جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

پسنديدہ شخصيات

ابوبہیتہ رضی اللہ عنہ

ابوبہیتہ،ان سے ان کی بیٹی بہیتہ نے روایت بیان کی،کہ ان کے والد نے حضورِ اکرم سے افضل الاعمال کے بارے میں سوال کیا،آپ نے فرمایا،اچھے طریقے سے وضوکرنا،وقت پر نماز اداکرنا، امربالمعروف نہی عن المنکر اور تو خداسے ایسی حالت میں ملے،کہ تیری زبان پراس کا ذکر ہو،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،اور لکھا کہ حافظ ابوعبداللہ البکری کہتے ہیں،کہ وہ بھی بہیہ کے والد کے ساتھ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے،اور ابوعبداللہ البکری نے المعرفتہ میں بھی ان کا ذکر بغیراز سند کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوبکربن زیدبن مہاجر رضی اللہ عنہ

ابوبکربن زیدبن مہاجر،بنوجہنیہ کے ایک آدمی سے،ان کاقول ہے کہ ان کاایک بھائی فوت ہوگیااور اس نےدودیناراپنےبعدچھوڑے،میں نے حضورِاکرم صلی اللہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا، یارسول اللہ میرابھائی فوت ہوگیاہے،اوراس کاترکہ صرف دودینارہیں،آپ نے فرمایا،گرم لوہے کےدوداغ اس کے بعداس آدمی نے کہا،اگرمیں نے حضوراکرم سے جھوٹ منسوب کیاہو تومیں بد ترین آدمی ہوں،ابن مندہ نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوبکربن زیدبن مہاجر رضی اللہ عنہ

ابوبکربن زیدبن مہاجر،بنوجہنیہ کے ایک آدمی سے،ان کاقول ہے کہ ان کاایک بھائی فوت ہوگیااور اس نےدودیناراپنےبعدچھوڑے،میں نے حضورِاکرم صلی اللہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا، یارسول اللہ میرابھائی فوت ہوگیاہے،اوراس کاترکہ صرف دودینارہیں،آپ نے فرمایا،گرم لوہے کےدوداغ اس کے بعداس آدمی نے کہا،اگرمیں نے حضوراکرم سے جھوٹ منسوب کیاہو تومیں بد ترین آدمی ہوں،ابن مندہ نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوبکرچندصحابہ سے رضی اللہ عنہم

ابوبکرچندصحابہ سے،ابوحرم مکی بن ریان بن شیتہ النحوی نےباسنادہ یحییٰ سے،انہوں نےمالک سے، انہوں نےسمی مولیٰ ابوبکرسے،انہوں نے ابوبکرمحمدبن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے، انہوں نےبعض صحابہ سےروایت کی،کہ رسولِ اکرم نےفتح مکہ کے موقعہ پراپنےرفقاء کوحکم دیاکہ وہ افطارکردیں،اوردشمنوں پراپنی قوت اورطاقت کااثرڈالیں اورحضوراکرم خودروزے سے تھے۔ اورابوبکرسےمروی ہےکہ جس شخص نےمجھ سےیہ حدیث بیان کی اس نےاسےبتایا،کہ خود میں نے رسول کریم کوعرج کےمقام پرگرمی یاشدت پیاس سےسرپرپانی ڈالتے دیکھا،پھررسولِ کریم کو بتایاگیا،چونکہ آپ نے روزہ رکھاہے،اس لئے لوگوں نےبھی روزہ رکھ لیاہے،چنانچہ جب آپ الکویدکےمقام پرپہنچے،توآپ نےپانی منگاکرافطارکیا،اورلوگوں نےبھی افطار کرلیا، ابن مندہ اور ابونعیم نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ

ابوبکرہ،ان کا نام نقیع بن حارث بن کلدہ بن عمرو بن علاج بن ابی سلمہ بن عبدالعزی بن غزہ بن عوف بن ثقیف الثغفی ہے،اورثقیف کا نام قسی تھا،ایک روایت میں ان کا نام ابن مسروح مولی حارث بن کلدہ مذکور ہے،ہم نے نقیع کے ترجمے میں ان کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے،وہ بس کرتا ہے۔ ان کی ماں کا نام سمیہ تھا،جوحارث بن کلدہ کی لونڈی تھی،اور زیاد بن ابیہ کے اخیانی بھائی تھے، ابوبکرہ ا ن لوگوں میں سے ہیں،جو محاصرۂ طائف کے موقعہ پر اپنے آقا کو چھوڑکر حضور اکرم کے پاس آگئے تھے اور اسلام قبول کر لیا تھا،اور آپ نے انہیں آزادفرمادیاتھا،اور ابوبکرہ کنیت عطاکی تھی،ابوبکر ہ کہاکرتے ،میں تمہارادینی بھائی ہوں،حضورِ اکرم کے مولیٰ ہوں،سب لوگ میرے باپ ہیں،لیکن اگر مجھے کسی آدمی سے منسوب کرناچاہتےہو توابن مسروح کہہ لو۔ جناب ابوبکرہ فاضل اور ص۔۔۔

مزید

ابوبصیر رضی اللہ عنہ

ابوبصیر،ان کا نام عتبہ بن اسید بن جاریہ بن اسید بن عبداللہ بن ابوسلمہ بن عبداللہ بن غیرہ بن عوف بن ثقیف ہے،یہ ابومسعود کا قول ہے،بقول ابن اسحاق ان کا سلسلۂ نسب عتبہ بن اسید بن جاریہ ہے اور ایک روایت میں عبید بن اسید بن جاریہ مذکورہے،وہ بنوزہرہ کے حلیف تھے،علامہ طبری لکھتے ہیں،کہ ابوبصیر کی ماں کانام سالمہ تھا،جوعبد بن یزید بن ہاشم بن مطلب کی بیٹی تھی،اور ابوبصیر وہی آدمی ہیں،جوصلح حدیبیہ کے بعد حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔ ابوجعفرعبیداللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے ،انہوں نے ابن اسحاق سے،انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے،انہوں نے مسور اور مروان سے روایت بیان کی،کہ جب صلح حدیبیہ کے بعد اچھی طرح امن قائم ہوگیا اور باہمی آمدورفت شروع ہوگئی،یہ حالت ہوگئی کہ جوآدمی بھی اسلام کے بارے م۔۔۔

مزید

ابوبحیر رضی اللہ عنہ

ابوبحیر،ان سے ان کے بیٹے بحیر نے روایت کی،کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار ایک گفتگو میں قرآن کا ذکرکیا،اور فرمایا کہ قرآن خدائے عزّوجلّ کا کلام ہے،ابن مندہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوضبیس رضی اللہ عنہ

ابوضبیس،انہیں صحبت نصیب ہوئی،بیعتِ رضوان اورفتح مکہ میں موجودتھے اورامیرمعاویہ کی خلافت کے آخری دَور میں فوت ہوئے،ابن مندہ ابونعیم نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالضحاک رضی اللہ عنہ

ابوالضحاک،غیرمنسوب ہیں ،ان کی حدیث کے راوی کوفی ہیں حسن بن سفیان نے انہیں صحابی شمار کیاہے،ابوموسیٰ نے حسن بن احمدسے،انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے ابوعمربن ہمدان سے،انہوں نے حسن بن سفیان سے،انہوں نے جبابرہ ،ابن المغلس سے،انہوں نے ابو الضحاک انصاری سے روایت کیا،کہ جب رسول اکرم خیبرکوروانہ ہوئے توآپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقمتہ الجیش پر مقررفرمایا،توحضورِاکرم نے ان سے فرمایا،جبریل تم سے محبت کرتے ہیں،انہوں نے عرض کیا،یارسول اللہ،مجھے اس سے خوشی ہوئی،کہ جبریل مجھے پسندکرتے ہیں،آپ نے فرمایا، اے علی!تمہیں وُہ ذات بھی پسند کرتی ہے،جوجبریل سے بڑی ہے،یعنی خدائے عزوجل،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوخیثمہ الدحداح بن وحداحتہ الانصاری رضی اللہ عنہ

ابوالدحداح بن وحداحتہ الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ایک روایت میں ابوالدحہ ہے،صحابی شمارہوتے ہیں ابوعمرکہتے ہیں،مجھے ان کے نام اور نسب کا علم نہیں،ہاں وہ انصارکے حلیف تھے،ابن ادریس وغیرہ نے محمد بن اسحاق سے،انہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے،انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی،کہ وحداح فوت ہوگئے اور ان کا قیام انصار میں تھا،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن عدی وک بُلاکردریافت کیا،آیاوحداح کاتم سے کوئی نسبی تعلق تھا،انہوں نے کہا، نہیں،حضورِاکرم نے ان کی میراث ان کے بھانجے ابولبابہ بن ابوالمنذر کے حوالے کردی،ایک روایت میں ان کانام ثابت مذکورہے،اورہم نے باب الثاءکے تحت ان کا ذکرکیاہے۔ ابن مسعود کہتے ہیں،جب یہ آیٔت مَن ذَی الَّذِی یُقرِضُ اللہَ قَرضاً حَسَناً فِیھا غَفَرَلَہٗ ، اتری،توجناب وحداح نے حضوراکر۔۔۔

مزید