ابوحمیضہ،معبد بن عباد انصاری سالمی،ازبنوسالم بن عوف بن تشعر بن مقدم بن سالم بن غنم،غزوۂ بدر میں شریک تھے،ابراہیم بن سعد اور یحییٰ بن سعید اموی نے ان کا یہی نام لکھاہے،مگر یونس نے ابنِ اسحاق سے خمیصہ روایت کیاہے،یہی قول واقدی کا ہے،ہم اس پر آگے چل کر لکھیں گے،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحمیضہ مزنی رضی اللہ عنہ ابوحمیضہ مزنی،ابوموسیٰ نے اجازۃً حسن بن احمد سے،انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے سلیمان بن احمد سے،انہوں نے عمرو بن اسحاق بن علاء سے،انہوں نے ابوعلقمہ نصر بن خزیمہ بن جنادہ سے روایت کی،کہ ان کے والد نصر بن علقمہ سے،انہوں نے اپنے بھائی محفوظ بن علقمہ سے،انہوں نے ابن عائد سے،انہوں نے عصیف بن حارث سے،انہوں نے ابوحمیضہ مزنی سےروایت کی،کہ ہم ایک موقعہ پر حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں شریک تھے،حضورِاکرم اس اثنا میں ایک مرد اور ایک عورت سے گفتگو میں مشغول ہوگئے،ہم آہستہ آہستہ کھاتے رہے،اتنے میں حضورِ اکرم باتوں سے فارغ ہو کر کھانے میں ہمارے ساتھ شریک ہوگئے،پھر فرمایا،اس طرح کھاؤ، جس طرح مسلمان کھاتے ہیں،ہم نے کہا ،یارسول اللہ،وہ کیا طریقہ ہے؟آپ نے ایک بڑا سا لقمہ اٹھایا اور فرمایا،اس طرح کے پانچ چھ لقمے۔۔۔
مزید
ابوحامد اور ایک روایت میں ابوحماد ہے،ہم ان کا ذکر اپنے مقام پر کریں گے،ابوموسیٰ نے مختصراً انکا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحامد اور ایک روایت میں ابوحماد ہے،ہم ان کا ذکر اپنے مقام پر کریں گے،ابوموسیٰ نے مختصراً انکا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحماد انصاری یا ابوحامد،ابنِ لہیعہ نے وہب بن عبداللہ سے،انہوں نے عقبہ بن عامر سےاور حماد انصاری سےجوحضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں،روایت کی،حضورِاکرم نے فرمایا،جس شخص نے اپنے مومن بھائی کا کوئی قصور دیکھا اور پردہ پوشی سے کام لیا،وہ یوں سمجھے،گویااس نے کسی ایسی بچی کو زندہ کردیا جسے زندہ دفن کردیاگیاتھا،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالحمراء ،مولیٰ آلِ عفراء،ایک روایت میں مولیٰ بن رفاعہ آیا ہے،عبیداللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے غزوۂ بدر انصارسے اور ابوالحمراء مولیٰ حارث بن عفراکاذکر کیا ہے،اور لکھاہے کہ وہ غزوۂ احد میں شریک تھے،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالحمراء مولی رسول اللہ علیہ وسلم،ان کا نام ہلال بن حارث یا ہلال بن ظفر تھا،ان سے ابوداؤد نے روایت کی،کہ جب صبح صادق نمودار ہوتی تو حضورِ اکرم حضرت علی اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھرکے پاس سے گزرتے،اور فرماتے، "اَلسَّلَامُ عَلَیکُم یَااِہلَ البَیتِ اَلصَّلوٰۃ اَلصَّلوٰۃ،اِنَّمَایُرِیدُ اللہُ لِیُذھِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اَھلَ البَیتِ وَیُطَھِّرَکُم تَطھِیرا " تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،یہ ابوالحمراء وہی آدمی ہیں جنہیں ابوعمر نے غلطی سے ابوالجمل لکھاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحریز،بقول ابن ماکولا انہیں صحبت نصیب ہوئی،اورلکھا ہے،کہ قیس بن ربیع نے عثمان بن مغیرہ سے، انہوں نے ابولیلیٰ سے،انہوں نے ابوحریز سے روایت کی۔ ۔۔۔
مزید
ابوحسن انصاری مازنی ،بروایتے،ان کی کنیت ہی ان کا نام ہے،ایک روایت میں ان کا نام تمیم بن عبدعمر ہے،وہ یحییٰ بن عمارہ کے دادا اور عمر بن یحییٰ کے والد اور امام مالک بن انس کے شیخ ہیں،مدنی ہیں،انہیں صحبت نصیب ہوئی،یہ بیعت عقبہ اور غزوۂ بدر میں شریک تھے۔ عمروبن یحییٰ نے والدسے،انہوں نے دادا سے،انہوں نے رسولِ کریم سے روایت کی،آپ نے فرمایا،اگرکوئی شخص مجلس سے اُٹھ کر باہر چلاجائے اور پھر واپس آجائے تو وہ اس نشست کا ذیادہ مستحق ہے۔ یہ ابوالحسن وہی ہیں جنہوں نے زید بن ثابت کو یوم الدار کے موقعہ پر (جب انہوں نے انصارکومخاطب ہوکرکہاتھا،اے انصار!اللہ کے دین کی امدادکے لئےدوبارہ اٹھ کھڑے ہو)کہاتھا، بخدا،اے ابوالحسن!ہم ہرگز تمہاری بات نہیں سُنیں گے اور نہ تمہاری اطاعت کریں گے،ہم قرآن کی اس آیٔت کا مصداق نہیں بننا چاہتے ۔۔۔
مزید
ابوحصیفہ مصغر،ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،اور بتایا ہے،کہ طبرانی وغیرہ نے بھی ان کا ذکر کیا ہے، ابو موسیٰ نے ابوغالب احمد بن عباس سے انہوں نے ابوبکر بن ریدہ سے(ح) ابوموسیٰ نے کہا کہ انہیں ابوعلی نے اور ابونعیم نے بتایا،کہ ہمیں سلیمان بن احمد نے ،انہیں محمد بن نصر صانع نے،انہیں محمد بن اسحاق،انہیں یحییٰ بن یزید بن عبدالملک نے اپنے والد سے،انہوں نے یزید خصیفہ سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے داداسے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،کہ خوش چہرہ لوگوں سے بھلائی کی التماس کرو،اوراسی اسناد سے یزید بن خصیفہ سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے اپنے داداسے روایت کی،حضورِاکرم نے فرمایا،جب تم گھر سے نکلوتو لَاحولَ وَلَاقُوَّۃَ اِلّابِاللہ تَوَکَّلتُ عَلی اللہ ، اور حَسبِی اللہُ وَنِعمَ الوَکِیل پڑھ لیا کرو، اب۔۔۔
مزید