جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )بشیرہ( رضی اللہ عنہا)

بشیرہ دختر حارث بن عبد رزاح بن ظفر انصاریہ ظفریہ،بقول ابن حبیب،انہوں نے آپ سے بیعت کی تھی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )بسرہ( رضی اللہ عنہا)

بسرہ دختر صفوان بن نوفل بن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب،قرشیہ اسدیہ،یہ ابو عمر اور ابو نعیم کا قول ہے،مگر ابن مندہ نے ان کا نسب یوں لکھا ہے،بسرہ دختر صفوان بن امیہ بن محرث بن خُمل بن شق بن عامر بن ثعلبہ بن حارث بن مالک بن کنانہ، مگر سلسلہ اوّل درست ہے،ان کی والدہ کا نام سالمہ دخترِ امیہ بن حارثہ بن اوقص سلمیہ اور وہ ورقہ بن نوفل کی بھتیجی تھیں، اور عقبہ بن معیط کی ماں جائی بہن،اور جناب بسرہ مغیرہ بن ابوالعاص کی زوجہ تھیں،اور دو اولادیں ہوئیں،معاویہ اور عائشہ،آخر الذکر عبدالملک بن مروان کی والدہ تھیں اور ان سے ام کلثوم دختر عقبہ بن معیط،مروان بن حکم اور سعید بن مسیب وغیرہ نے روایت کی۔ کئی راویوں نے باسنادہم از محمد بن عیسیٰ،انہوں نے اسحاق بن منصور سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید القطان سے،انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے بسرہ سے روایت کی،حضور ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )بیضاء( رضی اللہ عنہا)

بیضاء کو صفوان اور سہیل کی والدہ تھیں، ان کا تعلق بنو حارث بن فہر سے تھا،انہیں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،ان کے بیٹے ان سے منسوب تھے،چنانچہ ابن بیضاءکہا جاتا،ان کا نام وعد دختر حجدم بن عمرو بن عائش بن ظرب بن حارث بن فہر تھا،ان کے دونوں بیٹے صحابی تھے،ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)ضبأعہ(رضی اللہ عنہا)

ضباعہ دختر عامر بن قرظ عامریہ،انہوں نے مکے میں اسلام قبول کیا،ابوموسیٰ نے اجازۃً ابوعلی سے، انہوں نےابو نعیم سے،انہوں نے محمد بن احمد سے،انہوں نے محمد بن عثمان بن ابو شیبہ سے،انہوں نے منجاب سے،انہوں نے عبداللہ بن اجلح سے،انہوں نے کلبی سے،انہوں نے عبدالرحمٰن عامری سے،انہوں نے اپنی قوم کے شیوخ سے،روایت کیا،کہ ہم عکاظ کے بازار میں تھے،کہ حضورِاکرم ہماے پاس آئے اور ہمیں اللہ کی نصرت اور اس کی حفاظت کی طرف بلایا،ہم نے آپ کی دعوت پر لبیک کہی،اتنے میں شجرہ بن فراس القشیری وہاں آگیا،اور اس نے حضورِاکرم کی اونٹنی کے پہلو میں نیزے کی انی چبھوئی جس پر وہ بھا گ کھڑی ہوئی اور آپ کو نیچے گرادیا،اس ضباعہ دخترقرظ مسلمان ہوگئی تھیں،وہاں موجود تھیں،جب اس نے یہ حالت دیکھی اور اپنے ابنائے عم بنوعامر کے پاس آئی اور کہنے لگی،اے آل عامر!تم میرے کس کام کے!تمہارے سامنے اللہ کے رسول ک۔۔۔

مزید

(سیّدہ)ضبأعہ(رضی اللہ عنہا)

ضباعہ دختر حارث انصاریہ،ام عطیہ کی ہمشیرہ ،ان سے ام عطیہ نے آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے،ترکِ وضوکی روایت کی،ابوعمر نے ان کا مختصراًذکر کیا ہے،لیکن ابن مندہ اور ابو نعیم نے ترجمہ مفردہ میں ان کا ذکر نہیں کیا،بلکہ ان کا ذکر اس حدیث میں کیاہے،جس میں آگ پر پکّی ہوئی اشیاء کے کھانے پر ترکِ وضو کا ذکر ہے،اور اسی حدیث میں اشتراط فی الحج کا ذکر ہے،ہم اس کا ذکر کریں گے۔ ابو نعیم نے طبرانی سے،انہوں نے علی بن عبدالعزیز سے،انہوں نے خلف بن موسیٰ بن خلیفہ عجمی سےانہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے اسحاق بن عبداللہ ہاشمی سے،انہوں نے ام عطیہ سے ،انہوں نے اپنی بہن ضباعہ سے روایت کی،کہ انہوں نے رسولِ اکرم کو حلوہ کھاتے دیکھا،آپ نے نماز ادا کی اور وضو نہیں کیا۔ اس حدیث کو محمد بن مثنی نے خلف بن موسیٰ سے،انہوں نے اپنے والد سے،اسی طرح انہوں نے ام عطیہ سے،انہوں ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)ضبأعہ(رضی اللہ عنہا)

ضباعہ دختر زبیربن عبدالمطلب بن ہاشم قرشیہ،ہاشمیہ،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمزاد اور مقداد بن عمرو کی زوجہ تھیں،انہوں نے عبداللہ اور کریمہ کو جنم دیا،اول الذکر جنگ جمل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے ساتھ تھے،اور وہاں مارے گئے تھے،ان سے ابنِ عباس،جابر،انس عائشہ ،عروہ اور اعرج نے روایت کی۔ اسماعیل بن علی وغیرہ نے باسنادہم تا محمد بن عیسیٰ،زیاد بن ایوب بغدادی سے،انہوں نے عباد بن عوام سے،انہوں نے ہلال بن حبان سے ،انہوں نے عکرمہ سے،انہوںے ابن عباس سے روایت کی،کہ ضباعہ دختر زبیر حضورِاکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اور عرض کیا،یا رسول اللہ میں حج کرنا چاہتی ہوں،کیامیں کوئی شرط لگاؤں،فرمایا،ہاں پوچھاکیسے؟فرمایا،یوں کہو۔ "لَبَّیک،اَلّٰھُمَّ لَبَّیک محلی مِنَ الارضِ حَیثُ تَجبَسنِی "،اے اللہ میں تیری خدمت میں حاضر ہوں،میں تیری خدمت میں حاضر ہوں،اپنے اس مقام سے جہاں تو۔۔۔

مزید

(سیّدہ)ضحاک(رضی اللہ عنہا)

ضحاک دختر مسعود اور حویصہ اور محیصہ کی ہمشیرہ تھیں،یزید بن عیاض نے سہل بن عبداللہ سے، انہوں نے سہل بن ابو حثمہ سے رایت کی،کہ ضحاک دختر مسعود،غزوۂ خیبر میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ تھیں،ابن مندہ ابو نعیم نے ذکر کیا ہے،ابو نعیم لکھتے ہیں،کہ ابن مندہ نے اسی طرح روایت کیا ہے،لیکن انہوں نے اس خاتون کو ام ضحاک لکھا ہے،ہم کنیتوں کے تحت اس پر پھر گفتگو کریں گے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )دقرہ( رضی اللہ عنہا)

دقرہ ام وال اُذینہ،طبرانی نےان کا ذکر کیا ہے،ایک روایت کے مطابق انہیں صحبت نصیب ہوئی،لیکن ان سے کوئی روایت مذکور نہیں،جناب عائشہ سے روایت کی،ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )درہ( رضی اللہ عنہا)

درہ دختر ابو لہب قرشیہ ہاشمیہ،انہوں نے اسلام قبول کر کے ہجرت کی،یہ خاتون حارث بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کی زوجہ تھیں،ان کے بطن سے عقبہ،ولید اور ابو مسلم پیداہوئے۔ محمد بن اسحاق نے نافع اور زید بن اسلم سے ،انہوں نے ابن عمر سے،انہوں نے سعید بن ابو سعید مقبری اورابن منکدرسے،انہوں نے ابوہریرہ سے،انہوں نے ابوہریرہ سے،انہوں نے عمار بن یاسر سے روایت کی کہ درہ دختر ابو لہب ہجرت کر کے مدینے آئیں اور رافع بن معلی زرقی کے مکان میں قیام کیا،بنو زریق کی خواتین نے ان سے کہا کے تجھے ہجرت سے کیا فائدہ ہوگا،جبکہ قرآن میں تیرے باپ کے بارے میں ارشاد ہو ا ہے،"تَبَّت یَدَا اَبِی لَھَبٍ وَّ تَب"، درہ حاضر خدمت ہوئیں،اور ان عورتوں کی گفتگو کا ذکر کیا،آپ نے درہ کوتسلی دی اور فرمایاتو آرام سے بیٹھ،جب ظہر کی نماز ادا ہو چکی ،توآپ منبر پر بیٹھےاور فرمایا،میرے قرابت داروں پر طعن و ت۔۔۔

مزید

(سیّدہ)آمنہ (رضی اللہ عنہا)

آمنہ رضی اللہ عنہا دختر عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس جو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ تھیں،فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا،جو سعد حلیف بنو مخزوم سے ان خواتین میں شامل تھیں، جوفتح مکہ کے موقعہ پرہندہ زوجہ ابو سفیان کے ساتھ اسلام لائی تھیں،جعفر نے ان کا ذکر کیا ہے، انہوں نے زاہد بن احمد سے،انہوں نے ابو لبابہ سے،انہوں نے عماد بن حسن سے،انہوں نے سلمہ بن فضل سے،انہوں نے ابن اسحاق سے روایٔت کی،ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید