حاجی محمد افضل[1] بن شیخ محمد معصوم بن شیخ احمد مجدد الف ثانی: محدث ثقہ،عالم ماہر،فاضل متجر اولیائے نامدار تھے،بعد تحصیل علوم ظاہری کے شیخ حجۃ اللہ نقشبند کے مرید ہوئے اور دس سال تک ان سے فیوض باطنی حاصل کیے پھر شیخ عبد الاحد خلیفہ شیخ احمد سعید سے ولایت کا شرف حاصل کیا،بعد ازاں حرمین شریفین کی زیارت کو تشریف لے گئے اور وہاں سے فیوضات بے شمار اور فتوحات عظیم کے ساتھ واپس آکر تدریس علوم دینی اور تلقین اسرار باطنی میں مصروف ہوئے چنانچہ مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے علم حدیث کی سند آپ سے حاصل کی۔آپ کا یہ طریقہ تھا کہ جو شخص کچھ نقد بطور تحفہ وہدیہ کے لاتا تو آپ اس سے ہر فن کی کتابیں خرید کر کے وقف کردیتے چنانچہ ایک دفوہ آپ کو پندرہ ہزار روپیہ بطور تحفہ کے آیا،آپ نے سب کی کتابیں خرید کر کے وقف کردیں۔وفات آپ کی ۱۱۴۶ھ میں ہوئی۔&rs۔۔۔
مزید
نور احمد بدایونی، مولانا محمد استاذ العلماء حضرت مولانا شاہ نور احمد ابن مولانا محمد شفیع ابن حضرت مولانا شاہ عبد الحمید قدست اسرارہم حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شہا فضل رسول بد ایونی کے چچا زاد بھائی، ۱۲۳۰ھ میں پیدا ہوئے، مولانا فیض احمد ابن مولانا حکیم گلام احمد ابن مولانا شمس الدین ابن مولانا محمد علی بحر العلوم بد ایونی قدس اللہ اسرارہم سے علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کیے، مولانا فضل حق خیر آبادی سے متقدمین کی کتابیں پڑھیں، مدرسہ قادریہ بد ایوں میں مدرس تھے، طلبہ پر بے حد شفقت فرماتے، غرباء وفقراء کی اعانت وصف خاص تھا، اپنے چچا حضرت شاہ عینالحق عبدالمجید قدس سرہٗ کے مرید تھے، جمادی الاولیٰ میں واصل بحق ہوئے، شیخ العصر مادۂ تاریخ ہے۔۔۔ تلامذہ میں حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبدالقادر جیسے بزرگ تھے، اولاد کوئی نہ تھی۔ (اکمل التاریخ جلد دوم)۔۔۔
مزید
حضرت مولانا حاجی احمد شاہ عرف مظفر علی خاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حاجی احمد شاہ عرف مظفر علی خاں ۱۲۷۲ھ میں حضرت حافظ حاجی محمود جالندھری قدس سرہ سے بیعت ہوئے۔ اور ۱۲۹۹ھ میں ان سے خلافت و اجازت حاصل کی۔ بقول جناب مولوی سراج الدین احمد صاحب دہلوی خاں صاحب موصوف کو اجازت و خلافت حضرت مرشد میاں صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی ہے۔ میاں صاحب علیہ الرحمۃ آپ کی تعظیم کو کھڑے ہوجایا کرتے تھے اور کھانا اپنے ہمراہ کھلایا کرتے تھے۔ ضلع حصار میں آپ کے بہت سے مریدین ہیں۔ آپ میاں صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سجادہ نشین بھی رہے ہیں۔ آپ نے اکانوے برس کی عمر میں بتاریخ ۲۴؍ جمادی الاولےٰ ۱۳۳۸ھ مطابق ۱۹۲۰ء وصال فرمایا۔ مزار مبارک حصار میں ہے۔ میاں عبد الصمد خاں صاحب سجادہ نشین ہیں جو حضور صاحب کے لقب سے مشہور ہیں۔ کرامت: خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ انسپکٹر پولیس تھے۔ آپ کی یہ کرامت عوام میں مشہور ہے کہ آ۔۔۔
مزید
عبداللہ شطاری، شیخاسمِ گرامی: عبداللہ شطاری۔نسب: شیخ عبداللہ شطاری کا سلسلۂ نسب حضرت سیّدنا شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ملتاہے۔بیعت وخلافت: شیخ عبد اللہ شطاری شیخ محمد طیفوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت بھی انہیں سے حاصل کیا۔سیرت وخصائص:حضرت عبداللہ شطاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سلسلۂ شطاریہ کے بانی اور امامِ طریقت اور پیشوائے حقیقت تھے۔ آپ نے رسالہ’’ اشغالِ شطاریہ‘‘ میں اپنے سلسلۂ عالیہ کے مقامات و احوال قلم بند کیے ہیں۔ سلسلۂ طیفوریہ میں جو شخص سب سے پہلے شطاریہ طریقت پر اٹھا وہ حضرت شیخ عبداللہ تھے۔ شطار اصطلاح میں ’’تیز رو‘‘ کو کہتے ہیں، م۔۔۔
مزید
حضرت شیخ سراج الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ کمال الدین علامہ رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے صاجزادے تھے، خواجہ چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے چار سال کی عمر میں بیعت ہوگئے تھے مگر جوان ہو کر اپنے والد گرامی سے نسبت چشتیہ حاصل کی، صاحب علم و کمال تھے، مولانا احمد تھانسیری رحمۃ اللہ علیہ (جو عربی زبان کے مایہ ناز شاعر تھے)، مولانا عالم پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا عالم سنگریزہ سے علوم حاصل کیے اور ایک لائق اعتماد تبحر حاصل کیا، سلطان فیروز شاہ جو بہمنی حکومت کا نامور تاجدار تھا، نے دکن آنے کی دعوت دی کہا جاتا ہے کہ سات ہزار کی رقم بطور زادِراہ بھی پیش کی مگر صوفی بے ریانی نہایت استغناء کا اظہار فرماتے ہوئے رقم واپس کر دی۔ (مخزن چشت: ص ۲۸۸) اور فرمایا: ’’حق تعالیٰ مراد گجرات ہر چہ ضرورت است عطامی فرماید۔‘‘ (تاریخ مشائخ چشت: ص ۲۶۴)و۔۔۔
مزید
حضرت شیخ رکن الدین فردوسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ خواجہ بدرالدین سمر قندی کے مرید تھے، دہلی آپ کا مسکن تھا اور جب سلطان کیقباد نے کیلو کہری میں نئی شہری آبادی کرنا چاہی تو آپ بھی وہاں تشریف لائے اور دریائے جمنا کے کنارے مقیم ہوگئے۔ غالباً آپ کے اور شیخ نظام الدین اولیاء کے درمیان چنداں محبت و اخلاص نہ تھا۔ سیرالاولیاء میں لکھا ہے کہ شیخ رکن الدین کے نوجوان بیٹے اور دوسرے مرید اکثر و بیشتر کشتی میں بیٹھ کر ناچتے گاتے اور سماع کرتے ہوئے خواجہ نظام الدین اولیاء کے مکان کے نیچے سے گزرا کرتے تھے۔ ایک روز اسی طرح گزر رہے تھے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء کی ان پر نظر پڑی تو (اپنے حجرے سے) سر باہر نکالا اور فرمایا کہ ایک وہ ہے جو برسوں سے خون جگر پی رہا ہے اور اس راہ پر فدا ہوچکا ہے اور دوسرے یہ نوجوان ہیں جو کہتے ہیں کہ تو کیا ہے جو ہم نہیں (یعنی وہ کہتے تھے کہ خواجہ نظام اور ہم میں کیا فرق ہے) او۔۔۔
مزید
اللہ بخش تونسوی، امام العارفین مولانا خواجہ نام ونسب:حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی بن حضرت خواجہ گل محمد،بن حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی،بن محمد زکریا،بن عبدالوہاب،بن عمر،بن خان محمد رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔ ولادت: ماہ ذوالحجہ (۱۲۴۱ھ/۱۸۲۶) میں تونسہ شریف میں پیدا ہوئے ۔ تحصیلِ علم:دینی تعلیم کے لئے حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی نے آپ کو مولانا محمد امین کے سپرد کیا ۔ انہوں نے قرآن مجید کے علاوہ فارسی ادب اور عربی صرف و نحو کی تعلیم دی ، پھر حدیث کا درس دیا ، باطنی تر بیت خود حضرت پیر پٹھان نے فرمائی۔ سیرت وخصائص:ابتدائی زمانہ میں آپ شاہانہ شان و شوکت سے رہتے تھے، جب اپنے اصلی مقام پر فائز ہوئے تو پرانی ٹوپی ، نیلا تہبند اور معمولی کپڑے زیب تن فرماتے تھے ۔ جدا مجد کے فیض ِتربیت سے نماز اور روزے کی محبت بچپن ہی میں حاصل ہوگئی تھی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت سے لگ۔۔۔
مزید
غلام جیلانی میرٹھی، علامہ مولانا سید نام ونسب:۔ وحیدالعصر حضرت مولانا غلام جیلانی ،بن مولاناحاجی غلام فخر الدین ،بن مولانا حکیم سخاوت حسین فخری سلیمانی ۔ آپکے دادا بزرگوار نےآپکا نام غلام محی الدین جیلانی رکھا۔ تاریخ ِ ولادت:۔۱۱،رمضان المبارک، ۱۳۱۷ ھ ،بمطابق ۱۹۰۰ ء ،ریاست دادوں ضلع علی گڈھ میں پیدا ہوئے۔ تحصیل ِعلم:۔آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہوئی،بعد ازاں جامعہ نعیمیہ مرادآبادمیں داخلہ لیا۔آپ نےوقت کے مایہ ناز مندرجہ ذیل علماء کرام سے اکتسابِ فیض کیا! صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی ،حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان، صدرالشریعہ حکیم محمد امجد علی اعظمی ،حضرت مولانا عبد العز۔۔۔
مزید
رضا علی خاں، مولانا محمد رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب:اسمِ گرامی: حضرت مولانا رضا علی خان ۔لقب: امام العلماء،قدوۃالصلحاء۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:امام العلماء حضرت مولانا رضا علی خان بن حافظ محمد کاظم علی خان بن جناب محمد اعظم خان بن جناب محمد سعادت یارخان بن جناب محمد سعید اللہ خان بن عبدالرحمن بن یوسف خان قندھاری بن دولت خان بن داؤد خان۔(علیہم الرحمہ) تاریخِ ولادت: آپ 1224ھ کوپیداہوئے۔ تحصیلِ علم: آپ علیہ الرحمہ نے مولانا خلیل الرحمن علیہ الرحمہ سے "ٹونک"(راجستھان ،ہند)تمام علومِ نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی۔آپ علیہ الرحمہ 1245 ھ کو سندِ فراغ حاصل فرمائی۔آپ تمام علوم کے جامع تھے۔بالخصوص فقہ وتصوف میں مرجعِ خاص وعام تھے۔ سیرت وخصائص:قدوۃالواصلین،زبدۃ الکاملین،رئیس المتوکلین ومتصوفین، قطب الوقت،امام العلماء،سندالاتقیاء حضرت علامہ مو۔۔۔
مزید