جمعہ , 21 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 08 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )قتیلہ( رضی اللہ عنہا)

قتیلہ دختر صیفی جہنیہ ایک روایت میں انصاریہ ہے،اولین مہاجرات سے تھیں،ان سے عبداللہ بن یسار نے روایت کی،عبدالوہاب بن ابو حبہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے ،انہوں نے یحییٰ بن سعید سے انہوں نے مسعودی سے،انہوں نے سعید بن خالد سے،انہوں نے عبداللہ بن یسار سے،انہوں نے قتیلہ سےروایت کی،کہ ایک یہودی عالم حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا،اور کہنے لگا،اے محمد!تمہاری جماعت بڑی اچھی ہے،اگر شرک نہ کرے،فرمایا سبحان اللہ ،ہم پر یہ الزام! اس نے کہا،جب تم قسم کھاتے ہو،تو والکعبتہ کہتے ہو،یعنی کعبے کی قسم،حضورِ اکرم نے تھوڑی دیر توقف کیا اور پھر فرمایا،کہ جو شخص قسم کھائے اسے والکعبہ کہنے کی بجائے وبرب الکعبہ کہنا چاہئیے اس یہودی عالم نے پھر کہا کہ آپ کی جماعت بہت اچھی ہے،بشرطیکہ یہ ولوگ کسی کو خدا کا شریک نہ بنائیں،مثلاًوہ کہتے ہیں ماشاءاللہ وشئتُ،آپ نے تھوڑی دیر توق۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عُمیرَہ(رضی اللہ عنہا)

عمیرہ دختر کلثوم بن ہدم بن امراءالقیس بن حارث بن زید بن عبید انصاریہ،بقول ابنِ حبیب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )قتیلہ( رضی اللہ عنہا)

قتیلہ دختر عمرو بن ہلال کنانیہ،بقولِ ابن حبیب حجتہ الوداع کے موقع پر حضورِاکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عُمیرَہ(رضی اللہ عنہا)

عمیرہ دختر مسعود انصاریہ،ابوموسیٰ نے اذناً حسن بن احمد سے،انہوں نے احمد بن عبداللہ سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے،انہوں نے ابوعروبہ سے،انہوں نے ہلال بن بشیر سے،انہوں نے اسحاق بن ادریس الاحوال سے،انہوں نے ابراہیم بن جعفر بن محمود بن محمد بن مسلمہ سے ،انہوں نے جعفر بن محمود سے ،انہوں نے اپنی دادی عمیر ہ سے سُنا،کہ ہم پانچ بہنیں حضورِ اکرم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئیں،حضورِاکرم گوشت کے ٹکڑے چباکر کھارہے تھے،ایک چباہوا ٹکڑا مجھے بھی دیا،جسے ہم بہنوں نے تھوڑاتھوڑا بانٹ لیا،اس کے بعد آپ نے سب کو چباکر ایک ایک ٹکڑا دیا،جسے ہم سب نے کھالیا،چنانچہ جب تک ہم زندہ رہیں،نہ تو ہمارے دانت گرے،اور نہ کوئی اور خرابی پیداہوئی،ابونعیم اور ابوموسٰی نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عُمیرَہ(رضی اللہ عنہا)

عمیرہ دختر قیس بن ابوکعب انصاریہ،از بنوسواد،سہل بن قیس کی جو احد میں شہید ہوئے تھے بہن تھیں،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عُمیرَہ(رضی اللہ عنہا)

عمیرہ دختر قیس بن عمرو بن عبید بن مالک بن عدی بن جرار بن سلیط بن قیس انصاریہ،از بنوعدی بقولِ ابنِ حبیب حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عُمیرَہ(رضی اللہ عنہا)

عمیرہ دختر قرط بن خنساء بن سنان انصاریہ از بنو حرام،بقولِ ابنِ حبیب انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖوسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )قیلہ( رضی اللہ عنہا)

قیلہ انماریہ،بقول ابن ابی خیثمہ،یہ خاتون انصاریہ تھیں اور بنو انمار کی ہمشیرہ تھیں،اور ایک روایت میں ام بنی انمار آیا ہے،حضورِ اکرم کی زیارت نصیب ہوئی،اور عبداللہ بن عثمان بن خیثم نے ان سے روایت کی،ان کا بیان ہے کہ انہوں نے رسولِ اکرم کو مروہ کے پاس دیکھا،جہاں آپ عمرہ کے لئے تشریف لائے تھے،میں حضوراکرم کی خدمت میں بیٹھ گئی،اور گزارش کی ،یارسول اللہ میں کاروباری عورت ہوں،خریدو فروخت میرا کام ہے،اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں کوئی چیز بیچنا چاہتی ہوں تو اس کی قیمت اس رقم سے زیادہ بتاتی ہوں،جس پر کہ میں اسے بیچنا چاہتی ہوں،اسی طرح جب میں کوئی چیز خریدنا چاہتی ہوں،تو اس کی قیمت اس رقم سے کم بتاتی ہوں،جس پر کہ میں اسے خریدنا چاہتی ہوں،آپ نے فرمایا،اے قیلہ! تم اس طرح نہ کیا کرو،بلکہ قیمت وہی بتایا کرو،جس قیمت پر تم چیز کو بیچنا یا خریدنا چاہتی ہو،تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدہ )قیلہ( رضی اللہ عنہا)

قیلہ دختر محزمہ غنویہ،ایک روایت میں عنزیہ ہے،اور ایک میں عنبریہ اور یہی صحیح ہے کیونکہ انہیں تیمیہ بھی کہاگیا ہے،اور عنبر سے مروی ہے کہ ان کی دودادیوں صفیہ اور وحینہ نے جو علیہ کی بیٹیاں اور قیلہ دختر محزمہ نے جو حبیب بن ازہر کی(جو بنو جناب کا بھائی تھا)بیوی تھی،ان کے بطن سے کئی لڑکیاں پیدا ہوئیں اور پھر حبیب فوت ہوگیا،اور اس کی لڑکیاں عمر بن اثوب بن ازہر نے چھین لیں۔ چنانچہ قیلہ،ابتدائے اسلام میں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے نکلی،اس پر سب سے چھوٹی لڑکی نے جس کا نام جویریہ تھا،اور سیاہ رنگ کا لباس پہنے تھی،رونا شروع کردیا،چونکہ ماں کو اس لڑکی سے محبت زیادہ تھی،اسے اس پر رحم آگیا،اور اسے اُٹھا لیا،اور ساتھ لے چلی،ماں بیٹی حضورِاکرم کے پاس اس وقت پہنچیں،جب آپ صبح کی نماز پڑھارہے تھےاور بعد نماز نمازیوں سے فرمارہے تھے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔۔۔

مزید

(سیّدہ )قیلہ( رضی اللہ عنہا)

قیلہ دختر محزمہ غنویہ،ایک روایت میں عنزیہ ہے،اور ایک میں عنبریہ اور یہی صحیح ہے کیونکہ انہیں تیمیہ بھی کہاگیا ہے،اور عنبر سے مروی ہے کہ ان کی دودادیوں صفیہ اور وحینہ نے جو علیہ کی بیٹیاں اور قیلہ دختر محزمہ نے جو حبیب بن ازہر کی(جو بنو جناب کا بھائی تھا)بیوی تھی،ان کے بطن سے کئی لڑکیاں پیدا ہوئیں اور پھر حبیب فوت ہوگیا،اور اس کی لڑکیاں عمر بن اثوب بن ازہر نے چھین لیں۔ چنانچہ قیلہ،ابتدائے اسلام میں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے نکلی،اس پر سب سے چھوٹی لڑکی نے جس کا نام جویریہ تھا،اور سیاہ رنگ کا لباس پہنے تھی،رونا شروع کردیا،چونکہ ماں کو اس لڑکی سے محبت زیادہ تھی،اسے اس پر رحم آگیا،اور اسے اُٹھا لیا،اور ساتھ لے چلی،ماں بیٹی حضورِاکرم کے پاس اس وقت پہنچیں،جب آپ صبح کی نماز پڑھارہے تھےاور بعد نماز نمازیوں سے فرمارہے تھے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔۔۔

مزید