اُمیمہ عبداللہ بن ابی بن سلول کی کنیز تھی، یحییٰ بن محمود اور ابو یاسر نے (باسناد ہما تا مسلم بن حجاج) ابو کامل ججدری سے،انہوں نے ابو عوانہ سے،ا نہوں نے اعمش سے،انہوں نے ابو سفیان سے، انہوں نے جابر سے روایت کی،کہ عبداللہ بن ابی کے پاس دو لونڈیاں تھیں،مسیکہ اور امیمہ،وہ ان دونوں کو زنا پر مجبور کرتا تھا،انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شکایت کی تو یہ آیت اُتری۔ لَاتَکرَھُوافَتَیَاتِکُم عَلَی البِغَاءِ،تم اپنی لونڈیوں کو زنا پر مجبور مت کرو۔ ۔۔۔
مزید
قہطم دختر علقمہ بن عبداللہ بن ابوقیس جو سلیط بن عمربن عبدشمس بن عبدودبن نضر بن مالک بن حسل بن عامربن لوئی کی بیوی تھیں،دونوں میاں بیوی نے حبشہ کو ہجرت کی اور پھر دونوں نے اکٹھے ہی کشتی میں مدینے کو ہجرت کی،یہ ابن اسحاق کا قول ہے،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
اُمیمہ عبداللہ بن ابی بن سلول کی کنیز تھی، یحییٰ بن محمود اور ابو یاسر نے (باسناد ہما تا مسلم بن حجاج) ابو کامل ججدری سے،انہوں نے ابو عوانہ سے،ا نہوں نے اعمش سے،انہوں نے ابو سفیان سے، انہوں نے جابر سے روایت کی،کہ عبداللہ بن ابی کے پاس دو لونڈیاں تھیں،مسیکہ اور امیمہ،وہ ان دونوں کو زنا پر مجبور کرتا تھا،انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شکایت کی تو یہ آیت اُتری۔ لَاتَکرَھُوافَتَیَاتِکُم عَلَی البِغَاءِ،تم اپنی لونڈیوں کو زنا پر مجبور مت کرو۔ ۔۔۔
مزید
قریبہ دخترابوامیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم قرشیہ مخزومیہ،ان کا ذکر ام المومنین ام سلمہ کی حدیث میں ہے،جو ان کی ہمشیرہ تھیں۔ ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے ام سلمہ سے روایت کی،کہ جب زینب کے وضع حمل ہواتو حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے،جب میں نے زینب کو جنا،حضور تشریف لائےنکاح کا مطالبہ کیا،اور نکاح ہوگیا،ابوسلمہ کا بھائی عمار بن یاسر بہن کے پاس تھا،آپ نے ابوسلمہ سے فرمایا،میں آج رات تمہارے گھر آؤں گا،ابن مندہ،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیا ہے۔ اور ابوموسیٰ نے اس لئے ان کا ذکر کیا ہے کہ ابن مندہ نے ان کے ذکر میں اختصار سے کام لیا ہے اور اگراس طرح کے امور میں بھی استدراک کرناچاہیئے،توپھر کوئی حد نہ رہےگی،نہ معلوم اس ان کا ذکر کیوں کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
اُمیمہ دختر بشر از بنو عمرو بن عوف، عبداللہ بن سہل کی والدہ اور سہل بن حنیف کی زوجہ تھیں،پہلے وہ حسان بن وحداحہ کی بیوی تھیں،بھاگ آ ئیں ،اسلام قبول کرلیا، اور آپ نے سہل بن حنیف کی زوجیت میں دے دیا، چنانچہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی۔ "یَاَیُّھَاالَّذِینَ اٰمَنُوااِذَاجَاءَکُمُ المئومِنَاتٍ مُھَاجِرَاتٍ"ابن وہب نے ابن لہیعہ سے اور انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا کہ یہ خبر ان تک پہنچی ہے،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں،کہ مجھے اس آیت کا شانِ نزول درست نہیں معلوم ہوتا،کیونکہ بنو عمرو بن عوف انصار سے ہیں اور مدنی ہیں،اس لئے یہ حدیث ایک مدنی عورت کے بارے میں کیسے نازل ہو سکتی ہے،بلکہ اس کا نزول ان عورتوں کے بارے میں ہے،جو بعد از صلحِ حدیبیہ ہجرت کر کے مدینے آگئی تھیں،مثلاً ام کلثوم دخترِ عقبہ بن ابو معیط وغیرہ ،ہم ام۔۔۔
مزید
اُ میمہ دخترِ بُشیر ، ہمشیرۂ نعمان انصاریہ،ہم ان کا نسب ا ن کے والد اور بھائی کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ یہ خاتون اول الذکر سے مختلف ہیں،کیونکہ یہ بنو خزرج سے ہیں اور اول الذکر بنو اوس سے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
اُمیمہ دختر حارث ،زوجۂ عبدالرحمٰن بن زبیر،عبدالرحمٰن نے انہیں تین طلاقیں دے دیں ، جس کے بعد رفاعہ نے بھی انہیں طلاق دے دی،اس پر وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اور عبدالرحمٰن سے نکاح کی اجازت مانگی،آپ نے پوچھا کیا وہ تجھے واپس لینے کو تیار ہے،امیمہ نے جواب دیا،وہ تو اسے کپڑے کا ایک ٹکڑا گردانتا ہے،حضور نے فرمایا،تاکہ تو اس سے لُطف اندوز ہو، اور وہ تجھ سے، ابو صالح نے اسے ابن عباس سے روایت کیا،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
قریبہ دختر زید بن عبدریہ بن انصاریہ جثمیہ،بقول ابنِ حبیب حضورِ اکرم سے انہیں بیعت نصیب ہوئی۔ ۔۔۔
مزید
اُمیمہ دختر خلف بن اسعد بن عامر بن بیاضہ بن سبیع بن جعثمہ بن سعد بن ملیح بن عمرو بن ربیعہ خزاعیہ،یہ خاتون طلحہ بن عبداللہ بن خلف کی پھوپھی تھیں،جنہیں طلحتہ الطلحات کا لقب حاصل تھا،جناب امیمہ خالد بن سعید بن عاص کی زوجہ تھیں،جو ہجرت کر کے خاوند کے ساتھ حبشہ چلی گئی تھیں،بقولِ ابن اسحاق ان کا نام امینہ تھا،ایک روایت میں ہمینہ مذکور ہے،حبشہ میں ان کے بطن سے ایک لڑکا خالد نامی اور ایک لڑکی امہ پیدا ہوئی،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،لیکن ابنِ مندہ نے لڑکی کا نام امیمہ دختر خالد لکھا ہے،جو غلط ہے اور پہلی روایت صحیح ہے، واللہ اعلم۔ ۔۔۔
مزید
اُمیمہ دختر نجارا نصاریہ ، ان کی حدیث ابن جریج نے حکیمہ دختر ابو حکم سے ، انہوں نے اپنی والدہ امیمہ سے روایت کی،کہ ازواج مطہرات کے پاس روما ل تھے،جن میں انہوں نے کلف اور زعفران باندھ کر رکھا تھا احرام باندھنے سے پہلے انہوں نے اس مرکب کو اپنے بالوں کی جڑوں میں لگا لیا،پھر احرام باندھا۔ ابو عمر کا قول ہے،کہ عقیلی نے یہ حدیث امیمہ دختر نجار سے منسوب کی ہے،لیکن میرے خیال میں یہ حدیث امیمہ دختر رقیقہ سے مروی ہے،بایں دلیل کہ حجاج نے اپنے جریج سے،انہوں نے حکیمہ دخترِ امیمہ دختر رقیقہ سے،انہوں نے اپنی والدہ سے روایت کی ،کہ رسولِ کریم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا،جس میں آپ پیشاب کیا کرتے تھے،اس حدیث کو ابو داؤد نے محمدبن عیسٰی سے،انہوں نے حجاج سے روایت کی،ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید