مرے: زہری لکھتا ہے کہ جناب محمد نے میدان جنگ میں اپنی بہادری کے خوب خوب جوہر دکھائے اور ذیل کے اشعار کہے۔ (۱) اگر جنگِ جمل: صفین کے میدانِ جنگ میں کسی دن میرے مقام اور طریق جنگ کا مشاہدہ کرتی، ترو دہشت سے اس کے بال سفید ہوجاتے۔ (۲) جس دن اہلِ عراق ہم پر حملہ آور ہوئے۔ یوں معلوم ہوتا تھا گویا سمندر میں طوفان اٹھا ہے کہ جس کی موجیں اوپر نیچے تہ در تہ ہیں۔ (۳) اور ہم یوں ان کی طرف بڑھے، گویا ہمارے بہادروں کی صفیں کالی گھٹا۔۔۔
مزید
عمرہ دختر سعدی بن وقدان بن عبدشمس بن عبدودبن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوئی،یہ خاتون مالک بن ربعیہ بن قیس بن عبدود کی بیوی تھیں،جن کا تعلق بنوعامر بن لوئی سے تھا،انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی تھی،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عطارد: اِن کا ذکر صحابہ میں ہوا ہے، لیکن نہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ثابت ہے نہ زیارت یہ صاحب اپنے زمانے میں اہلِ کوفہ کے سردار تھے جن دنوں یہ آذر بائجان کے حاکم تھے تو ہزار گھوڑوں پر سوار، ہزار آدمیوں نے حملہ کیا، جن میں اہلِ کوفہ بھی تھے۔ حماد بن سلمہ نے ابو عمران جونی سے اس نے محمد بن عمیر بن عطارد سے روایت کی کہ حضور اکرم اپنے بعض اصحاب کی محفل میں تشریک فرما تھے کہ جبریل نازل ہوئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ میں انگلی چبھوئی اور جبریل ایک درخت کی طرف چل دیے جس میں پرندوں کے گھونسلے کی طرح دو نشست گاہیں تھیں، ایک میں جبریل علیہ السلام خود بیٹھ گئے اور دیے جس میں پرندوں کے گھونسلے کی طرح دو نشست گاہیں تھیں، ایک میں جبریل علیہ السلام خود بیٹھ گئے اور دوسرے میں حضور اکرم کو بٹھادیا۔ اس پر انھیں نور نے ڈھانپ لیا، چنانچہ جبریل علیہ السلام۔۔۔
مزید
زینب دختر سہل بن صعب بن قیس انصاریہ،خزرجیہ از بنو حیل،بقولِ ابن حبیب انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
انھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میّسر آئی۔ ان کا شمار شامیوں میں ہوتا ہے ان سے جبر بن نفیر نے روایت کی۔ ہمیں یحییٰ بن محمود نے باسنادہ جو ابن عاصم تک پہنچتا ہے کتابۃً بتایا، اسے دجیم نے اسے ولید بن مسلم نے ثور بن یزید سے، اس نے خالد بن معدان سے اس نے جبیر بن نفیر سے اُس نے محمد بن عمیرہ سے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ روایت کی آپ نے فرمایا اگر کوئی آدمی پیدا ہوتے ہی اللہ کی عبادت میں سجدہ ریز ہوجائے اور مرتے دم تک اسی حالت میں پڑا رہے، تو قیامت کے دن جب اسے اس کا اجر و ثواب ملے گا، تو اس عمر بھر کی عبادت کو کمتر خیال کرے گا اور اس کی خواہش ہوگی کہ کاش اسے عبادت کا اور موقعہ مِلتا۔ ابنِ ابی عاصم نے اس کو اسی طرح موقو فاًر روایت کیا ہے اور یحییٰ بن سعد نے خالد بن معدان سے روایت کی ہے اور کہا ہے، کہ عتبہ بن عبد نے رسول اللہ صلی اللہ ۔۔۔
مزید
بن انس: ایک روایت میں محمد بن انس بن فضالہ ہے اور ہم اس نام پر محمد بن انس کے تحت بحث کر چکے ہیں ابو نعیم نے اس کی اس طرح تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دختر عویم بن ساعدہ،جعفر کہتے ہیں،کہ امام بخاری نے ان کا ذکر کیا ہے،ابوموسیٰ نے بھی مختصراً ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
زینب دختر صیفی بن صخر بن خنسأ انصاریہ،یہ قول ابنِ حبیب انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید