ابوزیدانصاری رضی اللہ عنہ،ابوزید کے داداتھے،اوربنوحارث بن خزرج سے تعلق رکھتے تھے، انہیں صحبت نصیب ہوئی،ابنِ نمیر وغیرہ کہتے ہیں،کہ ابوزید تین تھے،ابوزید جامع القرآن ابوزید جو غزوہ بن ثابت کے داداتھے،ابوزید جو ابوزید نحوی کے داداتھے،بقول ابوعمر،ابوزید چھ تھے،جیسا کہ ان کی کتاب میں مذکور ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوزیداوس یا معاذ،اس میں شبہ ہے،ایک روایت کے روسے یہ وہی ابوزیدہیں،جنہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن حکیم جمع کیا تھا،بقول علی بن مدینی جن صاحب نے جمع قرآن کیا تھا،ان کا نا م اوس تھا،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوزییدبن صلت،کثیربن صلت کے بھائی تھے،صلت بن زیید نے اپنے والد سے انہوں نےاپنےدادا ابوزییدسےروایت کی،کہ حضورِاکرم نے انہیں خرص کا والی مقررکیا تھا،ابومندہ اور ابونعیم نے انکا ذکرکیاہے۔ ` ۔۔۔
مزید
ابوزیدغافقی،مصری شمارہوتے ہیں،ان سے عمرو بن شراحیل المعافری نے روایت کی،حضورِ اکرم نے فرمایا،مسواک تین درختوں سے بنائے جائیں،پیلو،زیتون اروبن،ابونعیم اور ابن مندہ نے ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوزیدقیس بن عمروالہمدانی،انہوں نے حصین الحارثی کے ساتھ بنومراد کے خلاف جنگ کا معاہدہ کیا تھا،پھرانہوں نے اسلام قبول کرلیا،اورحضورِاکرم نے انہیں اپنی مکاتبت سے نوازا،یہ ہشام کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوزیدقیس بن سکن بن قیس بن زعوراءبن حرام بن جندب بن عامربن غنم بن عدی بن نجار انصاری،خزرجی،بخاری،اپنی کنیت سے مشہورہیں،غزوۂ بدرمیں موجودتھے،ابوجعفرنے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائےبدرازبنوعدی بن نجاروازبنوحرام بن جندب،ابوزیدقیس بن سکن نام لیاہے،پہلاقول ابن اسحاق اورابوعمرکاہے،واقدی اور ابن کلبی نے انہیں جامعین قرآن میں شامل کیا ہے،اوراس کی دلیل انس بن مالک کایہ قول ہےکہ جامعین قرآن میں میراایک چچابھی تھا،اوردونوں جامعین قرآن بنونجارسے تھے،اورزید بن حرام پر ان کا نسب مل جاتاہے۔ موسیٰ بن عقبہ کا قول ہے،کہ ابوزیدقیس بن سکن ہجری میں جسرابوعبیدہ میں شہیدہوئے تھے، ابوعمرنے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوزیدسعدبن عبید بن نعمان بن قیس بن عمروبن زید بن امیہ بن صبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری،اوسی کہتے ہیں،یہ ان لوگوں میں سے ہیں، جنہوں نے حضورِاکرم کے عہد میں قرآن جمع کیا تھا،ایک گروہ کا خیال ہے کہ ان کا نام محمدبن نمیر تھا،ہوسکتاہےکہ دونوں نے قرآن جمع کیاہو۔ قتادہ نے جناب انس سے روایت کی کہ بنوخزرج اور اوس مناقب میں باہم مقابلہ کیا کرتے تھے، بنواوس کہتے ہم میں سے حنظلہ بن عامر تھے،جنہیں فرشتوں نے غسل دیا،عاصم بن ثابت ہمارے آدمی تھے،جنہیں(جن کی لاش کو)شہد کی مکھیوں نے مشرکوں کی دست برد سے بچایا تھا،وہ شخص بھی ہم سے تھا(سعد بن معاذ) جن کی موت پر عرش ِمجید کانپ اٹھاتھا،اسی طرح خزیمہ بن ثابت بھی ہمارے قبیلے سے تھے،جن کی شہادت کو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوشہادتوں کے برابر قراردیاتھا،جوا۔۔۔
مزید
ابوزیدثابت بن زیدانصاری،بقول عباس وہ دوری تھے،یحییٰ بن معین سے میں نے سنا کہ اس ابوزید کے بارے میں جس نے قرآن جمع کیاتھا،پوچھاگیا،توابوعمر نے کہا،کہ میں زید بن ثابت کے علاوہ اور کسی کو نہیں جانتا،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوزیدعمروبن اخطب انصاری،ایک روایت کی روسے وہ عدی بن حارثہ بن ثعلبہ بن عمروبن عامر کی اولاد سے تھے،اوراوس اور خزرج ان کے بھائی تھے،جس شخص سے ان کی یہ روایت منسوب ہے، اس نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے،عمروبن اخطب بن رفاعہ بن محمود بن بشر بن عبداللہ بن ضیف بن احمربن عدی بن ثعلبہ بن حارثہ بن عمروبن عامرالانصاری،ہرچندیہ اوس اور خزرج کی اولاد سے نہیں ہیں لیکن انہیں انصاری اس لئے کہاجاتاہے،کیونکہ یہ عدی بن حارثہ بن ثعلبہ بن عمروبن مزیقیا بن عامر ماءالسماءکی اولادسے تھے،جو ان کے بھائی تھے،کیونکہ اوس اور خزرج دونوں حارثہ بن ثعلبہ کی اولاد سے تھے،اورعربوں میں اکثر ایساہوتا ہےکہ وہ اپنے بھائی کے بیٹے کو اس کے چچاکی طرف اس کی شہرت کی وجہ سے منسوب کردیاکرتے تھے۔ ایک راویت کی روسےوہ حارث بن خزرج کی اولاد سے تھے،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسل۔۔۔
مزید
ابوزینب بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ،اصبغ بن نباتہ نے روایت کی،کہ ہم ان لوگوں کی تلاش میں تھے،جنہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خمِ غدیر پر خطبہ دیتے سُناتھا،مجمع میں دس بارہ آدمی اُٹھ کھڑے ہوئے،جن میں ابوایوب انصاری اور ابوزینب بن عوف شامل تھے،ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کواس موقعہ پر دیکھا،کہ آپ نے اپناہاتھ آسمان کی طرف بلندکیا،اورفرمایا،اے لوگو!کیاتم شہادت دیتے ہو،کہ میں نے دین کی تبلیغ کی اور تمہیں پندونصائح سے نوازا،لوگوں نے حضورِاکرم کے ارشادکی تصدیق کی،اس کے بعد فرمایا،اللہ تعالیٰ میراوالی ہے، اور میں مومنوں کا والی ہوں،جس کامولیٰ میں ہوں،علی بھی اس کامولیٰ ہے،اے اللہ جوشخص اس سے محبت کرے،توبھی اس سے محبت کر،اورجوشخص اس سے عداوت رکھے تو بھی اس سے بغض رکھ،ابوموسیٰ نے ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید