قتیلہ دختر عرباض از بنو مالک بن حسل،ان کا ذکر ایک حدیث میں آیاہے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
اُمیمہ دختر عمرو بن سہل بن قلع بن حارث بن عبدالاشہل انصاریہ،بقول ابن حبیب انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ُامیمہ رسو لِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آزاد کردہ کنیز،ان کی حدیث کے راوی اہلِ شام ہیں،ان سے جبیر بن نفیر حضرمی نے روایت کی،کہ وہ ایک دن حضورِ اکرم کو وضو کرارہی تھیں،کہ ایک آدمی نے حاضر ہو کر گزارش کی،یا رسول اللہ ! مجھے کو ئی نصیحت فرمائیے،فرمایا،خدا سے شرک نہ کر،خواہ تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے،یا آگ میں بھون دیا جائے،اور دانستہ ترکِ نماز نہ کر کیونکہ جس نے عمداً نماز نہ پڑھی،خدا اور رسول نے اس سے قطع تعلق کر لیا اور کوئی نشہ آور چیز استعمال نہ کرو،کیونکہ نشہ ہر برائی کا سر چشمہ ہے،اور اسی طرح اپنے والدین کی نافرمانی سے اجتناب کرو،خواہ تمہیں اپنے اہل و عیال اور مال و متاع کو چھوڑنا پڑے تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
اُمیمہ،ابو ہریرہ کی والدہ، ابو موسیٰ نے جن روایات کی مجھے اجازت دی،ان میں ذکر کیا، کہ ابو علی نے ابو نعیم سے،انہوں نے سلیمان بن احمد سے ،انہوں نے محمد بن اسحاق بن شاذان سے،انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے سعد بن الصلت سے ،انہوں نے یحییٰ بن علاء سے،انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے،انہوں نے ابو ہریرہ سے روایت کی کہ حضرت عمر نے انہیں بُلا بھیجا ،تا کہ انہیں کسی علاقے کی حکومت عطا کریں،لیکن انہوں نے انکار کردیا،خلیفہ نے کہا،کیا تم حکومت میں حِصہ لینے سے انکار کرتے ہو،حالانکہ تم سے ایک بہتر شخص نے اس کی خواہش کی تھی،انہوں نے جواب دیا،امیر المو ٔمنین! وہ نبی بن نبی تھے،جبکہ میں ابو ہریرہ پسر امیمہ ہوں،میں تین اور دو امور سے ڈرتا ہوں،(خلیفہ نے کہا ، تم نے پانچ کیوں نہیں کہا؟) میں ڈرتا ہوں کہ (ا)کوئی بات بغیر از عِلم کے کہہ دوں (۲) بغیر از حکم کے فیصلہ کرد۔۔۔
مزید
قتیلہ دختر نضربن حارث بن علقمہ بن کلدہ بن عبد مناف بن عبدالدار بن قصی قرشیہ عبدریہ،یہ خاتون عبداللہ بن حارث بن امیتہ الاصغر بن عبد شمس کی بیوی تھیں،ان سے ان کی چار اولادیں ہوئیں،علی ،ولید،محمداور ام الحکم،واقدی لکھتے ہیں،جس نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ذیل کے اشعار کہے،جب حضور نے ان کے والد نضر بن حارث کوبدر کے دن قتل کرادیا تھا۔ (۱)یَارَاکِباً اَنَّ اِلَّاثِیلَ مَظَنَّۃٌ مِن صُبحٍ خَامِسَۃِ وَاَنتَ مُوَفَّقَ (ترجمہ)اے سوار،بلاشبہ اثیل تک پانچ کی صبح کو پہنچنا ایک خیال ہے،اور تجھے اس کی توفیق حاصل تھی۔ (۲)بلِغ بہٖ مَیتاً فَاِنَّ تَحِیَّۃَ مَااِن تَزَال بِھَاالنجائب تعنق (ترجمہ)تواس وفات یافتہ کوسلام پہنچا،کیونکہ سلام تو عمدہ نسل کی اونٹنیاں اس تک پہنچاتی رہیں گی۔ (۳)مِنی اِلیہ وعبیرۃ مسفوحۃ جادت لماتحھاواُخری تخنق (ترجمہ)میری۔۔۔
مزید
عمیرہ دختر عبدِ سعد بن عامر بن عدی،بقولِ ابنِ حبیب اس خاتون نے آپ سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
قتیلہ دختر قیس بن معدی کرب کندیہ جو اشعث بن قیس کی ہمشیرہ تھیں،ایک روایت میں قتیلہ مذکور ہے،مگر پہلی روایت درست ہے۔ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس خاتون سے دسویں سالِ ہجری میں نکاح کیا ،پھر بیمار ہو گئے اور وفات پاگئے،لیکن بعد از نکاح یہ خاتون حضورِ اکرم کے پاس آئیں اور نہ آپ نے انہیں دیکھا ایک روایت میں ہے کہ حضورِ اکرم نے ان سے وفات سے ایک ماہ پیشتر نکاح کیا،ایک روایت میں ہے کہ حضور نے اختیار دیا تھا،اگروہ آپ کے ساتھ رہنا چاہیں تو ان پر حجاب فرض کردیا جائے گااور بعداز وفات حضور ان سے نکاح کی کسی کو اجازت نہ ہوگی،اگر وہ چاہیں،تو طلاق دے دیں،اور پھر جس سے چاہیں نکاح کرلیں،آپ نے طلاق دے دی،اور عکرمہ بن ابوجہل نے حضرموت میں ان سے نکاح کرلیا،جب حضرت ابوبکر کو علم ہوا،تو انہوں نے چاہا،کہ ان کے گھر کو پھونک دیں،لیکن حضرت عمر نے مزاحمت کی، کیونکہ وُہ ام۔۔۔
مزید
عُمیرہ دختر ابوالحکم رافع بن سنان،ابوموسیٰ نے اجازۃً ابوعلی حداد سے،انہوں نے ابونعیم سے ،انہوں نے محمدبن اسحاق بن ایوب سے،انہوں نے ابراہیم بن سعدان سے انہوں نے بکر بن بکار سے، انہوں نےعبدالحمید بن جعفرسے،انہوں نے اپنے والد سے اور اپنی قوم کے کئی آدمیوں سے روایت کی ،کہ ابوالحکم نے اسلام قبول کیا،مگر بیوی مسلمان نہ ہوئی،وہ حضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئی،اور شکایت کی کہ اس کے خاوند نے اپنی لڑکی مجھ سے لے لی ہے،اور اسے میرے پاس آنے نہیں دیتا،حضور نبیِ کریم نے ابوالحکم کوبُلاکر ایک طرف بٹھایا،اور بیوی کو دوسری طرف اور لڑکی کو دونوں کے درمیان میں بٹھادیا،پھر دونوں کو حکم دیا،کہ تم باری باری لڑکی کو اپنی طرف بلاؤ، جب انہوں نے بلایا ،تو لڑکی کا رجحان ماں کی طرف تھا،حضورِ اکرم نے فرمایا،اے اللہ تو بچی کو سیدھا راستہ دکھا،ا س پر وہ اپنے والد کی طرف مائل ہوگئی،اور باپ نے ا۔۔۔
مزید
قتیلہ دختر سعدازبنوعامربن لوئی جو ابوبکر صدیق کی زوجہ تھیں اور عبداللہ اور اسماء کی والدہ،جعفر نے انہیں صحابیات میں شمار کیا ہےاورلکھا ہےکہ انہوں نے قبول اسلام میں تاخیر کی،اور ابواحمد حافظ نے کتاب الکنی میں ان کا ذکر کیا ہے،اور جعفر نے ان کی مشہور حدیث کا ذکر کیا ہے،ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے ،انہوں نے اپنی والدہ اسماءدخترابوبکر سے روایت کیا کہ میری والدہ قبل از قبول اسلام میر ےپاس اس زمانے میں آئی،کہ جب صلح حدیبیہ کے بعد قریش اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ طے پا چکاتھا،میں نے حضورِ اکرم سے صلئہ رحمی کی اجازت یہ کہہ کر طلب کی کہ میری ماں راغب ہورہی ہے،چنانچہ آپ حسن سلوک کی اجازت دے دی۔ ابوموسیٰ لکھتے ہیں کہ راویوں کی ایک جماعت نے اس حدیث کو ہشام سے روایت کیا ہے لیکن اس روایت میں ان کے اسلام کاکہیں ذکر نہیں اور تمام روایات میں انہیں مشرکہ ہی بیان کیاگیاہے اور ۔۔۔
مزید
عمیرہ دختر حماسہ انصاریہ خطمیہ،بقولِ ابن حبیب اس خاتون کو حضورِاکرم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ۔۔۔
مزید