منگل , 08 محرّم 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 23 June,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )جمیحہ( رضی اللہ عنہا)

جمیحہ دختر حمام بن جموح انصاریہ از بنو حبلی،بقول ابنِ حبیب، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے انہوں نے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیحہ( رضی اللہ عنہا)

جمیحہ دختر صیفی بن صخر بن خنساء انصاریہ ،بقولِ ابن حبیب انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی ،لیکن ابو علی غسانی نے ابو عمر پر استدراک کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جہدمہ( رضی اللہ عنہا)

جہدمہ،بشیر بن خصاصہ کی بیوی تھیں،انہیں حضورِ اکرم کی زیار ت نصیب ہوئی،ابو جناب یحییٰ بن ابو حبہ نے اباد بن لُقیطہ سے انہوں نے جہدمہ سے روایت کی کہ ان کے شوہر کا نام زحما تھا،جسے آپ نے بدل کر بشیر بنادیا،نیز ان سے مروی ہے کہ انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے حجرے سے نکلتے ،آپ نے غسل فرمایا تھا،سر کو حرکت دے رہے تھے،اور بالوں پر حنا کی تہ جمی ہوئی تھی،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیل( رضی اللہ عنہا)

جمیل دختر یسار،ہمشیرہ معقل بن یسار مزنیہ،ابو البداح کی زوجہ تھیں،انہیں شوہر نے طلاق دی تھی،چنانچہ ذیل کی آیت ان کے بارے میں اُتری،وَاِذَاطَلَّقتُمُ النِّسَاءَفَبَلَغنَ اَجَلَھُنَّ فَلَاتَعضُلُوھُنَّ اَن یَّنکِحنَ اَزوَاجَھُنَّابو محمد عبداللہ بن علی بن عبداللہ تکرینی نے باسنادہ علی بن احمد بن متویہ سے روایت کی کہ یہ آیت معقل بن یسار کی ہمشیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں،انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن بن محمد بن احمد بن جعفر النحوی سے، انہوں نے محمد بن محمد بن احمد بن اسحاق سے، انہوں نے احمد بن محمد بن حسین سے،انہوں نے احمد بن حفص بن عبداللہ سے،انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابراہیم بن طہمان سے ، انہوں نے یونس بن عبید سے،انہوں نے حسن سے روایت کی،کہ انہیں معقل بن یسار نے بتایا،کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی،انہوں نے اپنی بہن ایک شخص سے بیاہی تھی،جس نے انہیں طلاق دے دی۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر عبدالعزی بن قطن بن بنو مصطلق جو خزاعہ کا ایک ذیلی قبیلہ ہے،حضور سے بیعت کی یہ خاتون عبدالرحمٰن بن عوام کی زوجہ تھیں،جو زبیر بن عوام کے بھائی تھے،صاحب اولاد تھیں، لیکن ان سے کوئی روایت مروی نہیں ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر عبداللہ بن ابی سلول،یہ خاتون اوّل الذکر کے بھائی کی بیٹی تھیں،جس سے حنظلہ نے نکاح کیا،جب وہ غزوۂ احد میں مارا گیا،تو پھر ثابت بن قیس کے نکاح میں آئی،اس کے وفات کے بعد مالک بن دخشم سے نکاح کیا،اس کے بعد حبیب بن یساف سے جو بنو حارث بن خزرج سے تھے،ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے،اور محمد بن سعد،واقدی کے کاتب سے روایت کی۔ ابو نعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے اس خاتون جمیلہ کو عبداللہ بن ابی بن سلول کی بیٹی قرار دیا ہے کہ حنظلہ کے قتل کے بعد ان سے ثابت نے نکاح کرلیا تھا،اور ان کے حالات محمد بن سعد واقدی سے لئے ہیں،اور اس خاتون سے جس نے اپنے شوہر سے خلع کرلیا تھا، انہیں غیر شمار کیا ہے،اور مبتلائے وہم ہو کر علمأ کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی ہے،حالانکہ اس سے بیشتر ذکر کردہ ترجمے میں وہ جمیلہ کو ابی کی بیٹی لکھ آئے ہیں۔ اس کے بارے میں ابن اثیر کی رائے ی۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر عبداللہ بن حنظلہ انصاریہ،بقولِ ابنِ حبیب انہوں نے حضورِ اکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر عبداللہ بن ابی سلول،یہ خاتون اوّل الذکر کے بھائی کی بیٹی تھیں،جس سے حنظلہ نے نکاح کیا،جب وہ غزوۂ احد میں مارا گیا،تو پھر ثابت بن قیس کے نکاح میں آئی،اس کے وفات کے بعد مالک بن دخشم سے نکاح کیا،اس کے بعد حبیب بن یساف سے جو بنو حارث بن خزرج سے تھے،ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے،اور محمد بن سعد،واقدی کے کاتب سے روایت کی۔ ابو نعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے اس خاتون جمیلہ کو عبداللہ بن ابی بن سلول کی بیٹی قرار دیا ہے کہ حنظلہ کے قتل کے بعد ان سے ثابت نے نکاح کرلیا تھا،اور ان کے حالات محمد بن سعد واقدی سے لئے ہیں،اور اس خاتون سے جس نے اپنے شوہر سے خلع کرلیا تھا، انہیں غیر شمار کیا ہے،اور مبتلائے وہم ہو کر علمأ کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی ہے،حالانکہ اس سے بیشتر ذکر کردہ ترجمے میں وہ جمیلہ کو ابی کی بیٹی لکھ آئے ہیں۔ اس کے بارے میں ابن اثیر کی رائے ی۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر ابی بن صعصعہ انصاریہ از بنو مازن،بقولِ ابن حبیب انہو ں نے آپ سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر ابی بن صعصعہ انصاریہ از بنو مازن،بقولِ ابن حبیب انہو ں نے آپ سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید