بن سراقۃ الانصاری الخزرجی: کہتے ہیں کہ ان کا تعلق بنو حارث بن خزرج سے تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ بنو سالم بن عوف سے، ایک روایت یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق بنو عبد الاشہل سے تھا۔ اس بنا پر وہ اوسی ہوئے۔ ان کی کنیت ابو نعیم اور ایک روایت کے مطابق ابو محمد تھی۔ اور ان کا شمار اہل مدینہ میں ہوتا ہے اور انہوں نے اس ڈول سے، جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن پانی میں ملا کر اس پانی کو ان کے کنویں میں انڈیلا تھا، گھونٹ بھر پانی اپنے لیے علیحدہ کرلیا تھا۔ حالانکہ اس وقت ان کی عمر چار یا پانچ سال کی تھی۔ ان سے انس بن مالک، زہری اور رجاء بن حیات نے روایت کی ہے۔ انہوں نے ۹۹ یا ۹۶ ہجری میں وفات پائی۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ان کا تعلق انصار سے ہے اور مندرجہ ذیل حدیث، جو ان سے مروی ہے، کا مخرج اہلِ مصر اور اہلِ خراسان تھے: کَالِئُی المَرُأَۃِ والدَّیُنَ الَّذِیْ لَا یُؤدی: ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔
مزید
عبدان نے ان کا یہی نام لکھا ہے اور بیان کیا ہے کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ خدا [۱] وند تعالیٰ نے میری اُمت میں سے تین لاکھ کی مغفرت کا وعدہ کیا ہے۔ حضرت ابو بکر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ اس تعداد کو بڑھائیے۔ اس کے اسناد میں اختلاف ہے ۱۔ سعید بن بشیر نے قتادہ سے انہوں نے ابو بکر بن انس سے انہوں نے محمود بن عمیر سے ۲۔ معمر نے قتادہ سے انہوں نے انس سے یا نفر بن انس سے اور انہوں نے انس سے ۳۔ معاذ بن ہشام نے اپنے باپ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے ابوبکر بن عمیر سے، انہوں نے اپنے باپ سے ۴۔ ثابت نے ابویزید سے اور انہوں نے عمر یا عامر بن عمیر سے، انہوں نے ابوبکر بن عمیر سے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ [۱۔ حدیث مخدوش ہے۔ مترجم] ۔۔۔
مزید
بن سعد الانصاری: ان سے حدیث ابو بکر بن انس نے روایت کی۔ سعید بن بشیر نے قتادہ سے، انہوں نے ابوبکر بن انس سے انہوں نے محمود بن عمیر سے روایت کی کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میرے خاندان سے تین لاکھ کو جنت عطا کرے گا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ اس تعداد کو بڑھا دیجیے آپ نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا، اتنے؟ (یعنی پانچ لاکھ) حضرت ابو بکر نے پھر درخواست کی، یا رسول اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھادیے۔ فرمایا، کیا اتنے؟؟ حضرت ابوبکر نے پھر عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زرا اضافہ فرما دیجیے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بول پڑے۔ کہنے لگے۔ ابو بکر بس بھی کرو، یہی کافی ہے۔ اگر اللہ چاہے تو کسی ایک فعل کے بدلے میں جتنی تعداد کو چاہے جنت میں داخل کردے گا۔ حضور اکرم ۔۔۔
مزید
بن رافع بن امروُالقیس بن زید بن عبد الاشہل الانصاری اوسی اشہلی: یہ حضور اکرم کے عہد میں پیدا ہوئے مدینے میں سکونت اختیار کی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں۔ ان میں وہ حدیث بھی ہے جو عمارہ بن غزیہ نےعاصم بن عمر سے اُنہوں نے محمود بن لبید سے روایت کی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی دنیا میں حفاظت کرنا چاہتا ہے تو اس کی اس طرح حفاظت فرماتا ہے۔ جس طرح تم اپنے مریض کی حفاظت کرتے ہو۔ امام احمد بن حنبل، ابن ابی خیثمہ: ابراہیم بن منذر، یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر سے مروی ہے کہ یہ صاحب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے اور امام بخاری نے ان کا ذکر محمود بن ربیع کے بعد کیا ہے اور ابنِ ابی حاتم کا قول ہے کہ انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میّسر آئی۔ ابن ابی حاتم لکھتے ہیں کہ میرے والد ان ک۔۔۔
مزید
