اوربعضوں نے کہاجہنی بدون نسبت کے ان کاذکرحضرمی نے وحدان میں کیاہے۔محمد بن عثمان بن ابی شیبہ نے اپنے چچاقاسم سے روایت کی انھوں نے وکیع سے انھوں نے اپنے چچامبارک سے انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انھوں نے یزیدبن نعیم سے انھوں نے جہنیہ کے ایک شخص سے جس کو عمر کہاجاتاتھاروایت کی کہ وہ اسلام لانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسناآپ فرماتے تھے جس نے ایام جاہلیت کے اپنے بیٹے کوپہچاناتواس کےمعاوضہ میں ایک غلام ہےایک غلام دے کراس کوچھڑالے۔اس کو سفیان بن وکیع نے اپنے باپ سے اپنی اسناد کے ساتھ روایت کیاہے اورکہاہے کہ عمراسلمی نے اسلم کے ایک شخص کی جس کانام عبیدبن عمیرتھاملازمت کی اوراس کی لونڈی سے زناکیاوہ حاملہ ہوگئی اورلڑکاجنا جس کو حمام کہاجاتاتھا۔یہ واقعہ جاہلیت میں ہوا۔پھرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکراسلام لائے اورآپ سے اپنے بیٹے کی ۔۔۔
مزید
بن عمارہ۔ان سے ان کے بیٹے مدرکے کے سواء کسی نے خلوت والی حدیث نہیں روایت کی جس میں یہ ذکرہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے بیعت نہیں لی یہاں تک کہ انھوں نے اپنے ہاتھ نہ دھوڈالےان کاشمار اہل بصرہ میں ہے۔ان کاتذکرہ ابوعمر نے لکھاہے میں کہتاہوں ابوعمرو کواس میں وہم ہوگیاہے اس لیے کہ مدرک بیٹے ہیں عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط کے۔نیز ان کا تذکرہ ابوعمرنے عمارہ بن عقبہ کے ذکرمیں لکھاہے مگرانھوں نے یہاں کوئی حدیث ان سے نہیں روایت کی اورنہ ان کے بیٹے مدرک کاذکرکیاتاکہ یہ معلوم ہوتاکہ یہ وہی ہیں یاکوئی اورحالاں کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں اورابن مندہ اورابونعیم نے عمارہ بن عقبہ کے ذکرمیں جو حدیث ان کی لکھی ہے اس سے ظاہرہوتاہے کہ وہ یہی ہیں واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن زرارہ انصاری ابونملہ۔بعضوں نے کہاکہ ان کا نام ہے صحابی تھے۔یہ ذکرابوحاتم بستی نے کیا۔اورابن ابن خثیمہ نے کہاکہ ان کا نام عمارہے۔اوران کا ذکرہم کرچکے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
انصاری صحابی ہیں۔حضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔انھوں نے (کچھ دنوں)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خط وکتابت کاکام کیاہے۔ان کا ذکرعمروبن حزم کی حدیث میں ہے ان کو جعفر نے ذکرکیاہے۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بعض لوگ ان کا نام علاثہ بیان کرتے ہیں بیٹےتھے صحارسلیطی کے قبیلۂ بنی سلیط سے نام کعب بن حارث بن یربوع تھاتمیمی سلیطی تھے۔یہ علاء خارجہ بن صلت کے چچاتھے۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ لکھاہے اورکہاہے کہ ابن ابی خیثمہ نے بیان کیاہے کہ مجھ سے ان کا نام ابوعبیدقاسم بن سلام سے نقل کرکے بیان کیاگیاہے۔اورمستغفری نے بیان کیاہے کہ ان کاعلاقہ بن شجارتھایہی قول علی بن مدینی کاہے یعنی یہ وہی سلیطی ہیں جن سے حسن نے روایت کی ہےاوربعض لوگ ان کو ابن سجاعہ کہتےہیں اورنیز انھوں نے ابن ابی خیثمہ سے انھوں نے ابوعبیدسے نقل کیاہے کہ خلیفہ نے بیان کیا کہ خارجہ کے چچاکانام عبداللہ بن عثام بن عبدقیس بن خفاف تھاقبیلہ بنی حنظلہ کے خاندان براجم سے تھےاورنیز ظلیفہ سے منقول ہے کہ انھوں نے کہاان کانام علاثہ بن شجارتھاابویعلی نسفی کے قلم کالکھا ہواایساہی ہے اوربردعی نے بھی ان کو ابن شجاربیان کیاہے۔ان کا تذکرہ ابن۔۔۔
مزید
صحابی ہیں مگران کے صحابی ہونے میں کلام کیاگیاہے ان سے سائب بن یزید نے روایت کی ہے اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کانام علاء بن حضرمی ہے یہ ابوعمرکاقول ہے اورابوموسیٰ نے کہا ہےکہ ان کا نام علاء بن سبع ہے صحابی ہیں۔ان دونوں نے ان کا تذکرہ مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کوفہ میں رہتےتھےان سے ان کے بیٹے عبداللہ اورعبدالرحمٰن بن عابس نے روایت کی ہے سماک بن حرب نے عبداللہ بن علاء سے انھوں نے اپنےوالدسے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدارہوئےتوفرمایا۱؎کہ اگراللہ چاہتاتوہمیں(وقت پر)بیدارکردیتا مگراس نے چاہا کہ تمھارےبعدوالوں کے لئے یہ کام ہوجائے۔ان کی حدیث لہسن کے کھانے کہ بابت بھی ہے۔ ابوعمرنے کہاہے کہ لوگوں نے ان کوصحابہ میں ذکرکیاہے مگرمیں خیال کرتاہوں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنااورابواحمد عسکری نے کہاہے کہ ان کا نام علاء بن خباب ہے اوربعض لوگ ان کوعلاء بن عبداللہ بن خباب کہتےہیں۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ ۱؎واقعہ شب تعریس کاہے کہ اس دن تمام صحابہ سفرکی تکلیف میں ایسے خستہ ہوگئےتھے کہ نمازفجر قضاہوگئی سب بعد طلوع آفتاب بیدارہوئے حتی کہ خود سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حالت ہوئی۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد۔۔۔
مزید
۔اہل مدینہ میں سے ایک شخص تھےان سے عبدالملک بن یعلیٰ نے روایت کی ہے وہب نے عبدالرحمن بن حرفہ سے انھوں نے عبدالملک بن یعلیٰ سے انھوں نے علاءبن خارجہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اپنے نسب کواس قدرمعلوم رکھو کہ جس سے اپنے عزیزوں کے ساتھ صلۂ رحم کرسکوصلہ رحم کرنے سےباہم عزیزوں میں محبت پیداہوتی ہے اورمال میں کثرت ہوتی ہے اورعمربڑھتی ہے۔اس حدیث کو ہشام مخزومی اورمسلم بن ابراہیم نے وہیب سے اسی طرح روایت کیاہے اورمسلم بن خالد زنگی نے اس کوعبدالملک بن یحییٰ بن علاء سے انھوں نے عبداللہ بن یزید مولائے منبث سے انھوں نے حضرت ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیاہے۔ ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔حضرمی کانام عبداللہ بن عبادبن اکرین ربیعہ بن مالک بن عویف بن مالک بن خزرج ابن ابی صدف تھااوربعض لوگوں نے ان کانام عبداللہ بن عماربیان کیاہے اوربعض نے عبداللہ بن ضماراوربعض نے عبداللہ بن عبیدہ بن ضماربن مالک۔دارقطنی نے کہاہے کہ املوکی نے بیان کیاہے کہ صحیح نام عبداللہ بن عبادتھااس میں تصحیف ہوگئی ہے۔سب لوگوں کا اس بات پراتفاق ہے کہ قبیلۂ حضرموت سے تھےاورحرب بن امیہ کے حلیف تھے۔ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کا حاکم مقررکیاتھاجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات ہوئی تویہ وہیں تھے حضرت ابوبکرنے اپنی خلافت میں ان کو قائم رکھاپھرحضرت عمرنے بھی قائم رکھا۔پھرحضرت عمرکی خلافت میں۱۴ھ ہجری میں ان کی وفات ہوئی اوربعض لوگ کہتے ہیں ۲۱ھ ہجری میں جبکہ وہ بحرین کے عامل تھے ان کے بعد حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ کو بحرین کا عامل مقررکیا۔یہ علاء بن حضرمی وہی ہیں جن کا ایک بھائی عامر۔۔۔
مزید