حضرت علامہ مفتی محمد بخش تونسوی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ آپ 4 نومبر 1941ء کو ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف کے گاؤں "بہار والی "میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد علامہ مولانا محمد علی علیہ الرحمہ اور دادا حضرت علامہ مفتی حافظ احمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اپنے وقت کے بہت بڑے علماء اور صوفیا ءمیں ہوتا تھا۔ آپ کے دو صاحبزادے بھی عالم دین ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کا خاندان اسلامی اور علمی حلقوں میں بڑا معروف اور مشہور ہے۔ علامہ محمد بخش تونسوی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم علامہ محمد علی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی اور اس کے بعد آپ تونسہ شریف چلے گئے جہاں آپ نے" جامعہ محمودیہ"میں داخلہ لیااور درس نظامی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے مزید تعلیم کے لیے "جامعہ نعیمیہ لاہور" کا رخ کیا ا۔۔۔
مزید
مھتمم جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی شریف ولادت معمار ملت حضرت مولانا محمد منان رضا خاں منانی رضوی قادری بن مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا جیلانی بن حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا بن امام احمد رضا بریلوی اپریل ۱۹۵۰ء کو موضع کرتولی ضلع بدایوں میں پیدا ہوئے۔ ولادت کے بعد والدین کے ہمراہ بریلی چلے گئے۔ تسمیہ خوانی مولانامنان رضا بریلوی کی جب چار پانچ سال کی عمر ہوئی تو والد ماجد مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا جیلانی نے بسم اللہ خوانی کی تقریب منعقد کی اور حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے رسم بسم اللہ خواتی ادا کی۔ تعلیم وتربیت مولانا منان رضا نے قرآن کریم ناظرہ والد مفسر اعظم ہند سے پڑھا۔ کچھ عرصہ کالج میں ہندی، انگریزی کی تعلیم بضرورت انٹر تک حاصل کی۔ انہی ایام میں مفسر اعظم ہند کی زبان بند ہوگئی۔ آپ کو والدماجد کے ساتھ رہنا پڑا۔ چونکہ آپ ان کے اشارات و کنایات خوب سمجھتے ت۔۔۔
مزید
مھتمم مدرسہ غوثیہ رضویہ گولا کھیری لکھیم پور ولادت حضرت مولانا معید احمد رضا رضوی فریدی کی ولادت یکم جنوری ۱۹۵۰ء بمقام غوثی پور ضلع باندہ میں ہوئی۔ اور مولانا نے نشونما بھی وہیں اپنے آباؤ اجداد کی گود میں پائی۔ کہتے ہیں کہ غوثی پور میں ایک بزرگ ہستی حضرت جناب غوث بابا تھےجن کے بارے میں مسموع ہوا ہے مسموع ہوا ہے کہ وہ ملک عرب سے ہجرت کر کے ملک ہندوستان آبسے اور باندہ کے اطراف میں قیام کیا۔ کافی عرصہ یہاں قیام پزیر رہے۔ جب حضرت غوث بابا کا انتقال ہوا تو لوگوں نے نماز جنازہ میں کافی تعداد میں شرکت کی اور غالباً ان کو وہیں سپرد خاک کردیا گیا۔ خاندانی حالات مولانا معید احمد رضا کا سلسلۂ نسب ایک معزز صحابی سے جا ملتا ہے جو ایک عرصہ تک امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مولانا کے دادا وغیرہ زمیندار علاقہ کے مشہور لوگوں میں سے تھے۔ مولانا کے والد ماجد مولانا صوفی ریاض الحسن ہیں ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا مظفر حسین رضوی بہری ولادت امام المنطق والفلسفہ حضرت مولانا خواجہ مظفر حسین رضوی بن مولانا زین الدین ضلع پورنیہ (بہار) میں ۱۳۵۸ھ کو پیدا ہوئے۔ ضلع پورنیہ کے ایک معز خاندان جو جملہ سلاسل چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ، اور سہروردیہ کے سر چشمۃ فیض و برکت حضرت خواجہ بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نسبتی انتساب کے پیش نظر خواجہ خاندان کہلاتا ہے۔ اسی خاندان کے ایک باوقار گھرانے میں خواجہ مظفر حسین رضوی پروان چڑھے۔ مولاناخواجہ حسین کے والد ماجد مولانا زین الدین جو اپنے ضلع کے متقدر علماء میں شمار کیے جاتے تھے۔ آپ کا تاریخی نام مظفر حسینی رکھا۔ لیکن عرف میں آپ کا نام خواجہ مظفر حسین ہی زبان زدرہا۔ ڈھائی سال کی عمر میں آپ اپنی ماں کی مامتا سے محروم ہوگئے اور خواجہ صاحب کی پرورش خود آپ کے والد ماجد نے فرمائی۔ اس طرح والد ماجد نے بیک وقت والدین کا پیار عطا کیا۔ تعلیم وتربیت اور اساتذۃ علامہ۔۔۔
مزید
مقیم قصبہ بھیڑی شیخو پور ضلع بریلی شریف ولادت حضرت مولانا سید مبشر علی محسن رضوی بن سید اختر علی قصبہ بہیڑی کے محلہ شیخو پورہ بریلی شریف میں ۴؍اگست ۱۹۱۳ء کو پیدا ہوئے۔ حسب ونسب آپ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے سید مبشر علی رضوی بن سید اختر علی بن سید قمر علی بن سید منور علی بن سید انور علی بن سید عبدالرسول بن سید محمد صالح بن سید مراد بن سید علی بن سید عبداللہ بن سید عبدالمعانی بن سید احمد بن سید جعفر بن سید عبدالعزیز، بن سید احمد ثانی بن سید کریم اللہ بن سید بو علی بن سید بو لاقی بن سید ابو الفرح بن سید محمود بن سید احمد بن سید ابو الفرح خوارزمی بن سید عبداللہ بن سید جمال اللہ بن سید ہدایت اللہ بن سید محمد سبزواری بن سید موسیٰ مرقع بن سید امام محمد تقی بن سید امام علی موسیٰ رضا بن سید امام موسیٰ کاظم بن سیدنا موسیٰ کاظم بن سیدنا امام جعفر صادق بن سیدنا ا۔۔۔
مزید
مجاہد اہلسنت حضرت علامہ مولانا نصر اللہ برڑو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مولانا نصر اللہ برڑو، گوٹھ محمد صلاح برڑو (تحصیل شکار پور) میں ایک غریب کسان کے گھر ۱۹۴۶ء کو تولد ہوئے۔ دادا جان علی مراد برڑو نے ’’نصر اللہ‘‘ نام تجویز کیا۔ تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گوٹھ کے مکتب سے کیا۔ اس کیب عد مولانا فضل احمد نقشبندی آپ کو عظیم دینی درسگاہ مدرسہ دار الفیض سونہ جتوئی شریف (تحصیل لاڑکانہ) میں داخل کروادیا۔ جہاں آپ نے عالم باعمل، سوفی باصفا حضرت مفتی محمد قاسم جتوئی مدظلہ العالی اور حضرت مولانا محمد عیسیٰ سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد دارالعلوم غوثیہ رضویہ سکھر میں داخلہ حاصل کیا جہاں پر شیخ الحدیث مفتی محمد حسین قادری علیہ الرحمۃ مناظر اہل سنت مولانا حبیب احمد نقشبندی (حال کوئٹہ) مولانا محمد ابراہیم سیالوی، مولانا منیر الزمان اور مولان امحمد یعقوب سے اکتساب ۔۔۔
مزید
علامہ مولانا قادر بخش قاسمی ولادت: خطیب اہل سنت مولانا علامہ قادر بخش بن محمد مٹھل سومرو گوٹھ لدھان نزد خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو میں 1942ء کو تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت : آبائی گوٹھ میں اسکول سے فائنل کا امتحان پاس کرکے ، حصول تعلیم کیلئے سفر اختیار کیا۔ 1954ء کو پٹی شریف ( نزد خانپور ضلع دادو) کے مدرسہ میں داخلہ لے کر دینی تعلیم کا آغاز کیا ۔ ناظرہ قرآن مجید ، فارسی ، صرف ، نحو، منطق ، فقہ ، تفسیر و حدیث کی کتب کا درس لیا ۔ غربت اور فاقہ کشی کے باجود ہمت صبر اور ثابت قدمی سے حصول علم کے لئے شب و روز محنت و مشقت سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ۔ 1959ء کو مدرسہ پٹی شریف سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ اس دوران درج ذیل اساتذہ سے استفادہ کیا: ۱۔ مولانا عبدالرحمن جونیجو ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ مرزا کامل بدخشی کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ احمد یسوی ترکستانی کی اولاد و امجاد سے تھے آپ کے دادا اپنے وطن سے تاشقند آئے وہاں سے بدخشاں پہنچے اور ایک عرصہ تک قیام پذیر رہے۔ اکبر بادشاہ کے زمانے میں برصغیر ہندوستان میں آئے دربار میں ملازمت کرلی ملک محمد خان کا خطاب پایا اور کشمیر کی نظامت ملی ان دنوں مرزا کامل ابھی بچے ہی تھے اور خواجہ حبیب اللہ عطار کے زیر تربیت تھے بارہ سال کی عمر میں بیعت ہوئے اور دنیا اور احوال دنیا سے کنارہ کش ہوگئے ریاضت و عبادت میں مشغول رہنے لگے پچیس سال کی عمر میں خرقہ خلافت ملا اور مسند ارشاد پر بیٹھے۔ سلسلہ کبرویٰ میں بیعت کرنے لگے۔ آپ مولانا رومی اور خواجہ فریدالدین عطار کے طرز پر ایک کتاب بحر زماں چار جلدوں میں لکھی یہ کتاب بہترین کتاب ہے۔ ۷۷ سال کی عمر میں حبث البول کی بیماری میں مبتلا ہوگئے۔ اور ۲۹؍ ذوالحجہ ۱۱۳۱ھ میں انتقال ہوا۔ تواریخ دومر۔۔۔
مزید