جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا علاء ابن سعد رضی اللہ عنہ

   ساعدی۔ان سے ان کے بیٹے عبدالرحمٰن نے روایت کی ہے کہ وہ  ان لوگوں میں تھے جنھوں نے فتح مکہ کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔عطاء بن یزیدبن مسعود نے جوقبیلہ بنی حبلیٰ میں سےتھے سلیمان بن عمروبن ربیع بن سالم سے انھوں نے عبدالرحمن بن علاء سے جوقبیلہ بنی ساعدہ میں سے تھے انھوں نے اپنے والدعلاء بن سعدسے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے اصحاب سے فرمایاکہ کیاتم لوگ بھی سنتے ہوجومیں سن رہا ہوں صحابہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ آپ کیاسنتے ہیں فرمایاآسمان سے چرچراہٹ کی آواز آتی ہے اورآنا بھی چاہیے کیوں کہ اس میں پیررکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں ہےجہاں کوئی فرشتہ قیام یا رکوع یا سجود میں نہ ہو پھرآپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔۱؎ وانا لنحن الصافون وانا لنحن المسبحون۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ ۱؎ترجمہ اوربیشک یقیناً ہم صف باندھن۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن سبع رضی اللہ عنہ

   صحابی ہیں مگران کے صحابی ہونے میں کلام کیاگیاہے ان سے سائب بن یزید نے روایت کی ہے اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کانام علاء بن حضرمی ہے یہ ابوعمرکاقول ہے اورابوموسیٰ نے کہا ہےکہ ان کا نام علاء بن سبع ہے صحابی ہیں۔ان دونوں نے ان کا تذکرہ مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن خباب رضی اللہ عنہ

   کوفہ میں رہتےتھےان سے ان کے بیٹے عبداللہ اورعبدالرحمٰن بن عابس نے روایت کی ہے سماک بن حرب نے عبداللہ بن علاء سے انھوں نے اپنےوالدسے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدارہوئےتوفرمایا۱؎کہ اگراللہ چاہتاتوہمیں(وقت پر)بیدارکردیتا مگراس نے چاہا کہ تمھارےبعدوالوں کے لئے یہ کام ہوجائے۔ان کی حدیث لہسن کے کھانے کہ بابت بھی ہے۔ ابوعمرنے کہاہے کہ لوگوں نے ان کوصحابہ میں ذکرکیاہے مگرمیں خیال کرتاہوں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنااورابواحمد عسکری نے کہاہے کہ ان کا نام علاء بن خباب ہے اوربعض لوگ ان کوعلاء بن  عبداللہ بن خباب کہتےہیں۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ ۱؎واقعہ شب تعریس کاہے کہ اس دن تمام صحابہ سفرکی تکلیف میں ایسے خستہ ہوگئےتھے کہ نمازفجر قضاہوگئی سب بعد طلوع آفتاب بیدارہوئے حتی کہ خود سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حالت ہوئی۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن خارجہ رضی اللہ عنہ

  ۔اہل مدینہ میں سے ایک شخص تھےان سے عبدالملک بن یعلیٰ نے روایت کی ہے وہب نے عبدالرحمن بن حرفہ سے انھوں نے عبدالملک بن یعلیٰ سے انھوں نے علاءبن خارجہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اپنے نسب کواس قدرمعلوم رکھو کہ جس سے اپنے عزیزوں کے ساتھ صلۂ رحم کرسکوصلہ رحم کرنے سےباہم عزیزوں میں محبت پیداہوتی ہے اورمال میں کثرت ہوتی ہے اورعمربڑھتی ہے۔اس حدیث کو ہشام مخزومی اورمسلم بن ابراہیم نے وہیب سے اسی طرح روایت  کیاہے اورمسلم بن خالد زنگی نے اس کوعبدالملک بن یحییٰ بن علاء سے انھوں نے عبداللہ بن یزید مولائے منبث سے انھوں نے حضرت ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیاہے۔ ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن حضرمی رضی اللہ عنہ

  ۔حضرمی کانام عبداللہ بن عبادبن اکرین ربیعہ بن مالک بن عویف بن مالک بن خزرج ابن ابی صدف تھااوربعض لوگوں نے ان کانام عبداللہ بن عماربیان کیاہے اوربعض نے عبداللہ بن ضماراوربعض نے عبداللہ بن عبیدہ بن ضماربن مالک۔دارقطنی نے کہاہے کہ املوکی نے بیان کیاہے کہ صحیح نام عبداللہ بن عبادتھااس میں تصحیف ہوگئی ہے۔سب لوگوں کا اس بات پراتفاق ہے کہ قبیلۂ حضرموت سے تھےاورحرب بن امیہ کے حلیف تھے۔ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کا حاکم مقررکیاتھاجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات ہوئی تویہ وہیں تھے حضرت ابوبکرنے اپنی خلافت میں ان کو قائم رکھاپھرحضرت عمرنے بھی قائم رکھا۔پھرحضرت عمرکی خلافت میں۱۴ھ؁ ہجری میں ان کی وفات ہوئی اوربعض لوگ کہتے ہیں ۲۱ھ؁ ہجری میں جبکہ وہ بحرین کے عامل تھے ان کے بعد حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ کو بحرین کا عامل مقررکیا۔یہ علاء بن حضرمی وہی ہیں جن کا ایک بھائی عامر۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن حارثہ رضی اللہ عنہ

   بن عبداللہ بن ابی سلمہ بن عبدالعزی بن غیرہ بن عوف بن ثقیف۔سرداران ثقیف میں سے تھےمولفتہ القلوب میں سے ایک شخص تھے۔بنی زہرہ کے حلیف تھے۔ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی غنیمت سے سواونٹ دئیے تھے۔ابواحمدعسکری نے ان کے والد کانام جاریہ اوربعض لوگوں نے خارجہ بیان کیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

شیخ ابراہیم بن سلیمان جانبی

حضرت شیخ ابراہیم بن سلیمان جانبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ابراہیم بن سلیمان بن محمد بن عبد العزیزی جینینی نزیل دمشق: فقیہ نحریر،فاضل بے نظیر،مفنن،مؤرخ،حافظ،وقائع،واقف عوامض نقول،جامع فروع،حاوئ اصول تھے،حدود ۱۰۴۰؁ھ میں شہر جنین میں جو شام کے ملک میں واقع ہے پیدا ہوئے اور رملہ کو تشریف لے گئے جہاں خیر الدین مفتی حنفی سے تفقہ کیا اور مدت تک ان کی ملازمت میں رہ کر مسائل فقہیہ کے کاتب رہے چنانچہ جب وہ فوت ہوئے تو ان کا فتاویٰ مشہورہ مرتب کیا غرض بعد وفات شیخ مذکور کے دمشو میں آئے اور وہاں وطن اختیار کیا اور کئی کتابیں اپنے ہاتھ سے لکھیں۔مصر میں بھی جاکر وہاں کے مشائخ اجلہ سے اخذ کیا۔آپ کو اسماء کت اور ان کے مؤلفین اور اسماء والقاب اور تاریخ وفات وانساب واستحضار فروع فقہیر اور علل حدیثیہ میں معرفت تامہ حاصل تھی،تاریخ[1] ابن حزم کو کامل کیا اور بعض رسائل تاریخیہ تالیف کیے یہاں تک کہ دمشق میں منگل ک۔۔۔

مزید

علم الحق فاروقی، خواجہ علم الدین

حضرت علم الدین علم الحق فاروقی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہجائے ولادت پیراں پٹن (احمد آباد گجرات کاٹھیاوار)  ۔۔۔

مزید

ابوبکر احمد اسماعیل جرجانی

حضرت ابوبکر احمد اسماعیل جرجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  نام ونسب:ابوبکر احمد بن ابراہیم بن اسمٰعیل بن عباس بن مرداس الاسماعیلی جرجانی۔آپ وقت کے امام اجل،حافظ الحدیث،شیخ الاسلام،فقیہ،محدث،مذہبِ شافعی کے مجتہد مانے جاتے تھے ۔مشائخ:ابی یعلیٰ،ابن خزیمہ،امام بغوی،علیہم الرحمۃشاگرد:امام حاکم،ابوبکر البرقانی،حمزہ السہمی،ابو سعید النقاش،علیہم الرحمۃ اور ان کے علاوہ بہت مخلوقِ خدا نے آپ سے استفادہ کیا ہے ۔امام حاکم﷫ فرماتے ہیں!ابوبکر اسماعیلی جرجانی ﷫اپنے زمانے کےوحید العصر فقہاء اور محدثین کے شیخ تھے ۔حسن اخلاق اور جودو سخا میں اپنی مثال آپ تھے ۔تصانیف :کم سنی میں ہی علم الحدیث پر ایک بہترین کتاب تصنیف فرمائی ۔اس کے علاوہ (۱)مسند عمر رضی اللہ عنہ (۱)اعتقاد ائمۃ الحدیث (۳)معجم اساسی وغیرہ۔وصال: یکم صفر المظفر۳۷۱ ھ۔ (تاریخ جرجانی،من اسمہ احمد،ج،۱)۔۔۔

مزید