اتوار , 23 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 10 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )ام جندب( رضی اللہ عنہا)

ام جندب،یہ خاتون سلیمان بن عمروکی والدہ تھیں انکی حدیث کے راوی ان کے بیٹے سلیمان بن عمرو تھے،انہوں نے اپنی والدہ سے روایت کی،کہ انہوں نے جمبرہ کی صبح کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے سُنا،"اے لوگو!تم ایک دوسرے کو زور زور سے کنکریاں پھینک کر زخمی نہ کرو"۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن اوس بن عتیک بن عمرو بن عبدالاعلم بن عامر بن زعوراء بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس الانصاری الاوسی۔ زعوراء عبدالاشہل کا بھائی تھا اور یہ دونوں مدینے کے پاس ایک ٹیلے پر رہتے تھے۔ جناب مالک غزوۂ احد، خندق اور بعد کے غزوات میں شریک رہے تھے۔ بعد میں دونوں بھائی جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور شہادت پائی۔ ابوعمر نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام جندب( رضی اللہ عنہا)

ام جندب،یہ ابو ذر غفاری کی والدہ تھیں،جن کا ذکر ہم ابو ذر کے اسلام میں کر آئے ہیں،عبداللہ بن ابی نصر خطیب نے باسنادہ تا ابوداؤد طیالسی،سلیمان بن مغیرہ سے،انہوں نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے،انہوں نے ابو ذر سے روایت کی کہ جب میں نے اسلام قبول کیا ، تو میں اپنے بھائی اور والدہ کے پاس آیا،انہوں نے کہا،کہ ہمیں تمہارے دین میں کو ئی دلچسپی نہیں، ابنو مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ کبشہ( رضی اللہ عنہا)

ام کبشہ قضاعیہ عذریہ،یحییٰ بن محمود نے باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے ابوبکر بن ابی شیبہ سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے حسن بن صالح سے،انہوں نے اسود بن قیس سے، انہوں نےسعید بن عمرو قرشی سے روایت کی کہ ام کبشہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلامی لشکر کے ساتھ جانے کی اجازت طلب کی،مگر آپ نے انکار کردیا،انہوں نے گزارش کی،یارسول اللہ! میرا مقصد دشمن سے جنگ کرنا نہیں،بلکہ میری خواہش یہ ہے کہ زخمیوں کی مرہم پٹی، مریضوں کی تیمارداری کروں گی،اور پیاسوں کو پانی پلاؤں گی،فرمایا،اگراس سال قحط نہ ہوتا،اور میں جہاد کے لئے روانہ ہوتا،تو تجھے اجازت دے دیتا،ابھی آرام کرو،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن ایاس الانصاری الخزرجی: یہ صحابی غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے۔ ابن اسحاق نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ ہاں البتہ ابوعمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ کثیر( رضی اللہ عنہا)

ام کثیر دختر یزید انصاریہ،ابوموسیٰ نے اذناً ابوعلی سے،انہوں نے احمد بن عبداللہ سے،انہوں نے ابواحمد غطریعی سے،انہوں نےمحمد بن ابراہیم بن شعیب غازی سے،انہوں نے احمد بن سہیل الوراق سے،انہوں نے اسحاق بن عیسیٰ سے،انہوں نے ابوالصباح(ایک نسخے میں احمد بن صباح ہے)انہوں نے ام کثیر سے روایت کی،کہ میں اپنی ہمشیرہ کے ساتھ حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئی،اور گزارش کی،یارسول اللہ ! میری بہن آپ سے کچھ پوچھنا چاہتی ہے،مگر حیامانع ہے، آپ نے فرمایا،تم دریافت کرلو،علم کا حاصل کرنا فرض ہے،میں نے گزارش کی،یامیری بہن نے کہا، میرا ایک لڑکا ہے،جو حمام میں کھیلتا ہے،فرمایا، یہ منافقین کا کھیل ہے،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام خالد( رضی اللہ عنہا)

ام خالد دختر اسود بن عبدیغوث قرشیہ زہریر یحییٰ نے اذناً باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے محمد بن مصفی سے،انہوں نے معاویہ بن حفص سے،انہوں نے ابنِ مبارک سے،انہوں نے معمر سے، انہوں نے زہری سے ،انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے،انہوں نے ام خالد سے روایت کی کہ وہ حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،حاضرین سے دریافت کیا،کون ہے،انہوں نے گزارش کی، ام خالد،فرمایا،" اَلحَمدُلِلہِ الَّذِی یُخرِجُ الحَیَّ مِنَ المَیِّتِ "۔ ایک روایت میں ان کا نام خالدہ آیاہے،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن بحینہ: ان کی حدیث حماد بن سلمہ نے، سعید بن ابراہیم سے، انھوں نے حفص بن عاصم سے انھوں نے مالک بن بحینہ سے یوں بیان کی، کہ (ایک دن) صبح کی نماز ادا کی جاچکی تھی، کہ ایک شخص نے اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کے پاس گئے تو باقی لوگ بھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں اسی طرح ادا کیا کرتے ہو؟ شعبہ، ابوعوانہ وغیرہ نے یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے اور یونس بن محمد المعروف نے ابراہیم بن سعد سے اس نے اپنے باپ سے، اس نے حفص بن عاصم سے اور اس نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے اور اس نے اپ نے باپ سے روایت کی، لیکن مشہور یہ ہے کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور یہی روایت درست ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن بحینہ: ان کی حدیث حماد بن سلمہ نے، سعید بن ابراہیم سے، انھوں نے حفص بن عاصم سے انھوں نے مالک بن بحینہ سے یوں بیان کی، کہ (ایک دن) صبح کی نماز ادا کی جاچکی تھی، کہ ایک شخص نے اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کے پاس گئے تو باقی لوگ بھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں اسی طرح ادا کیا کرتے ہو؟ شعبہ، ابوعوانہ وغیرہ نے یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے اور یونس بن محمد المعروف نے ابراہیم بن سعد سے اس نے اپنے باپ سے، اس نے حفص بن عاصم سے اور اس نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے اور اس نے اپ نے باپ سے روایت کی، لیکن مشہور یہ ہے کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور یہی روایت درست ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن بحینہ: ان کی حدیث حماد بن سلمہ نے، سعید بن ابراہیم سے، انھوں نے حفص بن عاصم سے انھوں نے مالک بن بحینہ سے یوں بیان کی، کہ (ایک دن) صبح کی نماز ادا کی جاچکی تھی، کہ ایک شخص نے اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کے پاس گئے تو باقی لوگ بھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں اسی طرح ادا کیا کرتے ہو؟ شعبہ، ابوعوانہ وغیرہ نے یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے اور یونس بن محمد المعروف نے ابراہیم بن سعد سے اس نے اپنے باپ سے، اس نے حفص بن عاصم سے اور اس نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے اور اس نے اپ نے باپ سے روایت کی، لیکن مشہور یہ ہے کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور یہی روایت درست ۔۔۔

مزید