منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عبد ابوالحجاج رضی اللہ عنہ

  ابن عبدکنیت ان کی ابوالحجاج ہے شمالی ہیں بعض نے بیان کیاہے کہ ان کا نام عبداللہ بن عبدہے یہ اپنی کنیت کے ساتھ زیادہ مشہور تھے ہم ان کو انشاء اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں (پورے طورسے) ذکرکریں گے۔ان کاتذکرہ ابوعمر نے ابوالحجاج شمالی کے عنوان میں لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد رضی اللہ عنہ

  زمعہ کے والد تھے بلوی ہیں یہ ان شخصوں میں سے ہیں جنھوں نےدرخت کے نیچے بیعتہ الرضوان والی بیعت کی تھی یہ مصرمیں رہتے تھے ان کے نام میں اختلاف کیاگیاہے جعفر نے کہاہے کہ ان کا نام عبدتھا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد ابن زمعہ رضی اللہ عنہ

   بن اسود ام المومنین سودہ بنت زمعہ کے بھائی تھے ان کا نسب ابونعیم نے اسی طرح بیان کیا ہے ابوعمرنے کہاہےکہ عبدقیس زمعہ بن قیس بن عبد  شمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامربن لوی عامری ہیں ان کی والدہ تک بنت احنف بن علقمہ خاندان بنی معیص بن عامربن لوی سے تھیں ابن مندہ نے کہاہے کہ عبداللہ بن  زمعہ ام المومنین سودہ بنت زمعہ کے بھائی تھے یہ عبد سرداران صحابہ میں سے ایک بزرگ سردارتھے اور ام المومنین سودہ بنت زمعہ کے علاقی بھائی تھے اور عبدالرحمن بن زمعہ کے حقیقی بھائی تھےیہ زمعہ کی لونڈی کے لڑکے تھے انھیں کی بابت عبد بن زمعہ نے سعد بن ابی وقاص کے ساتھ جھگڑاکیاتھااوران کے اخیانی بھائی قرظہ بن عبدعمروبن نوفل بن عبدمناف تھے ہم کو یحییٰ بن محمود نے اپنی سند کوابوبکربن عاصم تک پہنچاکر اجازتاً خبردی وہ کہتے تھے ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے ہمارے و۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد ابوحدر رضی اللہ عنہ

  ان کی کنیت ابوحدردہے۔اسلمی ہیں یہ اپنی کنیت ہی کے ساتھ مشہورتھے۔ان کا تذکرہ انشاء اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں آئے گا ان کے نام میں علماء (نسب)نے اختلاف کیاہےاحمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے توان کا نام عبدبیان کیاہے اورہشام ابن کلبی نے ان کا نام سلامہ بن عمیربیان کیاہے اور پہلے بیان ہوچکاہے کہ یہ عبداللہ بن ابی حدردہیں امردرداء کے والدتھے واللہ اعلم۔ہم کوعبیداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند کویونس بن بکیرتک پہنچاکرخبردی انھوں نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے جعفربن عبداللہ بن اسلم سے انھوں نے ابوحدردسے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے اپنی قوم کی ایک عورت سے نکاح کیااوردوسودرہم اس کے مہرکے مقررکیے اور میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اس واسطے)حاضرہواکہ آپ میرے نکاح میں کچھ مددکریں آپ نے (مجھ سے) دریافت کیا کہ تم نے مہرکس قدرمعین کیاہے میں نےعرض کیادوسودرہم رسول خدا صلی اللہ ع۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد بن جلندی رضی اللہ عنہ

  ا یہ اوران کے بھائی جیفررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام لائے تھے اور (شہر)عمان میں (رہتے)تھے۔ان کا بیان ابوعمرنے ان کے بھائی جیف کے تذکرے میں لکھاہے اور ہم نے بھی ان کوجیفرکے تذکرے میں بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد ابن حجش رضی اللہ عنہ

   بن ریاب اسدی قبیلہ اسد(خاندان)خزیمہ سے تھےان کے بھائی عبداللہ کے تذکرے میں ان کا نسب بیان ہوچکاہے ان کی کنیت ابواحمد تھی ان کے نام پران کی کنیت غالب تھی (یعنی کنیت کے ساتھ زیادہ مشہورتھے)یہ حرب  بن امیہ کے حلیف تھے۔جن لوگوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ان میں سے یہ بھی ہیں۔زینب بنت حجش( زوجۂ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم )کے بھائی تھے کنیت کے باب میں ان کا تذکرہ اس مقام سے زیادہ آئے گا۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد رضی اللہ عنہ

  ابن ازوربعض لوگوں نے ان کوضراربن ازوربیان کیاہے اوریہی زیادہ مشہورہے مجاہدبن مروان نے کہاہے مجھ کومیرے والد نے اپنے والد سے انھوں نے عبدبن ازورسے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھےمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوا جب آپ کے سامنے کھڑاہواتو میں نے ان اشعارکوپڑھا  ؎ ۱؎        تقول جمیلہ فرقتنا                                         وصدعت اہلک شتی سلالا ترکت القداح وعزف القیان                  والخمرتصلیتہ وابہالا ان کاتذکرہ ضرار کے بیان میں گذرچکاہے۔ ۱؎ترجمہ۔۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدیالیل رضی اللہ عنہ

  ابن ناشب بن غیرۃ لیثی بنی سعد بن لیث (کے خاندان)سے تھےاوربنی عدی بن کعب کی حلیف تھے یہ غزوۂ بدرمیں شریک تھے انھوں نے حضرت عمربن خطاب کی خلافت کے زمانے میں وفات پائی یہ  ایک بوڑھے آدمی تھے ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر لکھاہے۔میں کہتاہوں کہ میرے علم میں خاندان بنی سعدبن لیث میں عبدیالیل نامی سوائے ایاس اور خالداورعاقل فرزندان بکیربن عبدیالیل بن ناشب بن سعد بن لیث کے داداکے دوسراکوئی نہیں ہے یہ ایاس اور ان کے بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بدرمیں شریک تھے یہ سب فرزندان عدی  کے حلیف تھے جیساکہ ابوعمر نے بیان کیاہے(اگریہی عبدیالیل ہیں تو)ان کا صحابی ہونابعیدہے اوراگر ان کے سواکوئی دوسرے ہیں تو میں نہیں جانتا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدیالیل ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  بن عمیرثقفی قبیلہ ثقیف کے سرداروں میں سے یہ بھی ایک سردارتھے۔یہ وہ شخص ہیں کہ ان کوقبیلۂ ثقیف کے لوگوں نے اپنے اسلام کی خبردینے کے لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عروہ بن مسعود کے قتل ہونے کے بعدبھیجاتھااور ان کے ساتھ پانچ آدمی اوربھیجے تھے خاندان ثقیف (والے یہ)ارادہ کرتے تھے کہ ان کو (رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) تنہا بھیجیں مگر یہ (تنہاجانے پر)راضی نہ ہوئے اوران کوخوف ہواکہ مباداکفار میرے ساتھ بھی ویساہی نہ کریں جیساکہ عروہ بن مسعود کے ساتھ کیاہےلہذاان لوگوں نے اسی وجہ سے ان کے ساتھ پانچ آدمی اور بھیجے جن کے نام یہ ہیں ۱)عثمان بن ابی العاص۔۲)اوس بن عوف۔۳)نمیربن خرشہ۔۴)حکم بن عمرو۔۵)شرحبیل بن غیلان سلمہ۔یہ سب لوگ اسلام لائے اوران کااسلام بہت اچھا رہا(اسلام لانے کے بعد)یہ سب اپنی قوم ثقیف کی طرف لوٹ گئے پھرقبیلۂ ثقیف کے باقی سب لوگ اسلام لے آئے اسی طرح ابن اسحاق ن۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالواحد رضی اللہ عنہ

  ان کا نسب نہیں بیان کیاگیا۔ان کا تذکرہ باطرقانی نے قرآن پڑھانے والوں میں لکھاہے ابن وہب نے خلاد بن سلیما ن سےنقل کرکے بیان کیاہے کہ جنھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن شریف کو حفظ کیاتھا ان میں سے عبداللہ بن مسعود اور یہ  عبدالواحد بھی تھے(ایک مرتبہ)عبدالواحد نے عبداللہ بن مسعودسے پوچھاکہ تم مجھ کو بتلاؤ اللہ تعالیٰ جو اپنے کلام میں فرماتا ہےکہ تسع وتسعون نعجتہ انثی۱؎کیانعجہ کےنقطہ سے یہ بات معلوم نہیں ہوسکتی کہ نعجہ مونث ہے(تاے تانیث خود مونث ہونے پردلالت کررہی ہےپھرلفظ انثی کی کیاضرورت تھی) عبداللہ بن مسعود نےکہاکہ تم مجھ کو بتاؤ اللہ تعالیٰ جوفرماتاہے کہ تین روزے حج کے دنوں میں اور سات روزے اس وقت جب کہ تم حج سے لوٹو یہ دس پورے ہوئے۔کیالوگوں کویہ نہیں معلوم ہے کہ تین اورسات دس ہوے پھرکیاضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دس روزے ہوئے۔ اس قول سےیہ م۔۔۔

مزید