سکسکی۔ان کا شمارنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں ہے فتح مصر میں مشہورہیں یہ ابوسعید بن یونس کاقول ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں اوربعض لوگ ان کو غفاری کہتے ہیں۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک زمین وادی قرٰی میں مانگی تھی جوآپ نے انھیں دے دی تھی اسی وجہ سے اس زمین کا نام بویرہ عس مشہورہوا۔یہ کہتےتھےمیں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوغزوۂ تبوک میں دیکھاتھاآپ نے مسجدوادی القریٰ میں نماز پڑھی تھی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابوعمرنے اسی طرح غس کے نام میں لکھاہے اور ابوعمرنے عنبرکے نام میں بھی ان کا تذکرہ لکھاہے مگر اس میں اختلاف ہے امیرابونصرنے عنتر لکھا ہےاورکہاہے کہ یہ عذری ہیں اورصحابی ہیں ان کی حدیث ابوحاتم رازی نے روایت کی ہے بعض لوگوں کابیان ہے کہ بہبی اس کے ساتھ متفردہیں۔اورعبدالغنی بن سعیدنےکہاہےکہ بعض لوگوں نے ان کانام عس بیان کیاہےاوریہ نسبت عنقرکے وہ صحیح ہے مگرابوعمرکی کتاب استیعاب کے کئی صحیح نسخوں میں میں نے عنترلکھاہوادیکھاہے واللہ اعلم۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عریب بن سرح مدل بن ذی رعین حمیری کی اولاد سے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اوران کے حارث بن عبدل کلال کی طرف تحریر لکھی تھی اورحکومت عمیران دونوں کے متعلق تھی۔اس کو کلبی نے کہاہے ان کے بھائی کے تذکرہ میں اس سے زیادہ بیان ہواہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابوعبداللہ ملیکی ہیں۔اہل شام میں ان کاشمار ہے۔بخاری نے کہاہےکہ بعض لوگوں کابیان ہے کہ یہ صحابی تھے ہم کومحمد بن عمربن ابی عیسیٰ نے اجازتاًخبردی وہ کہتےتھے ہم سے حسن بن احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے احمد ابن عبدالرحمن بن عفان حرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے ابو جعفر نقیلی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کوسعد ابن سنان نے یزید بن عبداللہ بن عریب نے اپنے والد سےانھوں نے اپنےداداسےانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرکے خبردی کہ آپ نے فرمایا یہ آیت الذین ینفقون اموالہم بالیل والنہار سراوعلانیہان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہےجوجہاد فی سبیل اللہ میں اپنامال خرچ کرتے ہیں۔ ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
انصاری ہیں ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے(امام)بخاری نے کہاہے کہ ان کاشمار تابعین میں ہے اوریہی درست ہے ابن ابی خیثمہ نے ان کوصحابہ میں ذکرکیاہے ان سے ولید بن عامر مدنی نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسواری کامالک اس کے صدرمقام میں بیٹھنے کازیادہ حقدارہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن اوس بن حارثہ بن لام بن عمروبن طریف بن عمروبن ثمامہ بن مالک بن حدعان بن ذہل بن رومان ابن جندب بن خارجہ بن سعد بن قطرہ بن طی یہ اپنی قوم کے سردارتھے اورریاست کی وجہ سے عدی بن حاتم سے دشمنی رکھتے تھے۔ان کے والد بھی بڑی ریاست والے تھے یہ وہی عروہ ہیں جنکے ساتھ خالد بن ولید نے عنینہ بن حصین فزاری کوبھیجاجبکہ انھوں نے ان کوزمانہ ردت میں قید کرکے ابوبکرصدیق کے پاس بھیجاتھا ہم کواسمعیل بن عبید اورابراہیم ابن حمید وغیرہمانے اپنی سندوں کوابوعیسیٰ محمدبن عیسیٰ تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھےہم سے ابن ابی عمرنے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے سفیان نے داؤدبن ابی ہندسے انھوں نے اسمعیل بن ابی خالد اورزکریا بن زائدہ سے انھوں نے شعبی سے انھوں نے عروہ بن مضرس بن اوس بن حارث بن لام طائی سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مزدلفہ میں آیا جبکہ آپ نمازادا کرن۔۔۔
مزید
غفاری ہیں ان کوابن شاہین نے بیان کیاہے ان سے شعبی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے ماہ رمضان کی نسبت ایک حدیث رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اس کے واسطے ایک سیاق ہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے میں نہیں جانتا ہوں کہ کسی نے ان کاعروہ نام بیان کیاہوکیوں کہ یہ ابن مسعود ہی کہے جاتے ہیں ان کا کوئی نام نہیں بیان کیاگیاہے ہاں بعض لوگوں نے عبداللہ نام بیان کیاہےہم اس سے پہلے تذکرہ میں اس کوذکرکرچکے ہیں پس اگر یہ قول محفوظ ہے تو وہ ضرورہے نادر ہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن مسعب بن مالک بن کعب بن عمروبن سعدبن عوف بن ثقیف بن منبہ بن بکربن ہوازن بن عکرمہ ابن خصفہ بن قیس غیلان ثقفی ہیں کنیت ابومسعودتھی اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ابویعفورتھی اوران کی والدہ سبیعہ بنت عبدشمس بن عبدمناف قریشیہ تھیں۔عروہ اورمغیرہ بن شعبہ بن ابی عام بن مسعود کا سلسلہ نسب مسعود میں جاکرمل جاتاہے یہ عروہ وہی شخص ہیں کہ جن کو قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واقعہ حدیبیہ میں بھیجاتھایہ(وہاں سے جب )قریش کے پاس واپس آئے توان سے کہاکہ تم لوگوں پر ایک واضح امرپیش ہے اس کوقبول کرو۔ہم کوابوجعفر سمین نے اپنی سندکویونس بن بکیر تک پہنچاکرخبردی انھوں نے اسحاق سے روایت کی ہے کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ثقیف سے واپس ہوئےتوعروہ بن مسعود بن معتب بھی آپ کے پیچھے سے چل نکلےپس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ میں پہنچنے سے پیشتر ملاقات کی اوراسلام لائے اور دریافت کیا کہ اپنی قوم۔۔۔
مزید
بن مسعب بن مالک بن کعب بن عمروبن سعدبن عوف بن ثقیف بن منبہ بن بکربن ہوازن بن عکرمہ ابن خصفہ بن قیس غیلان ثقفی ہیں کنیت ابومسعودتھی اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ابویعفورتھی اوران کی والدہ سبیعہ بنت عبدشمس بن عبدمناف قریشیہ تھیں۔عروہ اورمغیرہ بن شعبہ بن ابی عام بن مسعود کا سلسلہ نسب مسعود میں جاکرمل جاتاہے یہ عروہ وہی شخص ہیں کہ جن کو قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واقعہ حدیبیہ میں بھیجاتھایہ(وہاں سے جب )قریش کے پاس واپس آئے توان سے کہاکہ تم لوگوں پر ایک واضح امرپیش ہے اس کوقبول کرو۔ہم کوابوجعفر سمین نے اپنی سندکویونس بن بکیر تک پہنچاکرخبردی انھوں نے اسحاق سے روایت کی ہے کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ثقیف سے واپس ہوئےتوعروہ بن مسعود بن معتب بھی آپ کے پیچھے سے چل نکلےپس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ میں پہنچنے سے پیشتر ملاقات کی اوراسلام لائے اور دریافت کیا کہ اپنی قوم۔۔۔
مزید
بن سراقہ انصاری ہیں اوسی ہیں واقعہ خیبرمیں شہیدہوئےتھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید