کبیرہ دخترِسفیان ،ایک روایت میں دختر ابوسفیان خزاعیہ یا ثقفیہ ہے،انہوں نے حضورِاکرم کا زمانہ پایا،اور آپ سے روایت کی ،ان سے ان کے مولی ابو ورقہ بن سعید نے روایت کی،ایک روایت میں ہےکہ انہوں نے جاہلیت کا زمانہ بھی پایا،اور آپ سے اسلام پر بیعت کی،انہوں نے حضورِ اکرم کی خدمت میں عرض کی،یارسول اللہ ،میں نے زمانہ جاہلیت میں چار بچوں کو زندہ دفن کیا تھا،فرمایا چار غلام آزاد کرو،انہوں نے حضورِ اکرم سے روایت کی،آپ نے فرمایا،کہ ایک سفید رنگ کی بکری کی قربانی دو سیاہ رنگ کی بکریوں کی قربانی سے بہتر ہے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،ابو موسیٰ نے ان کا نام کبیرہ لکھاہے،لیکن ابن مندہ اور ابونعیم نے کثیرہ تحریر کیا ہے،ابوعمر اور ابنِ ماکولا نے بھی باسے،اور ابوعبداللہ یعنی ابن مندہ نے ثا سے لکھاہے۔ ۔۔۔
مزید
مرضیہ،ابن ابی عاصم نے الوحدان میں ان کا ذکر کیا ہے،یحییٰ بن محمود نے اجازۃً باسنادہ تا احمد بن عمرو بن ابی عاصم ،عمرو بن بشیر ابوحفص صیرنی سے،انہوں نے یحییٰ بن راشد سے،انہوں نے محمد بن حمران سے ،انہوں نے عبداللہ بن حبیب سے،انہوں نے ام سلیمان سے،انہوں نے اپنی دادی مرضیہ سے روایت کی،کیا تم ایسی بات سے انکار کروگےجوحضورِ اکرم کے عہد میں کی جاتی تھی،کہ میت کے پیچھے پیچھے انگیٹھی لائی جاتی تھی۔ ۔۔۔
مزید
کبیشہ دختر مالک بن قیس بن محرث انصاریہ،از بنو مازن،بقولِ ابنِ حبیب حضور سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
کبیشہ دختر معن بن عاصم،ابن جریج نے عکرمہ مولیٰ ابن عباس سے روایت کی ،کہ وہ کبیشہ دختر معن کے مہمان ہوئے،وہ اسلت کی بیوی تھی،جب وہ مرگیا،تو اس کے بیٹے اسلب نے اس خاتون پر غلبہ پا لیا ،کبیشہ نے حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کی،یا رسول اللہ ،نہ تو مجھے اپنے خاوند کا وارث بننے دیاگیا ہے،اور نہ مجھے اس کی اجازت ہی ہے، کہ میں نکاح کرلوں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی" لَایَحِلُّ لَکُم اَن تَرِثُوالنِّسَاءَ کَرھَا"تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم جبراً عورتوں کے وارث بن جاؤ،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
کبشہ انصاریہ جو عبدالرحمٰن بن ابو عمرہ کی دادی تھیں،ایک روایت میں کبشہ مذکور ہے،ان کا عرف برصاء تھا،اور نسب مذکور نہیں،لیکن ابوعمرو نے نسب بیان کیا ہے،کبشہ دختر ثابت بن منذر بن حرام ہمشیرۂ حسان بن ثابت،احمد بن زبیر نے اپنے والد سے روایت کی ،کہ یہ خاتون بنومالک بن نجار سے تھیں سے ابراہیم بن محمدبن مہران وغیرہ نے باسنادہم تا محمد بن عیسیٰ ابن ِ ابی عمر سے،انہوں نے سفیان سے،انہوں نے یزید بن یزید سے،انہوں نے جابر بن عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ سے،انہوں نے اپنی دادی کبشہ سے روایت کی کہ میں حضورِاکرم کی خدمت میں حاضر ہوئی،میں نے دیکھا،کہ حضورِاکرم نے اُٹھ کر ایک مشکیزے سے جو لٹک رہاتھا،منہ لگاکر پانی پیا،اس کے بعد میں نے اٹھ کراس کا منہ بند کردیا،یہ یزید بن یزید عبدالرحمٰن بن یزید کا بھائی ہے،جو بھائی سے پہلے فوت ہوا،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ماریہ،حضور اکرم کی کنیز تھیں،ان کی کنیت ام رباب تھی،اہل بصرہ سے ان کی حدیث مروی ہے،کہ جس رات کو حضورِ اکرم نے مشرکین سے فرار کیا تھا،اس رات ایک دیوار کو پھاندنے کے لئے میں دیوار کے ساتھ جھک گئی تھی،تاکہ آپ کو آسانی ہو،اس حدیث کو عبداللہ بن حبیب نے ام سلیمان سے انہوں نے اپنی والدہ سے ،انہوں نے جناب ماریہ سے روایت کیا،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
کبشہ دختر عبدعمرو بن عبید بن قیمئہ بن عامر بن خزرج انصاریہ،از بنوساعدہ ،بقول ابنِ حبیب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
کبشہ دختر ابوامامہ اسعد بن زراہ جو عبداللہ بن ابی حبیبہ کی زوجہ اور ابو امامہ بن سہل بن حنیف کی خالہ اور رفاعہ یا فریعہ کی بہن تھیں،جو نبیط بن جابر کی زوجہ تھیں،ان کے والد نے اپنی بیٹیوں کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں دے دیاتھا،چنانچہ حضورِاکرم نے ان کی تربیت کی تھی،اور بیاہا تھا،ابن مندہ اور ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ماریہ قبطیہ حضور اکرم کی مولی،سریہ اور آپ کے صاحبزادے ابراہیم کی ام ولد تھیں،حاکم اسکندریہ مقوقس نے ماریہ اور سیرین دو بہنیں ،ایک خصی غلام مابور،ایک خچرشہاءاور ایک ریشمی حلہ بطور ہدیہ روانہ کیا تھا،بقولِ محمد بن اسحاق مقوقس نے آپ کو چار کنیزیں روانہ کی تھیں،جس میں ایک ماریہ ام ابراہیم تھیں،اور دوسری سرین جو حضور نبیِ کریم نے حسان بن ثابت کو دے دی تھی، ان کے ساتھ جو غلام آیا تھا،اس کا نام مابور تھا،اسے جناب ماریہ سے متہم کیا گیا،تو آپ نے حضرت علی کو حکم دیا کہ مابور کوقتل کردو،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گزارش کی ،یا رسول اللہ ،گرم لوہے کی طرح یا اس شاہد کی طرح جو ایک کو دیکھتا ہے،جسے غائب نہیں پاتا،آپ نے فرمایا،تم شاہد بننا، چنانچہ جب حضرت علی نے دیکھا تو اس کا ذَکر کٹاہواتھاجس کا ذِکر حضرت علی نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کردیا۔ (نوٹ)یہ روایت اس لئے مخد۔۔۔
مزید
کبشہ دختر اوس بن شریق،یہی خاتون خزیمہ بن ثابت کی ماں ہیں،اور بنوحطمہ انصاریہ ہیں،بقولِ ابنِ حبیب، انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید