ہفتہ , 15 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 02 May,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت مولوی عالم علی سرشتہ دار کمشنری مقام بھا گل پور

حضرت مولوی عالم علی سرشتہ دار کمشنری مقام بھا گل پور۔۔۔

مزید

حضرت مولوی خیرات علی

حضرت مولوی خیرات علی مرحوم دپٹی کلکٹر ڈمری۔۔۔

مزید

حضرت ملا جلال الدین ساکن ڈہری مقیم پٹنہ عظیم آباد

حضرت ملا جلال الدین ساکن ڈہری مقیم پٹنہ عظیم آباد علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ مجیب اللہ

حضرت شاہ مجیب اللہ ) جد اعلیٰ( علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابراہیم نخعی

 حضرت شیخ ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ    ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ جمال الدین جمن

حضرت شیخ جمال الدین جمن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (م: ۹۴۰ھ) تحریر: ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی         شیخ جمال الدین عرف شیخ چمن اپنے والد گرامی شیخ محمود راجن رحمۃ ا للہ تعالٰی علیہ کے خلیفہ مجاز ہوئے، ان کی تربیت والد گرامی نے بہت توجہ سے فرمائی تھی کہ اس سلسلہ کی تمام ذمہ داری ان پر تھی، صاحب علم بزرگ تھے، علوم ظاہری اور باطنی میں کمال حاصل تھا، ایک معرکہ میں کفار کے ہاتھوں شہید ہوئے، شاعر بھی تھے ایک دیوان یادگار چھوڑا ہے ’’شہید خنجر تسلیم عمر جاداں دارد‘‘ سے تاریخ وفات نکلتی ہے۔ ۲۰ ذوالحجۃ ۹۴۰ھ میں وفات پائی اور احمدآباد گجرات میں دفن ہوئے۔ (تذکرہ خواجگانِ تونسوی ص ۵۳، مخزن چشت: ص ۲۹۷) (حوالہ: بہارِ چشت، ص ۱۱۳)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ قاضی محب اللہ بن عبد الشکور بہاری صاحب مسلم الثبوت

حضرت شیخ قاضی محب اللہ بن عبد الشکور بہاری صاحب مسلم الثبوت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ           قاضی محب اللہ بہاری بن عبد الشکور: علوم کے بحرذخار،فقیہ،اصولی، منطقی،حاوئ فروع واصول،نتیجۃ السلف حجۃ الخلف تھے۔موضع کرہ میں جو مضافات بہار میں واقع ہے،پیدا ہوئے اوائل کتب درسیہ کو متفرق مقامات سے حاصل کیا، پھر درس قطب شمس آبادی میں داخل ہوئے جہاں سے بحر علوم اور بدر بین النجوم ہوکر دکھن کو تشریف لے گئے اور شاہ عالمگیر سے بلے،اس نے آپ لکھنؤ کا قاضی بنادیا پھر کچھ مدت بعد حیدر آبادکے قاضی بنائے گئے،کسی قدر مدت کے بعد بادشاہ نے آپ کو قضاء کے عہدہ سے معزول کر کے اپنے پوتے رفیع القدر بن معظم کی تعلیم پر مقرر کیا اور جب عالمگیر نے  اپنی اخیر عمر میں کابل کی حکومت اپنے بیتے معظم الملقب بہ شاہ عالم کے سپرد کی اور وہ مع اپنے بیٹے رفیع القدر کے دکھن سے کابل کو۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابو سعید بن شیخ سید محمد کالپوی

حضرت شیخ ابو سعید بن شیخ سید محمد کالپوی علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت سید شاہ میر گیلانی

حضرت سید شاہ میر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:حسن۔کنیت: ابوعبداللہ ،ابومحمد۔لقب: جمال الدین،سلطان المشائخ۔مشہورنام:سید شاہ میر گیلانی۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: سید شاہ میر گیلانی بن حضرت سید ابو الحسن علی گیلانی بن سید مسعود گیلانی بن سید ابو العباس احمد گیلانی بن سید صفی الدین گیلانی بن سید عبد الوہاب گیلانی بن سیدنا غوث اعظم عبدالقادر گیلانی۔(رضی اللہ عنہم اجمعین) تاریخِ ولادت:  آپ کی ولادت باسعادت676ھ،بمطابق 1278ء کو "حلب"شام میں ہوئی۔ تحصیلِ علم:  آپ نے فقہ ، حدیث، تفسیر،اورتمام علومِ منقول  و معقول اپنے والد بزرگوارحضرت سید ابو الحسن علی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ سید ابو علی صالح محمد گیلانی حلبی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیے، اور متبحر عالم ہوئے۔تمام  لوگ آپ کے حلقۂ درس سے استفادہ  حاصل کرتے تھے۔ بیعت وخلافت:  آپ اپنے والدِگرامی سید ابوالحس۔۔۔

مزید

نور محمد قاسمی، استاد العلماء علامہ مولانا مفتی

استاد العلماء علامہ مولانا مفتی  نور محمد قاسمی  استاد العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی  نور محمد قاسمی بن فقیر لعل بخش دایو گوٹھ پرانہ آباد ( تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ ) میں ۱۳۳۰ھ؍ ۱۹۱۰ء کو تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم ( ناظرہ قرآن ) گوٹھ کی مسجد میں ملا محمود سے حاصل کی۔ ان دنو ں گوٹھ انٹرآباد میں حاجی غلام قادر انٹر نے مدرسہ قائم کیا اور مولانا عبدالحیٗ مہر کو درس مقرر کیا ۔ آپ نے ان سے فارسی ’’بہاردانش‘‘ تک پڑھی ۔ اس کے بعد ۱۹۲۴ یا ۱۹۲۵ء بمطابق ۱۳۴۵یا ۱۳۴۶ھ میں سندھ کی عظیم دینی و روحانی درسگاہ جامعہ عربیہ قاسم العلوم درگاہ عالیہ مشوری شریف میں داخلہ لیا ۔ وہیں ۸۔۹ سال تک عربی کی ابتدائی کتب سے لے کر آخر تک تعلیم حاصل کی۔ ۱۳۵۳ھ؍ ۱۹۳۴ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ آپ کی دستار فضیلت درگاہ شریف کے سالانہ جلسہ جشن عید میلاد النبی ﷺ کے موقعہ پر ہوئی تھی ۔ جہاں تک یا۔۔۔

مزید