ابن عمرو۔ انصاری ہیں۔ چچا ہیں حضرت براء بن حازب (مشہور صحابی) کے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ماموں ہیں۔ ہمیں عبد الوہاب بن ہبۃ اللہ عبد الوہاب نے اپنی سند سے عبداللہ تک خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد (امام احمد بن حنبل) نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ہشیم نے اشعث بن سواد سے انھوں نے دی بن ثابت سے انھوں نے براء ابن عازبس ے روات کر کے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے حارث بن عمرو کا گذر میری طرف ہوا ان کے لئے رسول خدا ﷺ نے ایک جھنڈا منعقد کر دیا تھا میں نے پوچھا کہ اے چچا رسول خدا ﷺ نے آپ کو کس طرف بھیجا ہے انھوں نے کہا کہ مجھے ایک شخص کی طرف بھیجا ہے اس نے اپنے باپ کی منکوحہ سے شادی کر لی ہے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن مار دوں اس حدیث کو حجاج بن ارطاہ نے عدی سے انھوں نے براء سے روایت کی اہے۔ اور معمر نے اور فضل بن علاء نے اور زید بن ابی انیسہ نے اشعث سے انھوں نے عدی سے انھوں نے۔۔۔
مزید
ابن عمر ہذلی۔ رسول خدا ﷺ کے زمانے میں پیدا ہوچکے تھے حضرت عمر اور ابن مسعود سے کئی حدیثیں انھوں روایت کی ہیں سن۷۰ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ واقدی نے ان کو ذکر کیا ہے۔ ابو عمر نے ان کا تذکرہ مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن حنیف کندی۔ بخاری نے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیا ہے اور ان کی کوئی حدیث نہیں ذکر کی ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ شیخ عبدالرزاق بن شیخ عبدالقادر ثانی کے بیٹے تھے، شیخ عبدالقادِر جیلانی کے سجادہ نشین اور خلیفہ تھے، بڑے بلند پایہ بزرگ تھے، ہر قسم کا دنیاوی مال و متاع آپ کے پاس موجود تھا لیکن کبھی اتنی دولت اپنے پاس نہ رکھی کہ نصاب تک پہنچتی اور آپ پر زکوٰۃ واجب ہوتی، جو کچھ آتا غرباء کو تقسیم کردیتے۔ آپ اپنے دادا شیخ عبدالقادِر ثانی کے مرید اور بڑے مقبول بزرگ تھے، آپ کے زمانہ ہی میں آپ کی بزرگی اور مشیخت کا چرچا ہوا اور خلافت کی وجہ سے اس سلسلہ عالیہ کو ترقی ہوئی، جس نے آپ کی مخالفت کی وہ کبھی کامیاب نہ ہوسکا اور وہ اپنی زندگی ہی میں پشیمان اور شرمندہ ہوا، آپ نے عین حیات ہی میں اپنے بیٹے شیخ موسیٰ کو سجادہ نشین مقرر کردیا تھا اور ساتھ ہی اشغال باطنیہ کی تلقین کی اور لوازمات و متابعات (سلوک) آپ کو دیے، علاوہ ازیں محبت و رضاء کے جو حضرت مخدوم ثانی کو آپ کے ساتھ اور قابلیت و استحقاق کا جوہر آپ کی ذات شر۔۔۔
مزید
ابن عرفجہ بن حارث بن مالک بن کعب بن حارث بن غنم بن سلم بن امرء القیس ابن مالک بن اوس انصاری اوسی۔ غزوہ بدر میں شریک تھے۔ یہ موسی بن عقبہ اور واقدی کا قول ہے۔ کلبی نے بھی ان کا نسب بیان کیاہے اور کہا ہے کہ یہ بدر میں شریک تھے ابو عمر نے بھی ان کا نسب بیان کیا ہے مگر انھوں نے مالک کو اور کعب ثانی کونکال دیا ہے۔ ابن اسحاق نے ان کو اہل بدر میں ذکر نہیں کیا۔ قبیلہ بنی سلیم کے تمام لوگوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر اور ابو موسینے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عدی بن مالک بن حرام بن خدیج بن معاویہ انصاری۔ معاوی۔ غزوہ احد میں شریک تھے اور بنر ابی عبید میں شہید ہوئے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے مختصر لکھا ہے اور ابو موسی نے بھی ایسا ہی لکھاہے حالانکہ ابن مندہ بھی ان کا ذکر لکھ چکے تھے۔ پھر کوئی وجہ ان پر استدراک کرنے کی نہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ شیخ عبدالقادر ثانی کے دوسرے بیٹے تھے، جو اپنے والد کی زندگی ہی میں عالمِ جاودانی کی طرف کوچ کرگئے، آپ کی والدہ صالحات اور قانتات میں سے تھیں، آپ کے ایک صاحبزادہ میر سید محمد تھے جو آپ کی وفات کے بعد اپنے دادا کی زیر تربیت رہ کر دادا کے منظورِ نظر رہے، شاہ اللہ بخش اور ان کے دوسرے بھائی جو لاہور میں رہتے تھے یہ میرسید محمد کے بیتے اور سید زینُ العابِدین کے پوتے تھے، شاہ اللہ بخش اخلاق حمیدہ اور پاکیزہ اوصاف کے حامل تھے، 994ھ میں انتقال فرماگئے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
ابن عدی بن خرشہ بنب امیہ بن عامر بن خطمہ۔ انصاری خطمی۔ احد کے دن شہید ہوئے ان کا تذکرہ ابو عمر نے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عتیک بن نعمان بن عمرو بن عتیک بن عمرو بن مبذول مبذول کا نام عامر بن مالک بن نجار ہے۔ یہ بھائی ہیں سہل ابن عتیک کے جو بیعت عقبہ اور بدر میں شریک تھے۔ حارث غزوہ احد میں اور تمام مشاہد میں شریک تھے حارث کی کنیت ابو اخزم ہے۔ جسر ابی عبید کے دن شہید ہوئے۔ واقدی اور زبیر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر اور ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عتیک بن حارث بن حبشہ۔ جبر بن عتیک کے بھائی ہیں احد میں اور اس کے بعد غزوات میں شریک تھے ان کے ہمراہ ان کے بیٹِ عتیک بن حارث بن عتیک بھی تھے۔ یہ عدوی کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے جابر بن عتیک کے کان میں کیا ہے وہ ان کے بھائی ہیں اور کہا ہے کہ وہ صحابی ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید