ابوشعیب انصاری،ابومسعوداورجابرنے ان سے روایت کی ہےیحییٰ بن محمود اورابویاسرنے باسنادہماتا مسلم بن حجاج بتایاکہ انہیں قتیبہ اور عثمان بن ابی شیبہ نے جریرسے ،انہوں نے اعمش سے،انہوں نے ابووائل سے،انہوں نے ابومسعودانصاری سےروایت کی کہ انصارکے ایک آدمی کا نام ابوشعیب تھا،ان کاایک غلام تھا،موٹاتازہ ان کی ملاقات حضورِاکرم سے ہوئی،آپ کے چہرے پر انہیں بھوک کی علامات نظرآئیں،انہوں نے اپنے غلام سے کہا،میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرناچاہتاہوں،تم پانچ آدمیوں کا کھاناتیارکروانہوں نے پانچوں میں پانچویں(حضورِاکرم) کودعوت دی،چنانچہ آپ کے پیچھے ای زائد آدمی بھی ہو لیا،جب دروازے پر پہنچے،توآپ نے میزبان سے فرمایا،یہ آدمی ازخودہمارے پیچھے آگیا ہے،اگرتم اجازت دوتوٹھہرجائے ورنہ واپس چلا جائے،میزبان نے اجازت دے دی،شعبہ،ابومعاویہ اورابن ن۔۔۔
مزید
ابوشبات،ان کا نام خدیج بن سلامہ تھا،ہم ان کا ترجمہ خدیج کے تحت بیان کرآئے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
ابوشمیلہ شنوی،عکرمہ نے ابنِ عباس سے روایت کی کہ ابوشمیلہ شراب میں بد مست تھا،جب حضورِاکرم کے سامنے مستی کی حالت میں لایاگیا،توآپ نے مٹھی بھرمٹی اٹھائی،اوراس کے منہ پردے ماری،فرمایاکہ اسے پیٹو،چنانچہ حاضرین نے اسکی اچھی خاصی مرمت کی،ہاتھ،جوتے اورڈنڈے استعمال کئے گئے،ابوموسیٰ نے ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوشریح انصاری،انہیں صحبت نصیب ہوئی،ان کا ذکر صحابہ میں ہواہے،ابوعمرکہتے ہیں کہ میں ان کی کنیت کے بغیر ان کے متعلق کچھ نہیں جانتا،ابوعمرنے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوشریح ہانی بن یزید الحارثی،عبیداللہ بن احمد بغدادی نے باسنادہ یونس سے،انہوں نے قیس بن ربیع سے،انہوں نے مقدام بن شریح بن ہانی سے ،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی،کہ ہانی بنوحارث بن کعب کے وفدکے ساتھ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضرہوئے،ان کی کنیت ابوالحکم تھی،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بُلایا،اورفرمایا کہ حکم اللہ کا صفاتی نام ہے،اس لئے ابوالحکم تمہاری کنیت ہوسکتی،انہوں نے کہا یارسول اللہ !جب میرے قبیلے میں کوئی جھگڑا ہوجاتا ہےتو وہ میرے پاس آجاتےہیں،دونوں فریق میرے فیصلے پرراضی ہوکرجاتے ہیں ،اسی لئے وہ مجھے ابوالحاکم کہتے ہیں، آپ نےدریافت فرمایا،تمہارے بڑے بیٹے کا کیا نام ہے،عرض کیا شریح،فرمایا،آج سے تم ابوشریح ہو،اس کے بعد حضورِاکرم نے دونوں بیٹوں کے لئے دعائے خیرفرمائی،ان کے بیٹے شریح بن ہانی تھے،جوحضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ۔۔۔
مزید
ابوشریح ہانی بن یزید الحارثی،عبیداللہ بن احمد بغدادی نے باسنادہ یونس سے،انہوں نے قیس بن ربیع سے،انہوں نے مقدام بن شریح بن ہانی سے ،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی،کہ ہانی بنوحارث بن کعب کے وفدکے ساتھ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضرہوئے،ان کی کنیت ابوالحکم تھی،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بُلایا،اورفرمایا کہ حکم اللہ کا صفاتی نام ہے،اس لئے ابوالحکم تمہاری کنیت ہوسکتی،انہوں نے کہا یارسول اللہ !جب میرے قبیلے میں کوئی جھگڑا ہوجاتا ہےتو وہ میرے پاس آجاتےہیں،دونوں فریق میرے فیصلے پرراضی ہوکرجاتے ہیں ،اسی لئے وہ مجھے ابوالحاکم کہتے ہیں، آپ نےدریافت فرمایا،تمہارے بڑے بیٹے کا کیا نام ہے،عرض کیا شریح،فرمایا،آج سے تم ابوشریح ہو،اس کے بعد حضورِاکرم نے دونوں بیٹوں کے لئے دعائے خیرفرمائی،ان کے بیٹے شریح بن ہانی تھے،جوحضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ۔۔۔
مزید
ابوشریح،انہوں نےحضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اعتی الناس علی اللہ عزوجل ، حدیث روایت کی،جعفرانہیں برذعی کہتے ہیں،بعض لوگ خزاعی اوربعض کچھ اور،ابوموسیٰ نے ان کاذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوشریح خزاعی کعبی،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،ایک روایت میں خویلد بن عمرو،ایک میں عمروبن عمرو،ایک میں کعب بن عمرو اور ایک میں ہانی بن عمروہے،فتح مکہ سے پیشتر ایمان لائے، بنوکعب بن خزاعہ کا ایک علم فتح مکہ میں ان کے پاست تھا،ہم باب حاء میں ان کا ذکر کرآئے ہیں، ابو شریح اپنے عہد کے عقل مندوں میں شمارہوتے تھے وہ کہاکرتے،کہ جب تمہارے کانوں میں یہ بات پہنچے کہ میں نے نکاح کرلیا،یامیں نے سلطان سے نکاح کی درخواست کی ہے،توجان لو کہ میں پاگل ہوگیاہوں،اسی طرح اگر کسی کو میراگھی،دُودھ یا برۂ آہو مل جائے،تومیری طرف سے اسے کھانے پینےکی اجازت ہے۔ کئی آدمیوں نے باسنادہم تا ابوعیسیٰ ترمذی قتیبہ سے،انہوں نے لیث بن سعد سے،انہوں نے سعید بن ابوسعیدسے،انہوں نے ابوشریح عدوی سے روایت کی،کہ انہوں نے عمروبن سعیدسے،جو بعوث(معدی کرب کا گھوڑا)۔۔۔
مزید
ابوثعلبہ انصاری،انہیں صحبت نصیب ہوئی،حماد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے،انہوں نے مالک بن ابوثعلب سے،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی،کہ حضورِاکرم نے وادی مہروز کے بارے میں حکم دیا،کہ اس کا پانی ٹخنوں تک روکاجائے،اور پھر بند کھول دیا جائے،اور اوپر کا آدمی نچلے حصے کے مالک کو محروم نہ رکھے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوثعلبہ خشنی،ان کے اور ان کے والد کے نام کے بارے میں بڑااختلاف ہے،کسی روایت میں ان کانام جرہم ،کسی میں جرثوم بن ناشب،کسی میں ابن ناشم،کسی میں ابن ناشر،کسی میں عمروبن جرثوم، کسی میں لاشر بن جرہم،کسی میں اسود بن جرہم اور کسی میں ابن جرثومہ مذکور ہے،لیکن ان کی نسبت اور صحبت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں،اور خشینہ کا نام وائل بن نمر بن ویرہ بن ثعلب بن حلوان تھا،اور نمر بنو قضاعہ سے کلب بن ویرہ کا بھائی تھا،اوراپنی کنیت کی وجہ سے مشہور تھے،انہوں نے حضورِاکرم سے بیعت رضوان کی تھی اور امیر معاویہ کے عہد میں شام میں فوت ہوئے،ایک روایت میں ہے،کہ عبدالملک بن مروان کے زمانۂ خلافت میں فوت ہوئے۔ ابنِ کلبی لکھتے ہیں کہ لاشربن جرہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت رضوان کی،اور آپ نے خیبر کے خراج سے ان کے لئے پیداوار کا ایک حِصہ مقرر ۔۔۔
مزید