جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عروہ ابن جعد رضی اللہ عنہ

  بعض نے کہاہے کہ ابن ابی الجعدبارقی ہیں اوربعض نے ازدی کہاہے یہ ابن مندہ اورابونعیم کابیان ہے کوفہ میں رہتےتھےان سے شعبی اورسبیعی اورشبیب بن غرقدہ اورسماک بن حرب اور شریح بن ہانی وغیرہم نے روایت کی ہے یہ ان لوگوں میں تھے جن کوحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شام بھیجاتھااہل کوفہ میں تھےاورسرحدروزکے محافظ تھےاوران کے ساتھ بہت سے گھوڑے تھےان میں ایک گھوڑا ایساتھاکہ جسے دس ہزار درہم کالیاتھاشبیب بن غرقدہ نے کہاہے کہ عروہ بن جعدہ کے گھرمیں نےسترگھوڑے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے بندھے ہوئے دیکھے ہم کو عبداللہ بن احمد خطیب نے اپنی سند کوابوداؤد طیالسی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھےہم سے جریربن حازم نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہمیں زبیربن حریث ازدی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں نعیم بن ابی ہندنےعروہ بن جعدبارقی سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھےکہ (ایک مرتبہ)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا گیاکہ آپ اپنے گھوڑےکےرخس۔۔۔

مزید

سیّدنا عروہ ابن اسماء رضی اللہ عنہ

   بن صلت بن حبیب بن حارثہ بن بلال بن سماک بن عوف بن امری القیس بن بہثہ بن سلیم سلمی ہیں بنی عمرو بن عوف کے حلیف تھےمحمدبن اسحاق اورواقدی نے ان کو ان لوگوں میں بیان کیا ہے جوکہ بیرمعونہ کے واقعہ میں شہیدہوئےتھے۔مشرکوں نے واقعہ بیرمعونہ میں عروہ بن اسماء کے امان دینے کی خواہش کی کیوں کہ یہ عامربن طفیل کے دوست تھےمگرباوجودیکہ ان کی قوم بنی سلم نے ان کوامان طلب کرنے کی بہت ترغیب دی انھوں نے منظونہ کیااورکہاکہ میں اپنے ساتھیوں سے اپنی جان عزیزنہیں رکھتابعداس کے آگے بڑھے اورلڑے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عروہ ابن اثاثہ رضی اللہ عنہ

   عدوی ہیں مہاجرین فتح مکہ سے تھےاورعمرو بن عاص کے اخیانی بھائی تھےاس کو ابوموسیٰ نے کہاہے اورابوعمرنے کہایہ عروہ بن اثاثہ ہیں اوربعض نےکہاہے کہ یہ ابی اثاثہ بن عبدالعزی بن حرثان بن عوف بن عبیدبن عویج بن عدی بن کعب قریشی عدوی ہیں قدیم الاسلام تھےشہرحبش کی طرف انھوں نے ہجرت کی تھی مگرابن اسحاق نے ان کومہاجرین حبش میں نہیں ذکرکیاہے ہاں موسیٰ بن عقبہ اورابومعشر اورواقدی نے ذکرکیاہے۔میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ کا یہ کہناکہ یہ مہاجرین فتح مکہ سے تھےسمجھ  میں نہیں آتاہجرت فتح مکہ کے ساتھ ہی منقطع ہوگئی تھی ابوموسیٰ نے ان کے تذکرہ کودودفعہ کیاہےاورکہاہے کہ عروہ بن عبدالعزی ہیں اور ان پروہاں کلام وارد ہوگا۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفطہ ابن نہیک رضی اللہ عنہ

   تمیمی ہیں یہ صحابی تھے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہےاورابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ لکھ کرکہاہے کہ یزید بن عبداللہ نے صفوان بن امیہ سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرتھے کہ عرفطہ بن نہیک تمیمی کھڑے ہوئے اورکہایارسول اللہ میں اورمیرے گھروالے شکارسے رزق حاصل کرتے ہیں اوراس میں ہمارے لیے حصہ وبرکت ہے اور وہ اللہ عزوجل کے ذکراورنمازجماعت سے بازرکھنے والاہے اورہم کو اسی کی طرف حاجت ہے کیا پس آپ اس کو حلال کہتےہیں یاحرام آپ نے فرمایاحلال کہتاہوں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال کیاہے اورپوری حدیث بیان کی۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفطہ ابن نضلہ رضی اللہ عنہ

   اسدی ہیں ان کی کنیت ابومکعت تھی ان کا تذکرہ ابومکعت اورابومصعب میں بیان کیاگیاہے پس چاہیے کہ وہاں ان کا حال دیکھاجائے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفطہ ابن حباب رضی اللہ عنہ

   بن حبیب اوربعض نے کہاہے کہ یہ ابن جبیر ازدی ہیں بنی امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف کے حلیف تھے واقعۂ طائف میں شہید ہوئے انھوں نے اولادچھوڑی تھی۔ان کی کوئی  روایت معروف نہیں ان کا ابن اسحاق نے بھی ذکرکیاہے کہ ابن حباب ہیں اورابن ہشام نے کہاہے کہ یہ ابن حباب کہےجاتےتھے۔ان کاتذکرہ ابوعمراورابن مندہ نے بیان کیاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)  ۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفطہ انصاری رضی اللہ عنہ

   ہیں۔کلبی نے ابوصالح سےانھوں نے عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے وہ کہتےتھےکہ اللہ  برترکاقوللاحال نصیب ترک ابوالدان والاقربون الایہ(اس کی شان نزول یہ ہے کہ)اوس بن ثابت نے وفات پائی اورتین لڑکیاں چھوڑیں اورایک بی بی جو ام کجہ کے نام سے مشہورتھیں پس دوشخص اوس کے چچاکی اولاد سے کھڑے ہوئے جن کا نام قتادہ اورعرفطہ تھااور دونوں نے اوس کامال لے لیا۔توام کجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئیں اورعرض کیا یارسول اللہ اوس بن ثابت نے وفات پائی اورمیرےپاس تین لڑکیاں چھوڑیں اورمیرے پاس کچھ نہیں ہے کہ ان کی معاش میں خرچ کروں حالاں کہ انھوں نے اچھامال چھوڑاہے وہ ان کے چچا کے بیٹے قتادہ اورعرفطہ لے گئےاورانھوں نے لڑکیوں کوکچھ بھی نہیں دیااوروہ لڑکیاں میرے پاس ہیں اوروہ دونوں ان لڑکیوں کو کچھ کھانے پینے کو نہیں دیتے اورمیرے پاس ایسانہیں کہ ان کو کفایت کرے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ا۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفجہ ابن ابی یزید رضی اللہ عنہ

  ۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ جعفرمستغفری نے ان کوصحابہ میں بیان کیاہے۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ کہاجاتاہے کہ ان کو شرف صحبت حاصل تھامگرکوئی حدیث ان کی نہیں بیان کی۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفجہ ابن ہریمہ رضی اللہ عنہ

   بن عبدالعزی بن زبیربن ثعلبہ بن عمروبارق کے بھائی تھے اوربارق کا نام سعد بن عدی بن حارثہ بن عمرومزیقی یہ وہی شخص ہیں جنھوں نے موصل میں لشکرجمع کیاتھا۔اوراس کے حاکم ہوئے اور موصل کی نسبت ان کی بہت خبریں ہیں یہ وہی شخص ہیں کہ ان کے ذریعہ سے عمربن خطاب نے عتبہ بن غزوان کو مدددی تھی جب ان کوبصرہ کاحاکم کیاتھا۔اورابن غزوان کے پاس لکھ بھیجاتھا کہ میں عرفجہ بن ہرثمہ سے تمھاری مددکرتاہوں کیوں کہ وہ دشمن سے بڑے لڑنے والے اورمکرکرنے والے ہیں۔جب وہ تمھارے پاس آئیں تو ان سے (امورجنگ میں)مشورہ لیتے رہنا ہشام کلبی نے ان کواس نسب میں ذکرکیاہےاوران کو بنی عمروسے جوبارق کابھائی تھاشمارکیاہےاورکہاہے کہ ان کا شمار بارق میں ہے اورطبرانی میں ذکرکیاہے کہ یہ وہی شخص ہیں کہ جنھیں حضرت عمرنے عتبہ بن غزوان کی امدادکے واسطے بھیجاتھااورابوعمرنےان کوعرفجہ بن خزیمہ کہاہے پس اس میں بصحیف ہوگئی ہے اور ہم اس ۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفجہ ابن شریح رضی اللہ عنہ

   اشجعی ہیں بعض نے کہاکندی ہیں اوربعض نے ان کے والد کانام صریح اوربعض نے ضریح اوربعض نے طریح اوربعض نے شریک اوربعض نے ذریح بیان کیاہے اوربعض لوگوں نے ان کے علاوہ کہاہےاوران میں سے بعض لوگوں نے ان کواسلمی کہاہے یہ کوفہ میں رہتے تھے ان سے قطبہ بن مالک اورزیادبن علافہ اورشبیعی وغیرہم نے روایت کی ہے کہ زیاد بن علاقہ نے قطبہ بن مالک سے انھوں نے عرفجہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ فجر کی نمازپڑھی پھرفرمایاکہ آج کی شب(میں نے خواب میں دیکھاکہ)میرے اصحاب وزن کیے گئے چنانچہ ابوبکروزن کیےگئے پھرعمروزن کیے گئےپھرعثمان وزن کیے گئے یہ سب لوگ بھاری اترے۔ ہم کویحییٰ بن ابی الرجاء نے اپنی سند کوابوبکریعنی احمدابن ابی عاصم تک پہنچاکراجازۃًخبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابوموسیٰ نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے شعبہ نے زیاد ابن علافہ سے انھوں نے عرفجہ بن شریک سے نقل کرکے بیان ک۔۔۔

مزید