جمعرات , 20 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 07 May,2026

پسنديدہ شخصيات

مولوی محمد صدیق صاحب پنجابی

  آپ مردوجیہ۔ ذاکر شاغل۔ عالم با عمل تھے۔ پنجاب میں آپ سے فیض جاری ہوا۔ اور بہت سے لوگ آپ سے مرید ہوئے۔ (مشائخ نقشبند)۔۔۔

مزید

حافظ سید سر فراز علی صاحب کاظمی

  آپ کا وطن سکندر پور ضلع مین پوری ہے۔ آپ کو میاں صاحب قبلہ سے خلافت و اجازت ہے۔ علاوہ اس کے مولانا شاہ فضل الرحمٰن صاحب گنج مراد آبادی نور اللہ مرقدہ سے بھی اجازت ہے۔ بوجہ سید ہونے کے میاں صاحب ان کی بڑی تعظیم کرتے تھے جیسا کہ پہلے مذکور ہوا۔ (مشائخ نقشبند)۔۔۔

مزید

مولوی محمد سلیمان صاحب سرسہ رانی

  آپ ذات کے رائیں زمیندار ہیں۔ آپ کا وطن سرسہ اور رانیاں کے مابین موضع کنگن پورے ہے جہاں آپ کی زمین اور سکونت ہے۔ آپ فقہ و حدیث میں کامل۔ ذاکر شاغل اور عالم باعمل ہیں۔ حضرت میاں صاحب قبلہ کی خدمت بابرکت میں چھ ماہ اور کچھ روز رہے۔ پھر اجازت و خلافت لے کر گھر چلے گئے۔ وہاں جاکر خلوت و مجاہدہ اختیار کیا۔ مدت تک نقاب پوش رہے۔ پھر نقاب اتار دیا۔ اب تک زندہ ہیں۔ اور طالبان خدا کو ان سے فیض پہنچ رہا۔ (مشائخ نقشبند)۔۔۔

مزید

خلیفہ الٰہی بخش صاحب

  آپ ذات کے نجار تھے اور پیشہ نجاری کیا کرتے تھے۔ پہلے آپ کو سحر سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ حضرت صاحب کی صحبت کی برکت سے وہ شوق جاتا رہا۔ آپ کا اصلی نام اللہ دیا تھا۔جب حضرت صاحب سے بیعت ہوئے۔ تو حضور نے تبدیل کر کے الٰہی بخش رکھا۔ آپ ان پڑھ تھے۔ مگر متقی و صالح تھے۔ ذکر و شغل میں بہت مشغول رہتے تھے۔ حتیٰ کہ درود شریف ہر روز چوبیس ہزار بار پڑھتے۔ خلیفہ عبد اللہ شاہ نے جو میاں صاحب قبلہ کے پیر بھائی تھے آپ کے لیے خلافت کی سفارش کی۔ میاں صاحب نے فرمایا کہ اگرچہ یہ ذاکر شاغل اور مرتاض ہے۔ مگر فیض و نسبت ابھی خلافت کے لائق نہیں۔ تیرے کہنے سے خلافت دیتا ہوں۔ اجازت کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نسبت و فیضان میں ترقی دی۔ بوجہ فنافی الشیخ آپ کی ظاہری صوررت حضرت صاحب سے بہت مشابہ ہوگئی تھی۔ آپ اکثر سیاحت میں رہا کرتے۔ اور مزارات سے استفاضہ کیا کرتے تھے۔ اس طرح گجرات پنجاب میں پہنچ کر حضرت شاہ دو۔۔۔

مزید

خلیفہ ہاشم شاہ صاحب

  آپ ذات کے پٹھان۔ گندم رنگ۔ قد مائل بدرازی۔ ذاکر شاغل صاحب نسبت تھے۔ ان سے بھی صد ہا لوگوں نے اللہ کا نام پوچھا اور بیعت کی۔ مگر سکوت اور استغراق خلیفہ امیر اللہ شاہ جیسا نہ تھا مزاج ذرا جلال والا تھا۔ ان کا انتقال بھی میاں صاحب قبلہ کے رو برو ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ (مشائخ نقشبند)۔۔۔

مزید

خلیفہ امیر اللہ شاہ صاحب

  آپ اعظم و اشہر و اکبر خلفاء تھے۔ ذات نداف۔ صورت و سیرت میں بعینہ حضرت میاں صاحب علیہ الرحمۃ کے مشابہ تھے۔ چونکہ فنافی الشیخ کے مقام میں تھے۔ اس لیے آپ کی صورت حضرت صاحب سے بہت ملتی تھی۔ جو آپ کو دیکھتا تھا۔ کہتا تھا۔ کہ گویا میاں صاحب ہیں۔ آپ بوڑیہ کے صاحب ولایت اور تہجد گزار تھے۔ مراقبہ کی ایسی مشق تھی کہ صبح سے بیٹھ کر گیارہ بجے اٹھتے تھے۔ سکرت اور استغراق مرشد پاک کے مشابہ تھے۔ درود شریف اور اللہ الصمد کثرت سے پڑھتے تھے۔ توجہ گرم تھی۔ ہتنی کنڈ میں حضرت میاں صاحب کے ساتھ مجاہدہ کیا۔ میاں صاحب قبلہ فرماتے تھے۔ کہ جب امیر اللہ شاہ بیعت ہوا۔ تو ہم نے اس سے کہا۔ کہ دنیا مطلوب ہے یا عقبےٰ۔ تو اس نے کہا کہ مجھے آخرت منظور ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اسے درویشی دی۔ آپ سخی خلیق بے طمع تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ بوڑیہ میں جو رئیس سکھ رہتا تھا اس کی لڑکی پر جن کا اثر تھا۔ اس بے کہلا بھیجا کہ میں آپ کے۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابو عبدالرحمٰن عبداللہ

حضرت شیخ ابو عبدالرحمٰن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا مولوی محمد شریف قدس سرہ

  ولادت با سعادت: حضرت مولانا خاندان غلویہ سے قندھار کے رہنے والے تھے۔ اپنی والدہ محترمہ کی جانب سے علوی تھے۔ آپ کا تولد شریف ۱۱۹۸ھ میں ہوا۔ سترہ سال کی عمر میں اپنے والد بزرگوار کی اجازت سے علوم ظاہری کی تحصیل کے لیے سفر اختیار کیا۔ دو سال کابل میں اور سات سال پشاور میں رہے۔ پھر دہلی میں وارد ہوئے۔ اور حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ جس طرح علوم ظاہری میں شاغل رہ کر فاضل ہوئے ہو۔ بحر معارف باطنی میں موج زن ہوجاؤ۔ عرض کیا کہ خوب۔ لیکن چونکہ ابھی علوم ریاضی وغیرہ کا شوق جوش زن تھا۔ دہلی سے روانہ ہوکر رامپور روہیلوں میں پہنچے۔ وہاں مفتی شرف الدین صاحب کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ تعلیم میں کوتاہی نہ ہوگی۔ مگر سکونت کے لیے کوئی مکان تلاش کرلو۔ اس لیے آپ شہر میں ادھر اُدھر پھرے۔ مگر کوئی مکان آمدو رفت عام سے خالی نہ پایا۔ اس لیے بیرو۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ سیف الدین قدس سرہ

    ولادت با سعادت: آپ حضرت عروۃ الوثقیٰ کے پانچویں فرزند ہیں۔ آپ کی ولادت با سعادت بقولے ۱۰۴۹ھ میں اور بقول مصنف روضہ قیومیہ ۱۰۵۵ھ میں بمقام سرہند ہوئی۔ آپ علوم ظاہری و باطنی اور کمالات صوری و معنوی اور زہد و تقویٰ و اتباع سنت کے جامع تھے۔ حضرت عروۃ الوثقیٰ آپ کے علو استعداد دیکھ کر ہر دم آپ پر خاص نظر عنایت رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ نے عین ایّام شباب میں اپنے والد بزرگوار سے تمام کمالات مجددیہ کے حصول کی بشارت پائی۔ حق گوئی: سلطان وقت اورنگزیب عالمگیر نے حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ سے التجا کی کہ اپنا کوئی خلیفہ میری ہدایت و توجہ کے لیے روانہ فرمائیں۔ اس پر حضرت نے اپنی قیومیت کے پینتالیسویں سال اسی صاحبزادے کو دہلی میں بھیج دیا۔ جب حضرت شیخ وہاں پہنچے تو سلطان نے ان کا استقبال کیا اور بڑے اعزاز و اکرام سے ان کو شہر میں لایا اور قلعہ میں لے گیا۔ جب آپ قلعہ کے دروازے پر پہنچے تو دو۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ ابو محمد چشتی

حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آں از قید زمان ومکان آزاد، ومدام دروصل دوست خرم وشاد، خوکردہ جمال محمدی، پروردہ کمال احمدی، منزہ از طمطراق زیب وزشتی، ولی مادرازد، حضرت خواجہ ابو محمد چشتی قدس سرہٗ کرامات وخوارق میں مشہور اور نسبت تجلیات ذات میں معروف تھے۔ آپ بڑے بلند مرتبہ بزرگ اور عظیم الشان درویش تھے۔ آپ کا لقب ناصح الدین ہے۔ آپ اپنے والد ماجد حضرت خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ تھے۔ سیرا لاولیاء میں لکھا ہے کہ آپ ذوق وشوق اور غایت مجاہدہ کی وجہ سے نماز معکوس ادا کرتے تھے۔ آپ کے گھر میں ایک کنواں تھا جس میں لٹک کر آپ یہ نماز ادا کرتے تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ چار ماہ حمل کے بعد آپ اندر سے کملہ طیبہ کی آواز سنتی تھیں۔ ایک دن میں اس کےو الد کے ساتھ بیٹھی تھی۔ انہوں نے میرے حمل کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا السلام علیکم یا ولی اللہ وخلیفتی (السلام علیکم ولی۔۔۔

مزید