ابوثعلبہ ثقفی،وہ کردم کے عمزاد تھے اور حدیث کردم میں ان کا ذکر آیا ہے،جعفر بن عمرو بن امیہ نے ابراہیم بن عمر سے روایت کی،کہ انہوں نے کردم بن قیس سے سُنا،کہ ایک دفعہ وہ اپنے عمزاد ابو ثعلبہ کے ساتھ تھا،اور دن سخت گرم تھا،میرے پاس جوتے تھے،اوروہ ننگے پاؤں تھا،اس نے مجھ سے جوتے مانگے،میں اس شرط پر رضامند ہوا،کہ وہ اپنی لڑکی میرے نکاح میں دیدے،کافی پس وپیش کے بعد وہ اس پر رضامند ہوا،جب واپس گھر پہنچے ،تواس نے جوتے واپس کر دئیے،لیکن لڑکی کے نکاح سے منکر ہوگیا،میں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے صورتحال بیان کی،تو آپ نے اس شرط کو باطل فرمادیا،کہ اس میں میرے لئے کو ئی بھلائی نہیں ہے،تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوثعلبہ اشجعی،بقول امام بخاری انہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،یہ حجازی شمار ہوتے ہیں،ابوالفرج بن ابوالرجاء نے اذناً باسنادہ ابن ابی عاصم سے ،انہوں نے حسن بن علی سے،انہوں نے حماد بن مسعدہ سے،انہوں نے ابن جریج سے،انہوں نے ابوالزبیر سے،انہوں نے عمر بن بہان سے،انہوں نے ابوثعلبہ اشجعی سے روایت کی،انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا،یارسول اللہ !قبولِ اسلام کے بعد میرے دو بیٹے فوت ہو چکے ہیں،حضورِاکرم نے فرمایا، جسے ایسی صورت پیش آئے،اللہ تعالیٰ اسے اسکے بچوں پر رحم فرماکر جنّت عطاکرتا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوثورالفہمی،فہم بن عمرو بن قیس بن عیلان سے تھے،انہیں صحبت میسر آئی ،لیکن ان کا اور ان کے والدکا نام نہیں معلوم ہوسکا،اہل مِصران کی حدیث سے متعارف ہیں،عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابوزکریا یحییٰ بن اسحاق بن کنانہ سے،انہوں نے ابن الہیعہ سے(ح)میرے والد نے اسحاق بن عیسیٰ سے،انہوں نے ابن لہیعہ سے، انہوں نے یزید بن عمرو المعافری سے ،انہوں نے ابوثور فہمی سےروایت کی کہ ہم حضورِ اکرم کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے،کہ معافر قبیلے کے کپڑے حضورِاکرم کے سامنے لائے گئے،ابوسفیان نے کہا،لعنت ہو ان کپڑوں پر،اوران کے بننے والوں پر،حضوراکرم نے فرمایا،ایسامت کہو،یہ میرے لوگ ہیں اورمیں ان کا ہوں،تینوں نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوصالح مولی ام ہانی،حسن بن سفیان نے انہیں صحابہ میں شمارکیاہے،ابوموسیٰ نے اذناً حسن بن احمد سے،انہوں نے احمد بن عبداللہ بن احمدسے،انہوں نے ابوعمروبن حمدان سےمانہوں نے حسن بن سفیان سے،انہوں نے سعید ذوئب سے،انہوں نے عبدالصمدسے،انہوں نے رزین سے،انہوں نے ثابت سے،انہوں نے ابوصالح مولی ام ہانی سے روایت کی کہ انہیں ام ہانی دخترابوطالب نے آزادکردیا،میں ہرمہینے یا دومہینے بعدان سے ملنے جاتاتھا،ایک دفعہ ان کے پاس مَیں بیٹھاہواتھا،کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے،آپ کو دیکھتے ہی ام ہانی نے کہا۔ اے ابنِ عم!میرے اچھے اعمال مجھے بھاری معلوم ہوتے ہیں،نیزمیری قوتِ عمل کمزورہوگئی ہے، کیاکوئی بچاؤ کی صورت ہے،آپ نےفرمایا،ام ہانی خیرکے کئی دروازے ہیں،اگرتوسودفعہ الحمد پڑھے،توتیرایہ عمل سوغلام آزاد کرنے کےبرابرہوگا،اگرسوباراللہ اکبرکہےتواس کاثواب اتنا ہوگا،جتناکہ ایک ایسے آدمی کوجوسوگھوڑے زین۔۔۔
مزید
ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف قرشی ہاشمی،حضورِاکرم کے ابنِ عم اوررضاعی بھائی تھے،دونوں نے حلیمہ سعدیہ کا دودھ پیاتھا،ان کی والدہ کا نام غزنہ دخترقیس بن ظریف تھا،جوفہر بن مالک کی نسل سے تھے،اکثرکی رائے ہے،کہ ابراہیم بن منذر،ہشام بن کلبی اور زبیر بن بکارانہی کے اسلاف ہیں۔ ابوسفیان کا نام مغیرہ تھا،بعض لوگوں کاخیال ہے،کہ ان کی کنیت ہی ان کا نام تھی،اور مغیرہ ان کا بھائی تھا،جوشکل وشباہت میں حضورِاکرم سے ملتے جلتے تھےوہ جعفربن ابوطالب،حسن بن علی،فثم بن عباس کے علاوہ ابوسفیان بھی تھے،ابوسفیان خوشگوشاعروں میں تھے،حضورِاکرم کی ہجوکے جواب میں حسان بن ثابت نے ذیل کے دوشعرکہے تھے۔ ۱۔الا ابلغ اباسفیان عنی مغلغلہ فقدبرح الخفاء ترجمہ۔ابوسفیان کومیری طرف سے یہ بات پہنچادو،جوشہربہ شہر میں پھیلتی جائیگی کہ چھپی ب۔۔۔
مزید
ابوسفیان بن محصن،انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا،ان سے عدی مولی ام قیس نے روایت کی،احمد بن حازم نے صالح مولی التؤامہ سے ،انہوں نے عدی مولی ام قیس سے ، انہوں نےسفیان بن ابومحصن سے روایت کی،کہ ہم نے یوم النحر کو حضورِاکرم کے ساتھ حمزۃ العقبہ پرکنکریاں پھینکیں اورپھرہم نے کرتے پہن لئے،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ابونعیم لکھتے ہیں،ابن مندہ نے ذکرکیا ہے،لیکن ابوسنان نام لکھاہےاورابوسفیان کو غلط کہاہےاور باسنادہ ابراہیم بن محمد اسلمی سے،انہوں نے صالح سے،انہوں نے عدی سے،انہوں نے ابوسنان سے حدیث رمی بیان کی۔ ۔۔۔
مزید
ابوسفیان بن وہب بن ربیعہ بن اسد بن صہیب بن مالک بن کثیربن غنم بن دودان بن اسدبن خزیمہ اسدی،غزوہ بدرمیں موجودتھے،یہ جعفرالمستغفری کا قول ہے،ابوموسیٰ نے مختصراً ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوسفیان مدلوک،وہ اپنے آزادکردہ غلام کے ساتھ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہر دومسلمان ہوگئے،پھر آپ نے برکت کے لئے ان کے سرپرہاتھ پھیرا،چنانچہ عمر بھران کے وہ بال سیاہ رہے اورباقی سفیدہوگئے تھے،ابوعمرنے ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نام ونسب: پورا نام صخر بن حرب بن اميہ بن عبد شمس۔اموی قریشی الكنانی۔ لقب: ابو حنظلہ تاريخ ولات:63 قبل ہجرت / 560ء (عام الفيل سے دس سال قبل) مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ سیرت وخصائص: قبیلہ قریش کی اموی شاخ کے ایک سردار تھے۔ مدت تک اسلام کی مخالفت کرتے رہے۔ غزوہ بدر اورغزوہ احد کے معرکوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف جنگ لڑی۔ پھر ایک لشکر جرار لے کر مدینے پر چڑھائی کی مگر مسلمانوں نے مدینے کے گرد خندق کھود کر حملہ آوروں کے عزائم ناکام بنادیا۔ ابوسفیان نے حدیبیہ کے مقام پر صلح کی۔ مسلمانوں نے مکے پر چڑھائی کی تو ابوسفیان نے شہر نبی اکرمﷺ کے حوالے کردیا۔ نبی اکرم ﷺنے مکے میں داخل ہوتے وقت اعلان فرمایا کہ جو لوگ ابو سفیان کے گھر میں پناہ لیں گے، ان سے تعرض نہیں کیا جائے گا۔ ابوسفیان کے لیے یہ بہت بڑا اعزاز تھا۔ فتح مکہ ہوجانے کے بعد حلقہ بگ۔۔۔
مزید
عبداللہ بن ابوسفیان کے والد تھے،انہوں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی کہ رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے،وہ مدنی ہیں،ابوعمر نے ان کا ذکرکیا ہےاورلکھاہے کہ مجھے اس حدیث کے مرسل ہونے کاخدشہ ہے۔ ۔۔۔
مزید