سلمیٰ غیر منسوبہ،ان سے ان کے پوتے عبداللہ بن علی نے روایت کی ،اسحاق بن ابراہیم حبیبی نے، فائدبن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے عبداللہ بن علی سے جو ان کا مولیٰ تھا،انہوں نے اپنی دادی سلمیٰ سے،روایت کی کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے،اور ہم نے آپ کے لئے خز تیار کیا ،یہ ابن مندہ کا قول ہے،ابو نعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے اس خاتون کا ذکر کیا ہے، لیکن میرے نزدیک یہ وہی خاتون ہیں جن کا ذکر ہم ابورافع کی بیوی کی حیثیت سے کر آئے ہیں، اور ابو عمرنے فضل بن سلیمان سے ،انہوں نے فائدمولیٰ عبیداللہ سے ،انہوں نے عبیداللہ بن علی بن رافع سے،انہوں نے اپنی دادی سے روایت کی کہ میں نے حضورِاکرم کے لئے خزیرہ تیار کرکے پیش کیا،اور آپ نے تناول فرمایا،آپ کے ساتھ کچھ صحابی بھی تھے،تھوڑاسا بچ گیا،اتنے میں وہاں سے ایک بدو کا گزر ہوا،اس نے بچا ہوا حلوہ ہاتھ میں اٹھا لیا،حضو۔۔۔
مزید
سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (ام عمار بن یاسر) دختر خباط۔ یہ خاتون ابو حذیفہ مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لونڈی تھیں۔ اور یاسرابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حلیف تھے ۔اس لئے ابوحذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےبیاہ دیا۔جب عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے۔ توابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں آزاد کردیا۔ عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سابقین فی الاسلام میں سےتھے۔ اور ایک روایت کےمطابق ا ن کا ساتواں نمبر تھا۔ اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں اسلام کے لئے سخت تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں۔ ابو جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باسنادہ یونس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں ابن اسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انہیں خاندان عماررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کئی آدمیوں نے بتایا کہ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بن۔۔۔
مزید
ام السائب نخعیہ،انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی ،ابوعمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سمرا(ایک روایت میں سمیراہے)دختر قیس انصاریہ،ابو امامہ بن سہل بن حنیف کی حدیث میں ان کا ذکرکیا ہے،تینوں نےان کا ذکر کیا ہے،مگر ابوعمر نےان کانام سمیرا لکھا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام السائب یا ام المسیب انصاریہ،ابوالفضل بن ابوالحسن مخزومی نے باسنادابویعلی سے،انہوں نے قواریری سے،انہوں نے یزیدبن زریع سے،انہوں نے حجاج الصواف سے،انہوں نے ابوالزبیر سے، انہوں نے جابر سےروایت کی کہ رسولِ اکرم ام ا السائب کے گھر تشریف لے گئے اور وہ کانپ رہی تھیں،آپ نے وجہ دریافت کی،تو انہوں نے جواب دیا،یا رسول اللہ!بخار کا بھلا نہ ہو کانپ رہی ہوں،فرمایا ام السائب بخار کو بُرابھلا مت کہو،یہ بنی آدم کی خطاؤں کو یوں زائل کردیتا ہے،جس طرح لوہار کی بھٹی لوہے کے زنگ کو،تینوں نے انکاذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
صمیتہ اللیثہ از بنو لبث بن بکر بن عبد مناہ بن کنانہ،یحییٰ نے اجازۃً باسنادہ تا ابنِ ابی عاصم ،حسن بن علی سے،انہوں نے عبداللہ بن صالح سے ،انہوں نے لیث سے،انہوں نے عقیل سے،انہوں نے زہری سے،انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے،انہوں نے صمیتہ سے(اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں ایک یتیم لڑکی تھی)روایت کی کہ انہوں نے رسولِ کریم کو فرماتے سُنا کہ جو آدمی مدینے میں مرنا چاہے،اگر ہوسکے تو اسے اس موقعہ سے فائدہ اٹھانا چاہیئے،کیونکہ میں اس کا شفیع اور گواہ ہوں گا۔ صالح بن ابوالاخضر نے زہر ی سے روایت کی اور کہا،کہ اس وقت حضرت عائشہ کی گود میں ایک یتیم لڑکی تھی،اور یونس نے زہر ی سے ،انہوں نے عبیداللہ سے،انہوں نے صفیہ دختر ابو عبیدسے انہوں نے صمیتہ سے روایت کی،نیز ابن ابو ذنب نے زہری سے ،انہوں نے عبیداللہ سے،انہوں نے صفیہ دختر ابو عبید سے،انہوں نے رسولِ کریم صل۔۔۔
مزید
سناء دختر اسماء بن صلت سلمیہ،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے نکاح ہوا تھا،لیکن و ہ رخصتی سے پہلےہی فوت ہوگئیں ،ان کاذکر ابوعبیدہ معمر بن مثنی نے حفص بن نضر اور عبدالقاہر بن سدی سلمیٰ سے کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ خاتون عبداللہ بن حازم بن اسماء بن صلت سلمی امیر خراسان کی پھوپھی تھیں۔ ۔۔۔
مزید
ام سبرہ،ان کی حدیث کے اسناد میں کچھ شبہ ہے،محمد بن اسحاق ثقفی نے قتیبہ سے،انہوں نے رشیدین سے،انہوں نے ابوبکر انصاری سے،انہوں نے سبرہ سے ،انہوں نے والدہ سے روایت کی، حضورِ اکرم نے فرمایاجو شخص انصارس ے محبت نہیں کرتا،اس کا خدا اور مجھ پر ایمان اکارت جائیگا، ابوموسیٰ نے انکا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ اشہلیہ،ان کا نسب معلو م نہیں،ان سے مروی ہے کہ حضورِاکرم ان کے محلے میں تشریف لے گئے اور وہاں ظہر اورعصرکی نمازیں ادا فرمائیں،جب سورج غروب ہوا،اور مؤذن نے اذان کہی تو افطار کے لئے بکری کا کندھا اور بازو بھون کر لائے گئے،آپ نے دانتوں سے کاٹ کر کھاناشروع کیا، بعدہٗ مؤذن نے اقامت کہی،آپ نے کپڑے کے ٹکڑے سے ہاتھ پونچھے،اٹھے اور نماز پڑھی اور پانی کو ہاتھ بھی نہ لگایا،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سوداء دختر عاصم بن خالد بن ضرار بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوئی القرشیہ عدویہ بقولِ ابن مندہ اور ابو نعیم ان سے ام عاصم نے روایت کی،ابوعمر نے انہیں بنواسد سے منسوب کیا ہے،بعض نے انہیں سوداء دختر عاصم لکھا ہے،اور خضاب کے بارے میں ان سے حدیث روایت کی ہے۔ یحییٰ بن محمود نے اجازۃً باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے ابوبکر سے،انہوں نے ابواسحاق اودی سے،انہوں نے نائلہ سے(جو ابوالعیزارکوفی کی آزاد کردہ کنیز تھی) انہوں نے ام عاصم سے،انہوں نے سوداء سے روایت کی،کہ وہ حضورِاکرم سے بیعت کے لئے حاضر ہوئیں،فرمایا ،جاؤ،پہلے خضاب لگاؤ اور پھر بیعت کے لئے حاضر ہو،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید