بدھ , 09 محرّم 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 24 June,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )ام سارہ( رضی اللہ عنہا)

ام سارہ اوربروایتےسارہ جو قریش کی ایک آزاد کنیز تھیں،ان کا ذکر انس کی حدیث میں آتاہے، قتادہ نے انس سے روایت کی کہ ام سارہ قریش کی ایک آزاد کردہ کنیز تھیں،وہ حضور کی خدمت میں کسی ضرورت کے لئے آئیں،پھر آپ نے ام سارہ کو ایک رقعہ دے کر ایک آدمی کے ساتھ مکے روانہ کیا،تاکہ اس کے اہل وعیال کی حفاظت کی جائے اس پر یہ آیت اتری، یَااَیُّھَاالَّذِینَ اٰمَنُولَاتَتَّخِذُواعَدُوِّی وَعَدُوَّکُم اَولِیَاءَ ،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ابو نعیم لکھتے ہیں کہ میں کسی آدمی کو نہیں جانتا،جس نے ام سارہ کو صحابیات میں شمار کیا ہو،یا سوائے ابن فحدس اس کے اسلام کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں،کہ اس قصّے کا تعلق حاطب بن ابی بلتعہ کے ساتھ ہے،جنہوں نے اہل مکہ کو بذریعہ خط حضورِ اکرم کے مکے پر حملے کے بارے میں اطلاع دی تھی،اور پھر رسولِ اکرم نے حضرت علی اور زبیر کو اس عو۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سہلہ(رضی اللہ عنہا)

سہلہ دخترسہل بن عمرو قرشیہ از بنوعامر بن لوئی،ہم ان کا نسب ان کے والد کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں،یہ خاتون ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کی زوجہ تھیں،اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی ،اور وہاں ان کے بطن سے محمد پیدا ہوئے۔ عبیداللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابن اسحاق سے،بہ سلسلۂ مہاجرین حبشہ،ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس کا نام لیا ہے،نیزیہ بھی لکھاہے،کہ ان کی زوجہ سہلہ دختر سہیل بن عمرو جو بنو عامر بن لوی کا بھائی تھا،بھی ہمراہ تھیں،وہاں محمد بن ابو حذیفہ پیداہوئے،یہ لا ولد رہے،نیز بقول ابو عمرو زبیر،سہلی دختر سہیل ہی ام سلیط بن عبداللہ اسود قرشی،ام بکیر،بن شماخ بن سعید بن قائف اور ام سالم بن عبدالرحمٰن بن عوف ہیں،ابو احمد نے باسنادہ ابو داؤد سلیمان بن اشعث سے انہوں نے عبدالعزیز بن یحییٰ سے،انہوں نے محمد بن سلمہ سے،انہوں نے محمد بن اسحاق سے،انہوں ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام صبیح( رضی اللہ عنہا)

ام صبیح،ان کی حدیث کے راوی ان کے بیٹے صبیح بن سعید نجاشی ہیں،ان کا بیان ہے کہ ان کا نام عنبہ تھا،کہ آپ نے بدل کر عنقودہ بنایا،ابن ماکولا نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن الخشخاش العنبری (عبید اور قیس کے بھائی) حصین بن ابوالحر سے روایت ہے کہ جناب مالک اور ان کے دو چچا قیس اور عبید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے بنو عم میں سے ایک آدمی کے خلاف شکایت کی: آپ نے انھیں فرمان امن لکھ دیا ہم یہ واقعہ عبید بن الخشخاش کے تذکرےمیں بیان کر آئے ہیں۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سہلہ(رضی اللہ عنہا)

