حضرت شیخ منتخب الدین چشتی(حضرت زرزری زربخش دولہا،خلدآبار) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ حضرت گنج شکر کے مشہور خلیفہ تھے آپ کو آقائے منتخب بھی کہتے ہیں آپ شیخ برہان الدین غریب کے بڑے بھائی ہیں اور زرے زرین اور زر بخش کے لقب ملقب ہوئے۔ معارج الولایت کے مصنف لکھتے ہیں کہ یہ لقب آپ کو اس لیے ملا کہ آپ بڑے ریاضت اور مجاہدہ کے عادی تھے۔ شیخ منتخب الدین رحمۃ اللہ علیہ محبوبی کے مرتبے پر پہنچے ہوئے تھے خزانۂ غیب سےانہیں ہر روز صبح و شام دو سنہری خلعتیں آیا کرتی تھیں، آپ انہیں بیچ دیتے اور درویشوں اور مسکینوں میں خرچ کردیتے۔ اور خود استعمال نہ کرتے اس لیے آپ کا لقب زرے زرین زر بخش پڑ گیا۔جن دنوں ملک دیوگیر میں کفر و بدعت کا دور دورا تھا تو حضرت خواجہ فرید گنج شکر نے آپ کو دیو گیر کی طرف روانہ فرمایا آپ نے وہاں پہنچ کر مخلوق کو ہدایت دی اور بہت سے لوگوں کو راہ راست پر لے آئے، جن لوگوں نے ضد م۔۔۔
مزید
حضرت سید بہاؤ الدین جھولن شاہ بخاری سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ المشہور بابا گھوڑے شاہ ٓپ کا اسم گر امی محمد حفیظ بتایا جا تا ہے اور جھولن شاہ کے نام سے موسوم تھے،آپ کے والد گرامی کا نام سید شاہ محمد سید عثمان جھولہ بخاری جن کا مزار شاہی قلعہ کے اندر ے ہے تھے،اصل نام سید بہاء الدین رحمتہ اللہ علیہ تھا، پانچ برس کی عمر میں ہی آپ کو گھو ڑے کی سواری کا بہت شوق تھا اور یہ شو ق عشق کی صورت اختیار کر گیا تو جو کوئی بھی آپ کے پاس مٹی کا بنا ہوا گھوڑ لے کر آتا تو اس کے حق میں دعا کرتے جو مقبول ہوتی اس سے آپ کے مستحاب الد عوات ہونے کی شہرت ہوگئی اور خلقت خدا کا ہجوم ہونے لگا، جب سید شاہ محمد رحمتہ اللہ علیہ آپ کے والد کو پتہ چلا تو بہت خفا ہوئے اور فرمایا کہ یہ لڑکا اسرار الہیٰ کو راز میں نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی اس قابل ہے، آپ نے یہ کلمات فرمائے ہی تھے کہ آپ کا وصال ہوگیا،لکھا ہے کہ اس۔۔۔
مزید
قاضی ابو المحاسن بہاؤ الدین یوسف بن رافع اسدی المعروف بابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ اسمِ گرامی: يوسف بن رافع بن تمیم بن عتبہ اسدی موصلی۔کنیت: ابو المحاسن۔لقب: بہاؤ الدین تھی۔اور آپ ابنِ شداد کے نام سے مشہور معروف ہوئے۔ تاریخِ ولادت: آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ِ باسعادت10 رمضان المبارک 539 ھ کو عراق کے شہر موصل میں ہوئی۔ تحصیلِ علم: آپ نے بچپن میں ہی قرآنِ پاک حفظ کر لیا تھا۔موصل میں جلیل القدر شیوخ کے پاس حدیث، فقہ، تفسیر ، قراءت اور ادب کی کتابیں پڑھیں نیز اکتسابِ علم کے لئے آپ نےمختلف ممالک کا سفر بھی کیا۔ سیرت وخصائص: ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ ایک مایہ ناز مورخ، بہترین فقیہ اور عمدہ قاضی تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاد تھے اور سلطان آپ کی طرزِ تحریر کو بہت پسند بھی کرتے تھے۔ آپ کی خداداد صلاحیتوں ۔۔۔
مزید
حضرت مالک بن دینا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسمِ گرامی: آپ رحمۃ اللہ علیہ کانام: مالک بن دینار۔کنیت: ابو یحیٰ تھی۔ تحصیلِ علم: مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ نےصحابیٔ رسول ﷺ انس بن مالک اور مشہور تابعی حسن بصری رضی اللہ عنہما سے اکتسابِ علم کیا۔ سیرت وخصائص: حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ اخیا ر اور صالحین تابعین میں سے تھے۔ آپ خواجہ حسن بصری کے ہم مجلس اور محب تھے۔ صوفیاء میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔آپ اگرچہ غلام زادے تھے مگر دو جہان کی خواہشات سے آزاد تھے اور صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی ہی سے کھاتے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ جس طرح عبادت وریاضت میں مشہور تھے اسی مذہبِ اسلام اور اہلسنت کی ترویج واشاعت میں بھی معروف تھے حتی کہ اس سلسلہ میں آپ نے مناظرے بھی کئےا ۔ ایک دفعہ حضرت مالک دینار ایک دہریے سے مناظرہ کرنے لگے۔ یہ مناظرہ طویل ہوا تو حکام وقت نے فیصلہ کیا کہ دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے ۔۔۔
مزید
حافظ الحدیث امام نسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام ونسب: نام: احمد بن شعیب بن یحیٰ بن سنان بن دینار نسائی خراسانی ہے۔ کنیت : ابو عبدالرحمن ، لقب: حافظ الحدیث ہے۔ تاریخ ومقامِ ولادت: آپ رحمۃ اللہ علیہ 215 ھ میں خراسان کے ایک مشہور شہرنَسا میں پیدا ہوئے۔ تحصیلِ علم: امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دیار کے شیوخ سے اخذِ علم کے بعد، قتیبہ بن سعید کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دوسال استفادہ کیا، اس کے علاوہ خراسان، عراق، حجاز، جزیرہ، شام اور مصر وغیرہ مختلف مقامات کا حصولِ علم کے لئے سفر کیا۔ سیرت وخصائص: امام نَسائی رحمۃ اللہ علیہ بے حد عبادت گزار اور شب بیدار تھے۔ ایک دن روزہ اور ایک دن افطارصومِ داؤدی کے طریقہ کو اپنایا ہواتھا۔طبیعت اور مزاج میں حد درجہ استغناء تھا، اس لئے حکام کی مجلس سے ہمیشہ احتراز کرتے تھے۔امام نسائی عقائد میں بھی راسخ ومتصلب تھے۔ جس زمانہ میں معتزلہ کے عقیدہ ۔۔۔
مزید
شیخ ابو سہل محمد بن سلیمان صعلوکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسمِ گرامی: آپ رحمۃ اللہ علیہ کااسمِ گرامی: محمد بن سلیمان بن محمد بن ہارون صعلوکی رحمۃ اللہ علیہم تھا۔کنیت : ابو سہل تھی۔ تاریخِ ومقامِ ولادت: ابو سہل صعلوکی رحمۃ اللہ علیہ 296 ھ میں ایران کے شہراصفہان میں پیدا ہوئے۔ تحصیلِ علم: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ فقہ ابو علی ثقفی سے حاصل کیا، علمِ حدیث ابو بکر محمد بن اسحاق اورابو العباس محمد بن اسحاق وغیرہ سے حاصل کیا اور ان کے علاوہ مختلف علوم وفنون دیگ اجلہ علماء سے حاصل کیا۔ سیرت وخصائص: شیخ ابو سہل صعلوکی رحمۃ اللہ علیہ نیشا پور کے رہنے والے تھے شریعت و طریقت کے امام اور یگانۂ روزگار تھے وقت کے تمام مشائخ آپ کی ولایت پر متفق اللفظ تھے، حضرت ابوبکر شبلی مرتعش، علی سقفی، رافق، ابوالحسن قوشنجی اور ابا نصر نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی مجالس میں رہ کر فیضان صحبت حاصل کیا۔۔۔
مزید
حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نام و نسب: اسمِ گرمی:سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنھا۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: سیدہ امِ کلثوم بنتِ سید المرسلین حضرت محمد ﷺبن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک ۔(رضی اللہ عنہم اجمعین) حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی مکرم ﷺ کی تیسری بیٹی ہیں یہ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھوٹی ہیں ۔یہ بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بطن سے پیدا ہوئیں ۔نبی کریم ﷺاور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نگرانی میں ہوش سنبھالااور آغوش رسات میں پرورش پائی ۔جب حضور نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو یہ تمام بہنیں اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہمراہ اسلا م لائیں۔ نکاح اوّل اور طلاق: اعلان نبوت سے پہلے نبی کریم نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ن۔۔۔
مزید
حضرت سیدہ ز ینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نام ونسب: اسمِ گرامی: سیدہ زینب رضی اللہ عنھا۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بنتِ سید المرسلین حضرت محمد ﷺبن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک ۔(رضی اللہ عنہم اجمعین) سالِ ولادت: آپ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ اعلانِ نبوت سے دس سال قبل جب کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمرشریف تیس سال کی تھی مکہ مکرمہ میں ان کی ولادت ہوئی۔ یہ ابتداء اسلام ہی میں مسلمان ہوگئی تھیں اور جنگ ِبدر کے بعد حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ بلالیا تھا اور یہ ہجرت کرکے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لے گئیں۔ اعلانِ نبوت سے قبل ہی ان کی شادی ان کے خالہ زاد بھائی ابوالعاص بن ربیع سے ہوگئی ۔۔۔
مزید