حلیمہ دختر ابو ذؤیب عبداللہ بن حارث بن شجنہ بن جابر بن رزام بن ناضرہ بن سعد بن بکر بن ہوازن،ابو عمر نے اس نسب کو اسی طرح نقل کیا ہے،اور ابو خثیمہ نے اس سے اتفاق کیا ہے،لیکن ہشام بن کلبی اور ابن ہشام نے یوں بیان کیا ہے،شجنہ بن جابر بن رزام بن ناضرہ بن قصیہ بن نصر بن سعد بن بکر بن ہوازن،یہ سلسلہ اصح ہے،لیکن ابن کلبی نے ابو ذؤیب کا نام حارث بن عبداللہ بن شجنہ لکھا ہے،اور بلاذری نے ان دونوں سے اتفاق کیا ہے۔ ابو جعفر نے باسنادہ تا یونس ابن اسحاق سے روایت کی کہ جب بعد از ولادت حضورِ اکرم کو اپنی والدہ کےسپر د کیا گیا،تو انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے لئے دودھ پلائی کی تلاش شروع کردی اور آخر کار حلیمہ سعدیہ دستیاب ہو گئیں،ان سے عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب نے روایت کی۔ عبیداللہ بن احمد بغدادی نے باسنادہ یونس ے انہوں نے ابن اسحاق سے انہوں نے جہم بن ابو جہم س۔۔۔
مزید
حمیمہ دختر صیفی بن صخرا از بنو کعب بن سلمہ از انصار،برأ بن معرور کی زوجہ اور ان کی عمزاد تھیں،کیونکہ برأ بن صخر از بنو کعب بن سلمہ انصار سے تھے،برأ کے بعدان سے زید بن حارثہ نے نکاح کیا تھا،بقولِ محمد بن سعد کاتب واقدی انہوں نے اسلام لاکر آپ سے بیعت کی تھی،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حمینہ دختر ابو طلحہ بن عدالعزی بن عثمان بن الدار،ابن جریج نے قرآن کی آیت الّا ما قد سلف کے بارے میں عکرمہ مولی ابنِ عباس سے روایت کیا،کہ اسلام نے چار عورتوں اور ان کے سوتیلے بیٹوں کے درمیان تفریق کی،ان میں حمینہ دختر ابو طلحہ بھی تھی،جو خلف بن اسد بن عاصم بن بیاضہ خزاعی کے پاس تھی،چنانچہ خلف کے بعد وُہ اسود بن خلف کی بیوی بن گئی تھی،ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ہمینہ دختر خالد یا خلف بن اسعد بن عامر بن بیاضہ بن سبیع بن جعثمہ بن سعد بن ملیح بن عمرو بن ربیعہ خزاعیہ،ایک روایت میں ہمینہ دختر خلف ہےاور یہی درست ہے،یہ خاتون عبداللہ بن خلف کی (جو طلحہ الطلحات کے والد تھے)ہمشیرہ تھیں،اپنے شوہر خالد بن سعید بن عاص کے ساتھ حبشہ کوہجرت کی،وہاں ان کے دو بچے سعید اور امہ پیداہوئے،وہاں انہوں نے امتہ الزبیر بن عوام سے نکاح کیا، اور خالد اور عمر دولڑکے پیدا ہوئے،وہاں منجاب بن حارث نے زیاد بن عبداللہ البکائی سے،انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ مہاجرین حبشہ خالد بن سعید اور ان کی زوجہ ہمینہ کانام لیا ہے،ابو نعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابنِ اثیر نے ان کا نسب بربنائے شک خالد یا خلف لکھا ہے،اور ابونعیم نے بغیر از شک خالد لکھاہے، اوردونوں نے یہ روایت ابن اسحاق سے بواسطئہ بکائی بیان کی ہے،ہماری اسناد ابنِ ہشام از بکائی ازابنِ اسحاق ۔۔۔
مزید
حمنہ دختر ابو سفیان بن حرب بن امیہ،ابو موسیٰ نے اجازۃً ابو غالب احمد بن عباس کو شیدی سے،انہوں نے ابوبکر بن زیدہ سے، انہوں نے ابوالقاسم طبرانی سے،انہوں نے ابو مسلم الکشی سے،انہوں نے ابن عائشہ سے،انہوں نے حماد بن سلمہ سے،انہوں نے ہشام بن عروہ سے،انہوں نےاپنے والد سے،انہوں نے زینب دختر ابو سلمہ سے انہوں نے ام حبیبہ سے روایت کی،کہ انہوں نےرسولِ کریم رؤف و رحیم سے گزارش کی ،یارسول اللہ !کیا آپ کو حمنہ دختر ابو سفیان کا خیال ہے،فرمایا،اسے میں کیا کروں،انہوں نے گزارش کی،آپ اس سے نکاح کرلیں،فرمایا ،کیا میرے لئے جائز ہوگا،اور کئی آدمیوں نے اسے ہشام سے روایت کیاہے،لیکن نام نہیں لیا۔البتہ کچھ لوگوں نے عزہ اور کچھ نے درہ لکھا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حمنہ دختر حجش بن رباب،ان کی کنیت ام حبیبہ تھی،ان کا نسب ہم ان کے بھائیوں کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں، ابن مندہ نے حمنہ دختر حجش لکھا ہے،ایک روایت میں حبیبہ بھی آیا ہے،ابو عمر نے بھی یہی نام لِکھا ہے،یہ خاتون اور ان کی بہن ام حبیبہ کو کثرت حیض کا عارضہ تھا،اور انکی ایک بہن زینب دختر حجش حضورِ اکرم کی ازوا ج میں شامل تھیں ۔ حمنہ مصعب بن عمیر کی زوجہ تھیں،جو غزوۂ احد میں مارے گئے تھے اور حمنہ نے طلحہ بن عبیداللہ سے نکاح کرلیا تھا اور ان سے دو بیٹے محمد اور عمران پیدا ہوئے تھے،حمنہ کی والدہ کا نام امیمہ تھا،جو حضورِ اکرم کی پھوپھی تھیں نیز اس خاتون نے حضرت عائشہ کے خلاف افک کے معاملے کو بڑی ہوا دی تھی،حالانکہ ان کی بہن نےاس سلسلے میں خاموشی اختیار کی تھی،ایک روایت میں ہے کہ انہیں حد قذف لگائی گئی تھی،اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ کسی کو بھی حد نہیں ماری گئی تھی،ا۔۔۔
مزید
حولأ عطارہ،ابو موسیٰ نے اجازۃً ابو علی محمد بن علی الکاتب اور حسن بن احمد سے،ان دونوں نے ابو منصور عبدالرزاق بن احمد سے انہوں نے ابو الشیخ عبداللہ بن محمد سے ،انہوں نے محمد سے،انہوں نے اسحاق بن جمیل سے،انہوں نے اسحاق بن فیض سے،انہوں نے قاسم بن حکم سے،انہوں نے جریر بن ایوب البحلی سے،انہوں نے حماد بن ابو سلیمان سے ،انہوں نے زیاد ثقفی سے،انہوں نے انس بن مالک سے روایت کی،کہ مدینہ میں ایک عورت حولاء نامی تھی، اس نے حضرت عائشہ کو بتایا،کہ میں ہررات کو اپنے آپ کو سنوارتی ہوں اور دلہن کی طرح سنگار کرتی ہوں اور شوہر کے لحاف میں گُھس جاتی ہوں،لیکن وہ منہ دوسری طرف پھیر لیتا ہے،اس طرز عمل سے میں اتنی برا فروختہ ہوں کہ میں اس کی شکل سے بیزار ہوں،حضرت عائشہ نے کہا،رسولِ کریم کے آنے تک انتظار کرو۔ اتنے میں آپ تشریف لے آئے،فرمایا مجھے حولا ءکی بُو آرہی ہے،تم نے اس سے کچھ ۔۔۔
مزید
حولاء دختر تویت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزی بن قصی قرشیہ اسدیہ،مدینے کو ہجرت کی اور عبادت گزار خاتون تھیں،عبداللہ بن احمد بن عبدالقاہر نے جعفر بن احمد سے ،انہوں نے حسن بن شاذان سے،انہوں نے عثمان بن احمد سے ،انہوں نے حسن بن مکرم سے،انہوں نے عثمان بن عمر سے،انہوں نے یونس سے ،انہوں نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ،انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ حولاء ان کے قریب سے گزریں،اور وہ حضورِ اکرم کے پاس بیٹھی تھیں کہ حضرت عائشہ نے حضورِ اکرم سے کہا،یارسول اللہ! یہ خاتون حولاء بھر عبادت میں مشغول رہتی ہے،فرمایا،تم اتنی عبادت کرو،جتنی تم آسانی سے کر سکو،بخدا اللہ تو نہیں تھکتا جب تک تم نہ تھک جاؤ۔ ابو عاصم النبیل نے صالح بن رستم سے ،انہوں نے ابن ابو ملیکہ سے،انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ میں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حولاء کو حاضر ہونے کی اجازت ۔۔۔
مزید
حولاء زوجہ عثمان بن مظعون ،صحابیات میں ان کا ذکر آیا ہے،لیکن کوئی روایت ان سے مذکور نہیں، ابن مندہ نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حقہ دختر عمرو،انہیں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،اور انہیں ماشأ اللہ قبلتین (بیت المقدس اور مسجد حرام) کی طرف نماز ادا کرنے کی سعادت ملی،شریک نے عاصم احول سے،انہوں نے ابو مجلز سے ، انہوں نے حقہ دختر عمرو سے روایت کی،کہ انہوں نے حضورِ اکرم کی زیارت کی،اور قبلتین کی طرف نماز ادا کی،اور جب بھی احرام باندھتی یا ارادہ کرتی،تو میں اپنے جامہ دان کھول کر جو لباس بھی پسند کرتی،پہن لیتی،حتیٰ کہ زعفرانی رنگ کے بھی کپڑے پہنے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید