یربدع بن بدی بن عمرو بن عوف بن حارفہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج کے بیٹیہیں۔ انصاری ہیں خزرجی ہیں ساعدی یں۔ یہ اسید ابو اسید یعنی مالک بن ربیعہ ساعدی کے چچا ہیں۔ جنگ احد میں شریک ہوئے تھے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے انکا تذکرہ ابو عمر اور ابو نعیم اور ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
یہ اسید ابو الجدعا کے بیٹے ہیں۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے اور کہا ہے کہ ابن ماکولا نے بیان کیا ہے کہ یہ صحابی ہیں۔ ان سے عبداللہ بن شقیق نے ایسا ہی روایت کیا ہے۔ ابن ماکولا نے ان کا تذکرہ کیا ہے اور جنس ے ابن شقیق نے رویت کی ہے مشہور یہ ہے کہ وہ عبداللہ بن ابی الجدعا ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
یہ اید ثعلبہ انصاری کے بیٹے ہیں جنگ بدر میں شریک تھے اور حضرت علی ابن ابی طالب رضی الہ عنہ کے ستھ جنگ صفین میں بھی شریک تھے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے اسی طرح مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
قبیلہ مزینہ کے ہیں مگر ان کا کچھ حال معلوم نہیں۔ ان کی حدیث یحیی بن سعید انصاری قطان نے عبد اللہ بن ابی سلمہ سے انھوں نے امیہ مزنی سے روایت کی ہے کہ انھوںنے کہا میں ایک دن نبی ﷺکے حضر میں گیا تاکہ آپ ے کچھ مانگوں یں نے آپ کے پاس ایک شخص کو اور دیکھا وہ بھی یہی چاہتا تھا کہ آپ سے کچھ سوال کرے تو آپ نے اس سے دو یا تین مرتبہ اعراض کیا بعد اس کے فرمایا کہ جس کے پاس بقدر ایک اوقیہ کے موجود ہو پھر وہ سوال کرے تو اسے الحاف (٭الحاف کہتے ہیں کسی سے پیچھے پڑ کے سوال کرنیکو اس قسم کے سول نہ کرنے والوں کی تعریف قرآن عظیم میں آئی ہے) کا سولا کیا۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن کرز قسری۔ ان کا تذکرہ ابن منیع نے کیا ہے ور ان کا نسب اسد کے بیان میں ہوچکا۔ یہ خالد بن عبداللہ قسری کے دادا ہیں ور بعض لوگ کہتے ہیں ان کا ام اد ہے اور یہی صحیح ہے۔ خالد بن عبداللہ بن یزید بن اسید نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا اسد بن کرز سے رویات کی ہے خالد بڑے سخی اور روح پسند تھے مگر حضرت علی رضً اللہ عنہ کے برا کہنے میں مبالغہ کیا کرتے تھے بعض لوگ کہتے ہیں کہ بنی امیہ (٭بنی امیہ کے بعض سلاتین حضرت علی مرتضی سے بعغض رکھتے تھے اور انس ے محبت رکھنے والوں کو تکلیف ہنچایا کرتے تھے) کے خوف سے ایسا کرتے تھے اور بعض لوگوںنے اس کے اور وجوہ بھی بیان کیے ہیں ہشام ابن عبدالملک کی طرف سے عراق کے حاکم تھے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
یہ اسید بیٹے ہیں ابو اناس بن زنیم بن عمرو بن عبداللہ بن جابر بن محمیہ بن عدی بن علی بن دیل بن بکر بن عبد مناۃ بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر کنانی دولی عدوی کے۔ یہ سریہ بن زنیم کے بھائی ہیں جن کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر آواز (٭حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ پڑھنے میں بطور مکاشفہ کے اپنے لسکر کو دیکھا کہ دشمن کی گھات یں آگیا ہے تو سی وقت وہ پکار اٹھے کہ اے ساریہ پہاڑ پر چڑھ جائو) دی تھی۔ ابو احمد عسکری نے بیان کیا ہے کہ اسید کے سین کو کسرہ ہے یہی نام ہے اسید بن اناس کے اور یہ اسید زنیم کے بیٹے ہیں اس بنا پر وہ ساریہ کے بھائی ہو جائیں گے۔ یہ اسید شاعر تھے نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوے انھیں میں حارث بن وہب اور عویر بن اخزم اور حبیب اور بیعہ جو دونوں مسلمہ کے بیٹھ موجود تھے اور ان کے ہمراہ ان کے قوم کی ایک جماعت تھی ان لوگوںنے حضرت سے یہ عرض کیا کہ نہ۔۔۔
مزید
یہ اسید ابو اسید کے بیٹے ہیں۔ ابو اسید کا نام مالک بن ربیعہ بن بدن ہے اور بعض لگ بچاے بدن کے بدی کہتے ہیں مگر بدن زیدہ مشہور ہے ور وہ بیٹے ہیں عامر بن عوف بن حارثہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج خزرجی ساعدی کے ان ک تذکرہ عبدان مروزی نے صحابہ میں کیا ہے ور اپنی اسناد سے عمر بن حکم سے انھوں نے اسید بن ابی اسید سے روایت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے بلجون کی ایک عورت سے نکاح کیا تھا مجھے اس ے لینے کے لئے بھیجا چنانچہ میں نے اسے اجم (نامی قلعہ) کے میدان میں لاکے اتارا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آی اور میں نے کہا کہ یارسول اللہ میں آپ کی بی بی کو لے آیا ہوں وہ کہتے ہیں کہ پھر رسول خدا ﷺ وہاں تشریف لے گئے اور آپنے اس کا بوسہ لینا چاہا تو س نے کہا کہ میں آپ سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں حضرت نے فرمایا کہ تو نے بہت بڑی پناہ مانگی (غرض یہ کلمہ آپ کو ناگوار گذرا) اور آپنے اسے س کے مکان واپ۔۔۔
مزید
ابن یزید بن قیس بن عبداللہ بن مالک بن علقمہ بن حلامان بن کہل بن بکر بن عوف بن نخع نخعی۔ انھوںنے بحالت سلام نبی ھ کا زمانہ پایا ہے مگر آپ کو دیکھا نہیں ان سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ کی زندگی میں معاذ نے ایک شخص کے برے میں جس نے ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی تھی وہ فیصلہ کیا کہ نصف بیٹی کو دیا جائے اور نصف بہن کو دیا جائے۔ یہ اسود حضرت ابن مسعود کے دوست ہیں اور عبدالرحمن بن یزید کے بھائی ہیں اور علقمہ بن قیس کے بھتیجے ہیں علقمہ سے عمر میں بڑے تھے ور ابراہیم بن یزید کے ماموں ہیں۔ انکی والدہ ملیکہ بنت یزید نخعی ہیں۔ حضرت عمر اور ابن مسعود اور حضرت عائشہ رضی الہ عنہمس ے روایت کرتے ہیں۔ کوفہ کے فقہا ور وہاںکے مشاہیر میں سے تھے سن۷۵ھ میں ان کی وفات ہوئی تھی۔ ان کا تذکرہ ابو عمر اور ابو موسی نے لکھا ہے۔ اسود ان کا نام پہلے اسود تھا پھر نبی ﷺ نے ان کا نام ابیض رکھا۔ بکر بن سوادہ نے ۔۔۔
مزید
ابن وہب بن عبد مناف بن زہرہ۔ بعض لوگ ان کو وہب بن اسود کہتے ہیں۔ صدقہ بن عبداللہ نے ابو معبد یعنی خص بن غیلان سے انھوں نے زید بن اسلم سے انھوں نے وہب بن اسود سے انھوں نے اپنے والد اسود بن وہب سے رویت کی ہے نبی ﷺ کے ماموں تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتائوں جو امید ہے کہ تم کو نفع دے گی انھوںنے عرض کیا کہ ہاں بتایئے آپ نے فرمایا سب سے بڑا سود یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی آبرو پر ناحق دست درازی کرے اس حدیث کو ابوبکر اعین نے عمرو بن ابی سلمہس ے انھوںن ابو سعید سے انھوں نے حکم اہلی سے انھوںن زید ابن اسلمس ے انھوں نے وہب بن اسود سے جو نبی ﷺ کے ماموں تھے انھوں نے نبی ﷺ سے رویت کیا ہے۔ اور قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رویت کی ہے کہ اسود بن وہب نے جو نبی ﷺ کے ماموں تھے نبی ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی نبی ﷺ نے فرمایا کہ اے ماموں چلے آئو چنانچہ جب وہ آئے تو آپ نے اپ۔۔۔
مزید