ازدی۔ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کبھی زکوۃ کی تحصیل کرنے پر مقررکیاتھا۔ ان کا ذکر ابوحمید ساعدی کی حدیث میں ہے۔ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ مختصر لکھا ہے۔ ان کا تذکرہ انشاء اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں ان لوگوں میں ہوگاجو ابن کے ساتھ مشہورہیں اور نام ان کا محقق نہیں ہوا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ۔زیاد بن لبید بیاضی کے بھائی ہیں۔ان کا نسب ان کے بھائی کے نام میں گذرچکا۔غزوۂ احد اوراس کے بعد کے تمام شاہدین میں شریک ہوئے۔اس کو ابوعلی غسانی نے عددی سے نقل کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔صفین میں شہید ہوئے۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مخصوص اصحاب میں تھے ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ابی کعب۔انصاری سلمی۔ابواحمدعسکری نے ان کا تذکرہ ان لوگوں میں لکھا ہے جونبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار۔انصاری خزرجی نجاری ثم المازنی۔غزوۂ بدرمیں شریک تھے اور بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مال غنیمت کی حفاظت کےلیے مامورتھےتمام مشاہد میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک رہے۔اور بدر کے علاوہ دوسرے غزوات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خمس پر متعین رہے۔کنیت ان کی ابوالحارث ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں ابویحییٰ۔یہ ابوعمرکاقول ہے اورابونعیم اور ابوموسیٰ نے کہا ہے کہ بدر میں شریک تھے یہ نہیں بیان کیاکہ خمس پر متعین تھے کیوں کہ ابونعیم اورابن مندہ نے بیان کیا ہے کہ خمس پروہ عبداللہ بن کعب متعین تھے جن کا ذکر اوپرہوچکا۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوعمر اور ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ابوعمرنے کہا ہے کہ ان کی وفات ۳۰ھ میں مدینہ میں ہوئی اور حضرت عثمان نے ان کے جنازہ کے نمازپڑھائی۔ میں کہتاہوں کہ ابونعیم نے ان عبداللہ کو ان عبداللہ کے علاوہ دو۔۔۔
مزید
بن عاصم۔کنیت ان کی ابوالحارث ہے۔بنی مازن بن نجارسے ہیں۔انصاری ہیں خزرجی ہیں ۔غزوۂ بدر میں شریک تھے ۔بدر کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مال غنیمت کی حفاظت کے لیے مقررکیاتھا۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نےلکھاہےاورابونعیم نے کہا ہے کہ بعض لوگ ان کو عبداللہ بن کعب بن عاصم کہتے ہیں ابن مندہ نے لکھا ہے کہ ان کی وفات ۳۳ھ میں ہوئی حضرت عثمان نے ان کے جنازہ کی نماز پڑھائی۔ابن مندہ نے ان کا نسب اس طرح بیان کیا ہے عبداللہ بن کعب بن عاصم بن مازن بن نجار غرضیکہ کئی نام انھوں نے درمیان سے حذف کردیے ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن کعب حمیری ازدی۔اہل شام سے ہیں ۵۸ھ میں ان کی وفات ہوئی ۔ان کا تذکرہ ابن مندہ نے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کا تذکرہ علی بن سعید عسکری نے افراد میں لکھا ہے۔عبداللہ بن مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد سے انھوں نے حنظلہ بن قیس سے انھوں نے عبداللہ بن زبیر سے انھوں نے عبداللہ بن کریز سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل کیا جائے وہ بھی شہید ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن کرز لیثی۔ان کا ذکر حضرت عائشہ کی حدیث میں ہے۔ابن شہاب نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ ایک روز بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے گرد مہاجرین وانصار تھے پس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کی مثال اور اس کے مال واولاد کی مثال مثل اس شخص کے ہے جس کے تین بھائی ہوں پس اس نے مرتے وقت اپنے ایک بھائی سے جومال ہے کہا کہ اب تو میرا کیا کام کرسکتاہے دیکھتا ہے کہ اب ہر حالت مجھ پر طاری ہے تو مال نے جواب دیا کہ اب میں تیرے کچھ کام نہیں آسکتا نہ کچھ نفع پہنچا سکتاہوں ہاں جب تک تو زندہ ہے مجھ سے جس قدر چاہے نفع لے لے مگر جب میں تجھ سے جدا ہوجاؤں گا توپھر جہاں تو مجھے نہ لے جاناچاہتاتھاجاؤں گا اور مجھے دوسرے دوسرے لوگ لیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب لوگوں کی طر ف متوجہ ہوکرفرمایا کہ یہ اس شخص کا وہ بھائی ہے جس کا ۔۔۔
مزید