ہم نے ان کا نسب ان کے بھائی محمد کے ترجمے میں بیان کردیا ہے۔ جناب محمود غزوۂ احد، خندق اور خیبر میں موجود تھے۔ اور اسی غزوے میں ان کی شہادت ہوئی۔ خیبر کے قلعہ جات میں سے ’’ناعم‘‘ سب سے پہلے فتح ہوا اور اسی قلعے کے پاس جناب محمود شہید ہُوئے۔ ان کے سر پر چکّی کا پتھر لڑھکایا گیا تھا۔ جس سے وہ مر گئے تھے۔ ہمیں یونس بن بکیر نے حسین بن واقد المروزی سے، انہوں نے عبد اللہ بن بریدہ سے روایت کی کہ خیبر کے دن سب سے پہلے عَلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیا گیا، لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ محمود بن سلمہ قتل ہوگئے تھے کہتے ہیں کہ جب ان پر چکّی کا پتھر لڑھکایا گیا۔ تو ماتھےکی کھال اُدھڑ کر نیچے آگئی چنانچہ وہ اسی حالت میں تین دن کے بعد فوت ہوگئے۔ یہ ہجری کا چھٹا سال تھا۔ انہیں اور عامر بن ربیع کو بروایت ابو نعیم ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ تینوں نے ان کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
یہ انصاری ہیں۔ اس کی تخریج ابو موسیٰ نے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جعفر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ صفوان بن سلیم نے محمول الانصاری سے روایت کی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے شرک کی قسم کھائی اور پھر گناہ کا ارتکاب کیا۔ گویا اس نے شرک کیا۔ اسی طرح جس نے کفر کی قسم کھائی اورپھر مرتکب گناہ ہوا۔ گویا اس نے کفر کیا ۔۔۔
مزید
بن عبد یغوث بن حویج بن عمر و بن زبید الاصغر الزبیدی: کلبی لکھتے ہیں کہ وہ بنو جمح کے حلیف تھے۔ ایک روایت ہے کہ بنو سہم کے حلیف تھے۔ ابو نعیم لکھتے ہیں کہ جناب محمیہ، عبد اللہ بن حارث بن جزء الزبیدی کے چچا تھے قدیم الاسلام ہیں اور جن لوگوں نے حبشہ میں ہجرت کی تھی۔ ان میں شامل تھے اور عرصے تک وہاں مقیم رہے اور مریسیع پہلی جنگ ہے، جس میں وہ شریک ہوئے تھے۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں خمس کا عامل مقرر فرمایا تھا۔ عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب سے مروی ہے کہ ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبد المطلب جمع ہوئے۔ میں اپنے باپ کے ساتھ اور فضل اپنے باپ کے ساتھ تھے۔ اول الذکر میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیوں نہ ہم ان دو کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کریں تاکہ آپ اِن دونوں کو صدقات کی وصولی کرنے پر متعین فرمادیں۔ حضور اکرم صلی اللہ عل۔۔۔
مزید
بن کعب بن عامر بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمر بن مالک بن ادس الانصاری، الاوسی، حارثی: ان کی کنیت ابو سعد تھی۔ مدنی تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فدک کے پاس اشاعتِ اسلام کے لیے روانہ کیا۔ غزوہ اُحد، خندق اور بعد کے غزوات میں شامل رہے۔ وہ حویصہ بن مسعود کے بھائی تھے، اور بھائی سے عمر میں چھوٹے تھے اور اپنے بھائی حویصہ سے پہلے ایمان لائے تھے۔ کیونکہ وہ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوئے تھے۔ اور حویصہ نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن سبینہ یہودی کے قتل کا حکم دیا، تو جناب محیصہ نے اس بدگو یہودی پر حملہ کر کے اسے قتل کردیا۔ حالانکہ ان کا آپس میں میل ملاپ تھا اور باہمی قول قرار تھا۔ حویصہ ابھی تک مشرف با لاسلام نہیں ہوئے تھے۔ چنانچہ حویصہ کو بھائی کے اس فعل کا حد درجہ رنج ہوا اور بھائی کو پیٹا اور کہا، اے دُ۔۔۔
مزید
وہ مغیرہ بن زیاد بن مخارق الموصلی کے دادا تھے۔ ہمیں ابی منصور بن مکارم بن احمد الموصل المودب نے باسنادہ ابو زکریا زید بن ایاس سے روایت کی کہ ہمیں مغیرہ بن خضر بن زیاد بن مغیرہ بن زیاد البجلی نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے بزرگوں سے بتایا کہ مخارق بن عبد اللہ، جریر بن عبد اللہ البجلی کے ساتھ فتح ذی الخلصہ میں موجود تھے ابو زکریا کہتے ہیں کہ مغیرہ بن خضر بن زیاد نے اپنے بزرگوں سے روایت کی ہے کہ یہ لوگ ان لوگوں کی معیت میں جو بجیلہ سے آئے تھے۔ کوفہ سے موصل آئے تھے۔ ۔۔۔
مزید