سہلہ دخترسہل،طبرانی نے ذکر کیا ہے،ابو موسیٰ نے کتابتہً ابو غالب سے ،انہوں نے ابوبکر محمد بن عبداللہ سے(ح) ابو موسیٰ نے حسن سے،انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے سلیمان بن احمد سے،انہوں نے عبدالملک بن یحییٰ سے،انہوں نے والد سے،انہوں ابو ہیعہ سے،انہوں نے عبداللہ بن ہبیرہ سے،انہوں نے سہلہ دختر سہل سے روایت کی،کہ میں نے حضورِاکرم سے دریافت کیا، یارسول اللہ،کیا احتلام سے عورت پر بھی غسل واجب ہوجاتا ہے،فرمایا،ہاں اگراخراج منی ہو جعفر مستغفری نے اسے سہیل بن سہیل کے ترجمہ میں بیان کیا ہے،البتہ انہوں نے ذیل کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے،"یا رسول اللہ بَرَحَ الخَفَا"،یعنی جب پوشیدہ چیز ظاہر ہوجائے،ابو نعیم اور ابو موسیٰ لکھتے ہیں،ابو موسیٰ لکھتے ہیں،احتمال ہے کہ یہ خاتون سہیل کی بیٹی ہوں،ابن اثیر لکھتے ہیں عجب نہیں کہ سہلہ،سہیل بن سعد کی ہمشیرہ ہو،کیونکہ راوی نے دونوں تراجم میں"ابن لہ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام شریک( رضی اللہ عنہا)

ام صابر دختر نعیم بن مسعود اشجعی،انہوں نے حضورِ اکرم کا زمانہ پایا،اس خاتون نے اپنے والد سے روایت کی،ان سے ابراہیم بن صابر نے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ام صابر کے والد سے روایت کی کہ حضورِ اکرم نے فرمایا،کہ لڑائی ایک طرح کا دھوکا ہے،ابن مندہ اور ابو نعیم نےان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )سبیعہ( رضی اللہ عنہا)

سبیعہ دختر ابو لہب،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے،ابو نعیم کے مطابق صحیح درہ دختر ابولہب ہے۔ یزید بن عبدالملک توفلی نے سعید بن ابوسعید المقبری سے،انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی کہ سبیعہ دختر ابولہب نے حضورِاکرم کی خدمت میں حاضر ہو کر گزارش کی،یا رسول اللہ مجھے لوگ دیکھ کر آوازے کستے ہیں کہ میں اس شخص کی بیٹی ہوں،جو جہنم کا ایندھن بنا ہے،حضورکو سخت غصّہ آیا، اُٹھے اور مسجد میں آکر فرمایا،کیا حال ہوگا،اُن لوگوں کا جو مجھے میرے نسب اور قرابت داروں کے بارے میں رنج پہنچاتے ہیں،جس نے ایسا کیا اس نے مجھے دُکھ پہنچایا،اور جس نے ایسا کیا اس نے اللہ کو دُکھ پہنچایا۔ محمد بن اسحاق وغیرہ نے سعید سے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی کہ درہ دختر ابو لہب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام سہلہ( رضی اللہ عنہا)

ام سہلہ،عاصم بن عدی کی زوجہ تھیں،اور بقولِ واقدی انہوں نے خیبر کے مقام پر سہلہ کو جنم دیا،ابن الدباغ نے بھی ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن خلف بن عمرو بن وارم بن اسلم بن افصی (نعمان کے بھائی) دونوں بھائی اسلامی لشکر میں غزوۂ احد میں طلایہ کی خدمت پر متعین تھے، دونوں اس غزوہ میں شہید ہوگئے اور ایک ہی قبر میں مدفون ہوئے۔ ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے ۔ سلسلۂ نسب اسی طرح ہے لیکن ابوموسیٰ نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ جن کا ذکر ابن حبیب اور ابن کلبی نے کیا ہے، وہ دونوں خلف بن عوف بن دارم بن عمرو بن وائلہ بن سہم بن مازن بن الحارث بن سلا ماں بن اسلم بن حارثہ کے بیٹے تھے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام سیف( رضی اللہ عنہا)

۱م سیف،یہ خاتون حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی رضاعی والدہ تھیں،ان کا ذکر انس کی حدیث میں آیا ہے۔ عاصم بن علی نے سلیمان بن مغیرہ سے انہوں نے ثابت سے،انہوں نے انس سے روایت کی،آج رات کو میرے گھر بچہ پیداہوا،جس کا نام اپنے جدّ امجد کے نام پرابراھیم رکھا،اورپھر میں نے اسے ام سیف کی تحویل میں دے دیا،جو ابوسیف لوہار کی زوجہ تھیں،حضورِاکرم اپنے صاحبزادے کو اُٹھا کو ابوسیف کے گھر کو روانہ ہوئے،میں حضور کے آگے نکل گیا،اور جلد ی جلدی چل کر ابوسیف کے گھر جاپہنچا،اور وہ اپنی بھٹی کو گرم کررہے تھے،ان کا ذکر آچکاہے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید