شہید بدر حضرت سیدنا عاقل بن البکیر (مہاجر) رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔
مزید
شہید بدر حضرت سیدنا ذو الشمالین عمیر بن عبد عمرو بن نضلہ (مہاجر) رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن عبدعمروبن نضلہ بن عامربن حارث بن غبشان۔بعض لوگ کہتےہیں کہ ذی الشمالین کا نام ہے اورواقدی نے کہاہے کہ نام ان کاعمربن عبدودہےاورابن اسحاق نے کہاہے کہ نام ان کا عمروبن نضلہ ہے بدرکے دن شہید ہوئےتھے یہ ابن اسحاق کاقول ہے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
شہید بدر حضرت سیدنا عمیر ابن ابی وقاص (مہاجر)رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ابووقاص کانام مالک بن اہیب تھا۔سعد بن ابی وقاص زہری کے بھائی تھے۔ان کی والدہ حمنہ بنت سفیان بن امیہ بن عبدشمس تھیں۔قدیم الاسلام تھےمہاجربھی تھے۔بدرمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے اوراسی غزوہ میں شہیدہوئےجب انھوں نے بدرمیں شرکت کاارادہ ظاہر کیاتونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کمسن ہونے کی وجہ باعث منظورنہ کیا مگریہ رونے لگے بالآخر حضرت نے ان کااجازت دی ان کی تلواربہت لانبی تھی لہذا حضرت نے خود اپنی تلوار ان کو مرحمت فرمائی بوقت شہادت ان کی عمرسولہ برس کی تھی۔ان کو عمروبن عبدود نے شہید کیاتھا۔ ہمیں عبیداللہ بن احمد نے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیرسے انھوں نے ابن اسحاق سے شہدائے بدر کے ناموں میں عمیر بن ابی وقاص کانام بھی روایت کیاہے اورزہری نے اورموسیٰ نے اورعروہ نے بھی اس کی موافقت کی ہے۔سعد نے بیان کیاہےکہ می۔۔۔
مزید
شہیدِ بدر حضرت عبیدہ بن الحارث بن عبد المطلب(مہاجر) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبدمناف بن قصی قریشی مطلبی ہیں ان کی کنیت ابوحارث تھی بعض لوگوں نے کہاہے کہ ابومعاویہ تھی۔ان کی اوران کے دونوں بھائیوں کی والدہ سخیلہ بنت خزاعی بن حویرث تھیں ثقفیہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی عمردس برس زیادہ تھی اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ارقم بن ارقم کے مکان میں تشریف لے جانے سے پیشتر اسلام لائےتھے۔یہ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد اورعبداللہ بن ارقم مخزومی اور عثمان بن مظعون ایک ہی وقت میں اسلام لائے تھے۔انھوں نے اپنے دونوں بھائیوں طفیل بن حارث اورحصین بن حارث اور مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب کے ساتھ مدینے کی طرف ہجرت کی تھی۔اورعبداللہ بن سلمہ عجلانی کے مکان پر اترے تھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ان کی بڑی قدرو منزلت تھی۔ہم کو ابوجعفر بن سمین نے اپنی سند کویونس بن بکیر تک پہنچاکرابن اسحاق ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا ابو النور محمد صدیق چشتی بصیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت مولانا ابو النور محد صدیق چشتی ابن مولانا ابو الصدیق احمد دین (قدس سرہما) پاک سیرت اور صوفی مشرب عالم تے۔آپ کے آباء واجداد ضلع فیروز پور (بھارت) کے رہنے والے تھے سکول کے عہد میں منتقل ہو کر یہ بزرگ ضلع ساہیوال میں آباد ہو گئے۔ اس خاندان نے علوم دینیہ کی اشاعت میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔آپ کے جد اعلیٰ حضرت مولانا ابو الجمال حافظ محمد حبیب اللہ المعروف بر قع پوش قدس سرہ بلند پایہ عالم اور ولی کامل تھے، چہرئہ انور پر حجاب ڈالے رہتے اور حسن اتفاق سے تدفین کے دوسرے روز آپ کے مرقد پاک کو بھی سبزہ زار نے ڈھانپ کر آپ کی عادت کریمہ کی اتباع کا حق ادا کردیا۔ آپ کے والد ماجد اپنے دور کے ممتاز عالم تھے،فارسی۔۔۔
مزید
حضرت مولانا سید اخلاص حسین پھپھوندوی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسم گرامی: مولانا سید اخلاص حسین۔پھپھوند علاقے کی نسبت سے ’’پھپھوندوی‘‘ کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت مولانا سید اخلاص حسین پھپھوندوی بن سید انوار حسین بن سید غالب حسین۔علیہم الرحمۃ۔خاندانی تعلق قطب المشائخ حضر ت خواجہ ابو یوسف چشتی علیہ الرحمہ سےہے۔مولانا خواجہ سید عبدالصمد ابدال علیہ الرحمہ آپ کےبرادر عم زاد اور’’ علمائے اہل سنت‘‘ کے مستقل صدر تھے۔انہوں نے آپ کی ولادت سے پہلے ہی آپ کانام اخلاص حسین ،اور اپنی چچی کو برکت کےلئے اپنا کرتہ پیش کردیا تھا۔اسی طرح آپ کاسارا خاندان علم وفضل،ورع وتقویٰ میں اپنی مثال آپ ہے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:29) تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 1281ھ،مطابق1865ء کواپنے آبائی مکان سید واڑہ سہسوان ضلع ۔۔۔
مزید
حضرت ملّا حامد قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جامع علومِ ظاہر و باطن اور واقفِ رموز طریقت و حقیقت تھے۔ قرآن خوانی میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ شروع شروع میں حضرت شیخ محمد میاں میر کے فضل و کمال کے منکر تھے۔ پھر ان کی روحانی کشش سے حاضرِ خدمت ہوکر حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عبادت و ریاضت میں ہمہ تن مشغول ہوگئے اور کمالاتِ ولایت بڑی جلد حاصل کرلیے۔ تھوڑی ہی مدت میں عالمِ ملکوت کے اسرار و رموز آپ پر منکشف ہوگئے۔ ۱۷؍ رمضان ۱۰۴۴ھ میں وفات پائی۔ مرقد مرشد کے روضہ کے احاطہ کے اندر ہے۔ جناب شیخ حامد پیرِ حق ہیں!! چو تاریخِ وصال او بجستم شہِ دیں پیشوائے اہلِ جنت عیاں شد ’’مقتدائے اہل جنت‘‘ ۴۴ ھ ۱۰ ۔۔۔
مزید