ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )ام الربیع( رضی اللہ عنہا)

ام الربیع،یعیش بن صدقہ بن علی نے باسنادہ ابو عبدالرحمٰن بن شعیب سے،انہوں نے احمد بن سلیمان سے،انہوں نے عفان سے،انہوں نے حماد بن سلمہ سے،انہوں نے ثابت سے ،انہوں نے انس سے روایت کی ،کہ ام الربیع نے کسی آدمی کو زخمی کردیا،مقدمہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا،حضورِ اکرم نے قصاص کا حکم دیا،ام الربیع نے کہا،یا رسول اللہ!کیا آپ مستغاث علیہا سے قصاص لیں گے،فرمایا،اے ام ربیع!یہ کتاب اللہ کا حکم ہے،ام ربیع نے پھر کہا،یا رسول اللہ،خدا کے لئے قصاص نہ لیجئے،ام ربیع کا اصرار جاری رہا تا آنکہ دوسری پارٹی دیت قبول کرنے پر رضامند ہو گئی،اس پر آپ نے فرمایا،بعض اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں جب وہ اللہ کے نام کی قسم کھالیں،تو خداوند تعالیٰ ان کی برأت کا انتظام فرمادیتا ہے،اس روایت میں اسی طرح مذکور ہے،اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ام ربیع نے قسم کھائی تھی،کہ وہ قصاص نہ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلمیٰ(رضی اللہ عنہا)

سلمیٰ غیر منسوبہ،ان سے ان کے پوتے عبداللہ بن علی نے روایت کی ،اسحاق بن ابراہیم حبیبی نے، فائدبن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے عبداللہ بن علی سے جو ان کا مولیٰ تھا،انہوں نے اپنی دادی سلمیٰ سے،روایت کی کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے،اور ہم نے آپ کے لئے خز تیار کیا ،یہ ابن مندہ کا قول ہے،ابو نعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے اس خاتون کا ذکر کیا ہے، لیکن میرے نزدیک یہ وہی خاتون ہیں جن کا ذکر ہم ابورافع کی بیوی کی حیثیت سے کر آئے ہیں، اور ابو عمرنے فضل بن سلیمان سے ،انہوں نے فائدمولیٰ عبیداللہ سے ،انہوں نے عبیداللہ بن علی بن رافع سے،انہوں نے اپنی دادی سے روایت کی کہ میں نے حضورِاکرم کے لئے خزیرہ تیار کرکے پیش کیا،اور آپ نے تناول فرمایا،آپ کے ساتھ کچھ صحابی بھی تھے،تھوڑاسا بچ گیا،اتنے میں وہاں سے ایک بدو کا گزر ہوا،اس نے بچا ہوا حلوہ ہاتھ میں اٹھا لیا،حضو۔۔۔

مزید

سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا

سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (ام عمار بن یاسر) دختر خباط۔ یہ خاتون ابو حذیفہ مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لونڈی تھیں۔ اور یاسرابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حلیف تھے ۔اس لئے ابوحذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےبیاہ دیا۔جب عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے۔ توابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں آزاد کردیا۔ عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سابقین فی الاسلام میں سےتھے۔ اور ایک روایت کےمطابق ا   ن کا ساتواں نمبر تھا۔ اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں اسلام کے لئے سخت تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں۔           ابو جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باسنادہ یونس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں ابن اسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انہیں خاندان عماررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کئی آدمیوں نے بتایا کہ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بن۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام السائب( رضی اللہ عنہا)

ام السائب نخعیہ،انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی ،ابوعمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سمرا(رضی اللہ عنہا)

سمرا(ایک روایت میں سمیراہے)دختر قیس انصاریہ،ابو امامہ بن سہل بن حنیف کی حدیث میں ان کا ذکرکیا ہے،تینوں نےان کا ذکر کیا ہے،مگر ابوعمر نےان کانام سمیرا لکھا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام السائب( رضی اللہ عنہا)

ام السائب یا ام المسیب انصاریہ،ابوالفضل بن ابوالحسن مخزومی نے باسنادابویعلی سے،انہوں نے قواریری سے،انہوں نے یزیدبن زریع سے،انہوں نے حجاج الصواف سے،انہوں نے ابوالزبیر سے، انہوں نے جابر سےروایت کی کہ رسولِ اکرم ام ا السائب کے گھر تشریف لے گئے اور وہ کانپ رہی تھیں،آپ نے وجہ دریافت کی،تو انہوں نے جواب دیا،یا رسول اللہ!بخار کا بھلا نہ ہو کانپ رہی ہوں،فرمایا ام السائب بخار کو بُرابھلا مت کہو،یہ بنی آدم کی خطاؤں کو یوں زائل کردیتا ہے،جس طرح لوہار کی بھٹی لوہے کے زنگ کو،تینوں نے انکاذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)صمیتہ اللیثہ(رضی اللہ عنہا)

صمیتہ اللیثہ از بنو لبث بن بکر بن عبد مناہ بن کنانہ،یحییٰ نے اجازۃً باسنادہ تا ابنِ ابی عاصم ،حسن بن علی سے،انہوں نے عبداللہ بن صالح سے ،انہوں نے لیث سے،انہوں نے عقیل سے،انہوں نے زہری سے،انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے،انہوں نے صمیتہ سے(اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں ایک یتیم لڑکی تھی)روایت کی کہ انہوں نے رسولِ کریم کو فرماتے سُنا کہ جو آدمی مدینے میں مرنا چاہے،اگر ہوسکے تو اسے اس موقعہ سے فائدہ اٹھانا چاہیئے،کیونکہ میں اس کا شفیع اور گواہ ہوں گا۔ صالح بن ابوالاخضر نے زہر ی سے روایت کی اور کہا،کہ اس وقت حضرت عائشہ کی گود میں ایک یتیم لڑکی تھی،اور یونس نے زہر ی سے ،انہوں نے عبیداللہ سے،انہوں نے صفیہ دختر ابو عبیدسے انہوں نے صمیتہ سے روایت کی،نیز ابن ابو ذنب نے زہری سے ،انہوں نے عبیداللہ سے،انہوں نے صفیہ دختر ابو عبید سے،انہوں نے رسولِ کریم صل۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سَناء(رضی اللہ عنہا)

سناء دختر اسماء بن صلت سلمیہ،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے نکاح ہوا تھا،لیکن و ہ رخصتی سے پہلےہی فوت ہوگئیں ،ان کاذکر ابوعبیدہ معمر بن مثنی نے حفص بن نضر اور عبدالقاہر بن سدی سلمیٰ سے کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ خاتون عبداللہ بن حازم بن اسماء بن صلت سلمی امیر خراسان کی پھوپھی تھیں۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام سبرہ( رضی اللہ عنہا)

ام سبرہ،ان کی حدیث کے اسناد میں کچھ شبہ ہے،محمد بن اسحاق ثقفی نے قتیبہ سے،انہوں نے رشیدین سے،انہوں نے ابوبکر انصاری سے،انہوں نے سبرہ سے ،انہوں نے والدہ سے روایت کی، حضورِ اکرم نے فرمایاجو شخص انصارس ے محبت نہیں کرتا،اس کا خدا اور مجھ پر ایمان اکارت جائیگا، ابوموسیٰ نے انکا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عمرہ اشہلیہ(رضی اللہ عنہا)

عمرہ اشہلیہ،ان کا نسب معلو م نہیں،ان سے مروی ہے کہ حضورِاکرم ان کے محلے میں تشریف لے گئے اور وہاں ظہر اورعصرکی نمازیں ادا فرمائیں،جب سورج غروب ہوا،اور مؤذن نے اذان کہی تو افطار کے لئے بکری کا کندھا اور بازو بھون کر لائے گئے،آپ نے دانتوں سے کاٹ کر کھاناشروع کیا، بعدہٗ مؤذن نے اقامت کہی،آپ نے کپڑے کے ٹکڑے سے ہاتھ پونچھے،اٹھے اور نماز پڑھی اور پانی کو ہاتھ بھی نہ لگایا،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید