ابومکرم اسلمی،محمد بن ابوبکرمدینی اذناً ابوعبداللہ حسین بن عبدالملک سے،انہوں نےعبدالرحمٰن بن محمد سے،انہوں نے عبدالصمدبن محمد عاصمی سے بلخ میں انہوں نے ابراہیم بن احمدمستملی سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن محمد الحرانی سے،انہوں نے احمد بن محمد الذہبی سے،انہوں نے محمد بن عبدالملک زنجویہ سے،انہوں نے شریح بن نعمان سے،انہوں نے ابوالزناد سے،انہوں نے اپنے والدسے،انہوں نے عروہ بن زبیرسے،انہوں نے ابومکرم اسلمی سے جوحضورِ اکرم کے صحابی تھے،روایت کی،کہ جب سورۂ روم نازل ہوئی،تومشرکین مکہ نے کہا،اے ابوبکر!یہ کیامعاملہ ہے، کیا یہ تمہارے ساتھی کاکلام ہے،حضرت ابوبکرنے کہا،بخدا یہ بات نہیں،یہ اللہ تعالیٰ کاکلام ہے، ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے،مزید ان کا بیان ہے کہ انہوں نے تاریخ بلخ میں اسی طرح مرقوم دیکھا ہے،ابوموسیٰ کے علاوہ اوروں نے ان کا نام نیاربن مکرم ۔۔۔
مزید
ابُومُکعت اسدی،ان کی حدیث فضل ضبی نے ان کی دادی سے(جوبنواسد کی ایک خاتون تھیں)، ابومکعت اسدی سے روایت کی وہ کہتے ہیں،کہ جب انہوں نے حضوراکرم کی زیارت کی،توذیل کے دو اشعار پڑھے۔ یقول ابومکعت صادقا علیک السلام اباالقاسم سلام الا لہ و ریحانہ وروح المصلین والصائم حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اے ابومکعت!تم پر بھی سلام ہو،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے،ابونعیم کی رائے ہے کہ ابن مندہ کو غلطی لگی ہے،کیونکہ ان کی کنیت ابومصعب ہے نہ کہ ابومکعت،ابن اثیر کے مطابق ابن مندہ ٹھیک کہہ رہے ہیں،اورابونعیم غلطی پر ہیں،امیرابونصر نے ان کا ذکرکیاہےاور ان کی کنیت ابومکعت لکھی ہے،میم پر پیش اورغین پر زَبرہے اور یہ اسدی ہیں،اثیری اورابن دباغ نے بھی ان کا ذکرکیاہےاوران کا نام ابومکعت عرفطہ بن فضلہ بن اشتر بن حجوان بن نقع۔۔۔
مزید
ابومکنف،بروایتے ان کا نام عبدرضی تھا،حضوراکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورفتح مصر میں شریک تھے،اوربقول ابوسعید حضورِاکرم نے انہیں ایک فرمان عطافرمایاتھا،ابن مندہ اورابونعیم نے مختصراً ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابومصعب انصاری،ابونعیم کہتے ہیں،ان کے بارے میں اختلاف ہے،ابوموسیٰ نے اذناً ابوعلی حداد سے، انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے محمد بن اسحاق قاضی سے،انہوں نے احمد بن سہل بن ایوب سے،انہوں نے علی بن بحرسے،انہوں نے عیسٰی بن یونس سے،انہوں نے عبدالحمیدبن جعفرسےروایت کی،کہ انہوں نے ابومصعب انصاری سے سُنا،حضورِاکرم نے فرمایا،خوش چہرہ لوگوں سے بھلائی کی توقع رکھو،ابوموسیٰ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابومصعب اسدی،ابوموسیٰ نے اجازۃً ابوعلی سے،انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے علی بن عبداللہ المعدل سے،انہوں نے ابوروق احمد بن محمد بن بکرسے،انہوں نے ریاشی سے،انہوں نے سلیمان بن عبدالعزیزسے،انہوں نے اپنے والدسےروایت کی،کہ بنواسد کاوفدحضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا،جن میں عرفطہ بن نصلہ بھی تھا،اس نے ذیل کا شعرپڑھا۔ آپ نے اس کے جواب میں وعلیکم السلام فرمایا،اس حدیث کو ابونعیم اورابن مندہ نے ابومکعت کے ترجمے میں بیان کیاہے،جس کامکمل ذکربعدمیں آئے گا،ابونعیم کہتے ہیں کہ ابن مندہ نے غلطی کا ارتکاب کیاہے،کیونکہ ابومصعب کی جگہ ابومکعت لکھ کریہ حدیث نقل کردی ہے،چنانچہ ابوموسیٰ نے بھی ابومصعب ہی لکھاہے،اورحدیث کے آخرمیں یہ لکھ دیاہےکہ ابونعیم نے یہ حدیث ابومکعت کے ترجمے میں بیان کردی ہے،اورآگےتحریرکردیاہے کہ ابونعیم سے۔۔۔
مزید
ابومصعب ،غیرمنسوب ہیں،طالوت بن عباد نے جریر بن حازم سے،انہوں نے عبدالمالک بن عمیرسے روایت کی کہ مدینے میں ابومصعب نامی ایک لڑکاتھا،اس نے حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضرہوکرگزارش کی،یارسول اللہ!مجھے بہشت میں اپنے ساتھ رکھیں گے،فرمایا،ٹھیک ہے،تم اس سلسلے میں کثرت عبادت سے میری مددکرو،ابوعلی نے ان کا ذکرکرکےابوعمرپراستدراک کیاہے، غالباً ان کا ذکرپہلے آچکاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعزیزبن جندب بن نعمان،انکا ذکرصحابہ میں کیا گیاہے،ابوعمرنے اختصار سے ان کا ذکرکیا ہے، اور لکھاہےکہ میں انہیں نہیں جانتا۔ ۔۔۔
مزید
ابوعزیز،ان کا نام ابیض تھا،اورہم باب ہمزہ میں ان کا ترجمہ لکھ آئے ہیں،ابوموسیٰ نے مختصراً ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوبہیہ فزاری،ان سے ان کی بیٹی بہیہ نے روایت کی،کہ میرے والد نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مُہر نبوّ ت کو ہاتھ لگانے کی اجازت طلب کی،اور آپ کی قمیص میں ہاتھ ڈال کر اسے چھوأ، پھر انہوں نےدریافت کیا یارسول اللہ!وہ کونسی اشیاءہیں،جن کے استعمال سے روکناناجائز ہے!آپ نے فرمایا،نمک اور پانی،ابن مندہ اور ابونعیم کے علاوہ ابوموسیٰ نے بھی ان کا ذکر کیا ہے،اور لکھا ہے کہ کئی غیرمعروف لوگوں نے بھی ان کا ذکرکیا ہے،ابنِ مندہ نےکنیتوں میں ان کا ذکر کیا ہے،اس لئے استدراک کی گنجائش نہیں۔ ۔۔۔
مزید
ابوبہیتہ،ان سے ان کی بیٹی بہیتہ نے روایت بیان کی،کہ ان کے والد نے حضورِ اکرم سے افضل الاعمال کے بارے میں سوال کیا،آپ نے فرمایا،اچھے طریقے سے وضوکرنا،وقت پر نماز اداکرنا، امربالمعروف نہی عن المنکر اور تو خداسے ایسی حالت میں ملے،کہ تیری زبان پراس کا ذکر ہو،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،اور لکھا کہ حافظ ابوعبداللہ البکری کہتے ہیں،کہ وہ بھی بہیہ کے والد کے ساتھ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے،اور ابوعبداللہ البکری نے المعرفتہ میں بھی ان کا ذکر بغیراز سند کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید