جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

پسنديدہ شخصيات

ابوحفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ

ابوحفص بن مغیرہ،ایک روایت کے مطابق ان کا سلسلہ یوں ہے،ابوعمر بن حفص بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم القرشی مخزومی،فاطمہ بنت قیس کے شوہر تھے،ابوموسیٰ نے مختصراً ان کا ترجمہ کیا ہے،اور ان کا ترجمہ ناموں کے تحت لکھا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوحفصہ یا ابن ابی حفصہ رضی اللہ عنہ

ابوحفصہ یا ابنِ ابی حفصہ،جعفر نے ان کا ذکر باب الحاء میں کیاہےوہب بن جریر نے شعبہ سے،انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ جعفی روایت کی،کہ وہ ابوحفصہ کے پاس بیٹھے ان سے باتیں کررہے تھے،کہ ایک کالا بڈھاجو لحیم شحیم تھا،آگیا،ہماری گفتگو کے دَوران میں وہ ایک آدمی پر نظریں جمائے ہوئے تھا،میں نے اسے عتاب کیا،ابوحفصہ کہنے لگے،تم باتیں کررہے تھے،اور مجھے حضورِاکرم کی ایک حدیث یاد آرہی تھی،آپ نےایک دفعہ حاضرین مجلس سے دریافت فرمایا، جانتے ہو،"رقوب"کسے کہتے ہیں؟حاضرین نے جواب دیا،یارسول اللہ ،لاولد کو،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،رقوب وہ شخص ہوتا ہے،جس کے بیٹے تو ہوں،لیکن اسےان سے کوئی فائدہ نہ ہو،پھر آپ نے دریافت فرمایا،جانتے ہو،صعلوک کون ہوتاہے؟صحابہ نہ عرض کیا،یارسول اللہ! جو قلاش ہو،فرمایا،نہیں حقیقی قلاش وہ ہے،جس کے پاس مال تو ہو،لیکن وہ کسی کو ۔۔۔

مزید

ابوحجش اللیثی رضی اللہ عنہ

ابوحجش اللیثی رضی اللہ عنہ ابو حجش اللیثی،ابوموسیٰ نے اذناً ابوعلی المقری سے،انہوں نے احمد بن عبداللہ سے انہوں نے ابومحمد بن حیان سے،انہوں نے ولید بن ابان سے،انہوں نے علی بن حسن ہسنجانی سے،انہوں نے اسحاق قروی سے،انہوں نے عبدالملک بن قدامہ سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے اپنے والد سےاور انہوں نے ابن عمران عمر سے روایت کی کہ وہ مسجد میں نمازکوآئے، جماعت کھڑی تھی،اور تین آدمی جن میں ایک ابوحجش لیثی تھے،علیحدہ بیٹھے تھے،اس نے کہا،اٹھو نماز میں شریک ہوجاؤ،دوآدمی تواُٹھ کھڑے ہوئے لیکن ابو حجش نے انکار کردیا،اتنے میں بعد از فراغت حضورِ اکرم ادھر آگئے اور آپ کو ابو حجش کے انکا ر کے بارے میں بتایا گیا،فرمایا،بیٹھو ،میں وضاحت کئے دیتاہوں،اللہ تعالیٰ ابوحجش کی نمازسے بالکل بےنیاز ہے،آسمانوں میں ایسے فرشتے بھی ہیں،ج۔۔۔

مزید

ابوالحجاج الثمانی رضی اللہ عنہ

ابوالحجاج الثمانی،ان کانام عبدبن عبدیاعبداللہ بن عبد تھا،یہ اپنی کنیت سے زیادہ مشہور ہیں،ہم عبداللہ اور عبد کے تراجم میں ان کا ذکر کر آئے ہیں۔ منصور بن ابوالحسن فقیہ الطبری نے باسنادہ تا احمد بن علی،انہوں نے ابوالربیع سلیمان بن داؤد البغدادی سے(نہ کہ زہرانی سے)،انہوں نےبقیہ بن ولید سے،انہوں نےابوبکر بن عبداللہ بن ابومریم سے،انہوں نے ہیثم بن مالک الطائی سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن عائد الازوی سے،انہوں نے ابوالحجاج الثمانی سےروایت کی،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے،تو قبر کہتی ہے،ارے نابکار!میرے بارے میں توکس غلط فہمی کاشکار تھا،کیاتجھے معلوم نہیں تھا،کہ میں فتنے اور اندھیرے کا گھرہوں،اور تومیرے متعلق کیوں مبتلائے فریب تھا،کہ تو میرے پاس سے اکڑتے گزرجاتےتھے،حضورِاکرم نے فرمایا،اگرمُردہ نیکوکارہوا،۔۔۔

مزید

ابوحکیم الانصاری رضی اللہ عنہ

ابوحکیم الانصاری رضی اللہ عنہ ابوحکیم الانصاری،ان کا نام عمرو بن ثعلبہ بن وہب بن عدی بن مالک بن عدی بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار تھا،غزوۂ بدر میں شریک تھے،عبیدہ بن علی نے باسنادہ یونس سے ،انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر انصار کے بنوعدی بن نجار اور عمرو بن ثعلبہ (ابوحکیم) کا ذکرکیا ہے،ابوعمر نےان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوحکیم رضی اللہ عنہ

ابوحکیم،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،کوئی کہتاہے،کہ اس سے یزید بن ابوحکیم ازپدرِ خود مراد ہیں،کوئی کہتاہے،یزید بن حکیم از پدرِ خود یا حکیم بن یزید اور یا ابوحکیم بن یزید از پدرِخود ازجدِ خود،اس بارے میں کہ انہوں نے عطابن سائب سے روایت کی،اختلاف ہے،ان سے مروی ہے، ان سے مروی ہے کہ جب تم سے کوئی مشورہ طلب کرے تو اسے صحیح مشورہ دو ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوحکیم بن مقرن بن عائدالمزنی رضی اللہ عنہ

ابوحکیم بن مقرن بن عائد المزنی رضی اللہ عنہ،سویداور نعمان کے بھائی تھے،ان سے کوئی روایت مذکورنہیں،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوحکیم رضی اللہ عنہ

ابوحکیم،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،کوئی کہتاہے،کہ اس سے یزید بن ابوحکیم ازپدرِ خود مراد ہیں،کوئی کہتاہے،یزید بن حکیم از پدرِ خود یا حکیم بن یزید اور یا ابوحکیم بن یزید از پدرِخود ازجدِ خود،اس بارے میں کہ انہوں نے عطابن سائب سے روایت کی،اختلاف ہے،ان سے مروی ہے، ان سے مروی ہے کہ جب تم سے کوئی مشورہ طلب کرے تو اسے صحیح مشورہ دو ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوحمیدالساعدی رضی اللہ عنہ

ابوحمید الساعدی،ان کے نام میں اختلاف ہے،ایک روایت میں عبدالرحمٰن بن عمرو بن سعد اور ایک میں منذر بن سعد بن مالک بن خالدبن ثعلبہ بن حارث بن عمروبن خزرج بن ساعدہ ہے،ان کی والدہ امامہ دخترِ ثعلبہ بن جبل بن امیہ بن عمروبن حارثہ بن عمرو بن خزرج تھیں،مدنی تھے اور امیرمعاویہ کے آخری عہد میں فوت ہوئے۔ صحابہ میں ان سے جابر بن عبداللہ نے اور تابعین میں سے عروہ بن زبیر،عباس بن سہل محمد بن عمرو بن عطاء اور خارجہ بن زید بن ثابت وغیرہ نے روایت کی۔ ابراہیم بن محمد بن مہران الفقیہہ وغیرہ نے باسنادہم ابوعیسیٰ سے،انہوں نے محمد بن یسار اور محمد بن مثنیٰ سے،انہوں نے یحییٰ بن سعید القطان سے،انہوں نے عبدالحمید بن جعفر سے،انہوں نے محمد بن عمرو بن عطاء سےروایت کی،کہ انہیں ابوحمید الساعدی نے بتایا،کہ انہوں نے صحابہ کے ایک گروہ سے جس میں دس حضر۔۔۔

مزید

ابوحمیدالساعدی رضی اللہ عنہ

ابوحمید الساعدی،ان کے نام میں اختلاف ہے،ایک روایت میں عبدالرحمٰن بن عمرو بن سعد اور ایک میں منذر بن سعد بن مالک بن خالدبن ثعلبہ بن حارث بن عمروبن خزرج بن ساعدہ ہے،ان کی والدہ امامہ دخترِ ثعلبہ بن جبل بن امیہ بن عمروبن حارثہ بن عمرو بن خزرج تھیں،مدنی تھے اور امیرمعاویہ کے آخری عہد میں فوت ہوئے۔ صحابہ میں ان سے جابر بن عبداللہ نے اور تابعین میں سے عروہ بن زبیر،عباس بن سہل محمد بن عمرو بن عطاء اور خارجہ بن زید بن ثابت وغیرہ نے روایت کی۔ ابراہیم بن محمد بن مہران الفقیہہ وغیرہ نے باسنادہم ابوعیسیٰ سے،انہوں نے محمد بن یسار اور محمد بن مثنیٰ سے،انہوں نے یحییٰ بن سعید القطان سے،انہوں نے عبدالحمید بن جعفر سے،انہوں نے محمد بن عمرو بن عطاء سےروایت کی،کہ انہیں ابوحمید الساعدی نے بتایا،کہ انہوں نے صحابہ کے ایک گروہ سے جس میں دس حضرا۔۔۔

مزید