جمعرات , 28 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 16 April,2026

پسنديدہ شخصيات

معصوم ادھروال

حضرت مولانا محمد۔۔۔

مزید

حضرت شیخ معصوم شاہ مجذوب لاہوری

حضرت شیخ معصوم شاہ مجذوب لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  آپ لاہور میں صاحب جذب مجذوب تھے، خوارق و کرامات کا ظہور ہوتا اپنے احباب سے بڑی پر معنی گفتگو کرتے تھے جذب و استغراق کی حالت طاری ہوتی تو مدتوں خاموش رہتے اور کسی کی طرف التفات نہ فرماتے  دنیا اور اہل دنیا سے بے نیاز رہتے ہمیشہ اپنے سامنے آگ روشن رکھتے آج بھی لاہور میں ایک ایسا محلہ موجود ہے جو ٹھہری معصوم شاہ کے نام سے مشہور ہے آپ اسی محلے میں سکونت رکھا کرتے تھے بارہ سال تک اپنے دروازے کی دہلیز پر ڈیرا جمائے بیٹھے رہے اور لکڑیاں جلاکر آگ روشن رکھی، یہ آگ لکڑی کی دہلیز کے ساتھ جلتی رہتی، مگر دہلیز کو نقصان نہیں پہنچا کرتا تھا، آج بھی ان واقعات کے چشم دید لوگ موجود اور زندہ ہیں (مولف کتاب کے زمانے میں) جنہوں نے آپ کی زیارت کی تھی حضرت معصوم شاہ کے گھر کی دہلیز اور وہ مقام آج تک زیارت گاہ عام و خاص ہے۔ شیخ شہاب الدین راقم الحر۔۔۔

مزید

معوان حسین رامپوی

حضرت مولانا شاہ۔۔۔

مزید

مظہر الدین

حضرت علامہ مولانا حافظ محمد۔۔۔

مزید

حضرت فاضل جلیل مولانا حافظ محمد مظہر الدین

حضرت فاضل جلیل مولانا حافظ محمد مظہر الدین راولپنڈی علیہ الرحمۃ   دَورِ حاضرکے سب سے بڑے نعت گو شاعر اور ادیب حضرت علامہ حافظ مظہر الدین بن حضرت علامہ مولانا نواب الدّین (علیہ الرحمۃ) ۱۳۳۲ھ / ۱۹۱۴ء میں بمقام ستکوہا نزد قادیان (ہندوستان) ارائیں خاندان کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد متجر عالم دین تھے اور حضرت حافظ صاحب مدظلہ کی ولادت سے قبل اپنے وطن مالوف قصبہ رمداس ضلع امر تسر سے نقل مکانی کر کے موضع ستکوہا میں سکونت پذیر ہوئے۔ اسی دوران فتنہ قادیانیت کا ظہور ہوا اور آپ نے مرزائیوں سے مشہور تاریخی مقدمہ لڑا جس کے ذریعے ثابت کیا گیا کہ مسلمانوں کا مرزائیوں سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ یہ پہلی آئینی ضرب تھی جو بالآخر مرزائیوں کو اقلیّت قرار دیے جانے پر منتج ہوئی یہی وجہ ہے کہ علمی حلقوں میں حضرت مولانا نواب الدین علیہ الرحمہ کو فاتح قادیان کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حضرت ۔۔۔

مزید