آپ مندو میں پیدا ہوئے، آپ کے والد ماجد شیخ ولی اللہ مندو کے اکابرین میں سے تھے، حادثات و انقلاب زمانہ کی بدولت مندو سے روانہ ہو کر برہان پور آئے اور یہیں سکونت پزیر ہوئے، برہان پور آکر ماضی کی طرح عزت دار و سربلند ہوئے اور پھر تھوڑے سے ہی دنوں بعد انتقال کیا اسی زمانہ میں آپ کی والدہ نے آپ کو کم سنی میں چھوڑ کر سفر آخرت اختیار کیا، بچپن ہی کے زمانہ سے اللہ کی توفیق نے آپ کی رفاقت کی ہے آپ نے اسی زمانے سے طلب حق کے لیے فقرد تجرید، سفرو سیاحت عالم اختیار کیا، آپ نے زیادہ تر نواح گجرات، اطراف و اکناف علاقہ دکن، سیلون، لنکا اور سراندیپ میں سیاحت کی، آپ کا یہ دستور تھا کہ تین دن سے زیادہ کہیں نہ ٹھہرا کرتے، البتہ تحصیل علم اور مشائخین و صالحین سے استفادہ کے لیے بقدر ضرورت قیام کیا کرتے تھے۔ بیس سال کی عمر کے لگ بھگ جبکہ آپ کی شادی بھی نہ ہوئی تھی مکہ معظمہ پہنچے۔ شیخ علی متقی کی چونکہ آپ کے وال۔۔۔
مزید
حضرت علامہ مشتاق احمد حنفی انصاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (مصنف تبشیرالاصفیاء باثبات حیاۃ الاولیاء) ۔۔۔
مزید
آپ کے والد ماجد کانام عبدالملک ابن قاضی خاں المتقی القادری الشاذلی المدنی چشتی ہے، آپ کے آباء واجداد جونپور سے آکر برہان پور میں مقیم ہوگئے، آپ کی ولادت باسعادت برہان پور ہی میں ہوئی ہے، آپ کے والد نے آپ کو آٹھ سال کی عمر میں شاہ باجن چشتی کے پاس لے جاکر مرید کرادیا جو اس زمانہ میں برہان پورمیں مقیم تھے اور اس واقعہ کے چند دن بعد آپ کے والد نے وفات پائی، والد بزرگوار کے انتقال کے بعد آپ بلحاظ طبیعت انسانی کچھ عرصہ لذات حسیہ میں مشغول رہے اور نوجوانی کے زمانے ہی میں بمقام مندو ایک بادشاہ کی ملازمت کی اور دنیاوی دولت جمع کی، اسی اثناء میں اللہ کی عنایت اور ہدایت کے جذبے نے اپنی طرف مائل کیا چنانچہ دنیاوی مال و زر اور اس کی بے ثباتی دیکھ کر شیخ عبدالحکیم ابن شاہ باجن کی خدمت میں پہنچے جن سے مشائخ چشت کی خلافت کا خرقہ حاصل کیا اور چونکہ آپ کی فطرت میں تقویٰ و پرہیزگاری کا غلبہ تھا اس لیے ملتان۔۔۔
مزید
آپ علاء الحسنی کے فرزند ارجمند تھے اور میر سید محمد گیسو دراز جن کا مزار گلبرگہ شریف (علاقہ دکن) میں ہے ان کی اولاد میں سے کسی کے مرید تھے، اس کے علاوہ تمام علوم عقلی و نقلی رسمی و حقیقی میں کامل اور بڑے دانشمند تھے، اکثر علوم میں خود بھی کتابیں تصنیف کی ہیں، صحیح بخاری کی شرح فیض الباری بھی آپ ہی نے لکھی ہے، سراجی جو علم فرائض کی کتاب ہے اس کو منظوم کرکے اس پر شرح لکھی ہے، تحقیق نفس و معرفت پر فارسی میں نہایت تحقیق سے ایک کتاب تالیف کی ہے، سفر السعادت کا انتخاب کرکے سیرت پر کچھ کتابیں تصنیف کی ہیں، نیز اکثر کتابوں پر آپ کے شروع و حواشی و تعلیقات موجود ہیں، بہت عمر رسیدہ ہوگئے تھے، آخر میں آپ پر انکساری و عاجزی اور تصوف کا حال غالب ہوگیا تھا اور درسی علوم بہت کچھ بھول گئے تھے، آپ کے کُتب خانہ میں ہر قسم کی کتابیں موجود تھیں، آپ کے والد ماجد علاقہ جونپور قصبہ زید پور کے رہنے والے تھے، وہاں ۔۔۔
مزید
آپ سید عبدالحمید سالوری کے فرزند تھے، آپ کے والد بزرگوار عمر رسیدہ اور بابرکت بزرگ تھے۔ آپ اپنے بچپن میں والد بزرگوار کے ساتھ ایک حوض پر نہانے گئے، اچانک حوض میں سے ایک آدمی نمودار ہوا اور آپ کو پکڑ حوض میں لے گیا اور آپ کو غائب کردیا، بہت تلاش کی گئی لیکن آپ نہ ملے، ایک مدت کے بعد آپ اسی حوض میں سے اس طرح نکلے کہ صاحب فیض اور بڑے عالم تھے۔ نقل ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے والد ماجد فقہ کی مشہور کتاب ہدایہ پڑھارہے تھے اثناء درس میں ایک مشکل مسئلہ پیش آیا جس کو حل کرنا مشکل ہوگیا، سید عبدالوہاب اپنے ہم عمر لڑکوں میں کھیل رہے تھے انہوں نے دور سے اپنے والد سے عبدالحمید کے دل میں ان مشکلات کے حل بیان کردئیے۔ سید عبدالوہاب جب بڑے ہوئے تو درس تدریس اور مطالعہ میں مشغول ہوگئے ایک دن آپ کُتب خانہ میں تنہا بیٹھے مطالعہ کر رہے تھے اور آپ کے ارد گرد بہت سی کتابیں رکھی ہوئی تھیں کہ اتنے میں ایک آدمی نے رجال ۔۔۔
مزید
آپ شاہ قاذن کے مرید تھے جن کے پیرومرشد شیخ عبداللہ شطاری تھے آپ نے خوب سیاحت کی، اپنے ساتھ صراحی کے برابر ایک لوٹا رکھتے تھے، ہاتھ میں عصار کندھے پر جانماز ڈال کر پھرتے تھے اور جسمانی اعتبار سے بہت کمزور تھے، شیخ محمد جن کا لقب غوث تھا اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر آپ سے بیعت ہوئے، کہتے ہیں کہ جب شیخ محمد آپ سے بیعت ہونے کے لیے آئے تو آپ اُٹھ کر ان سے بغل گیر ہوئے اور فرمایا غوث! آجاؤ حاضرین نے دریافت کیا کہ بغیر کسی کمال کے آپ نے ان کو غوث کیوں کہا، آپ نے جواب میں فرمایا اس میں کیا حرج ہے، باپ اپنے بیٹے کا نام شاہ عالم رکھتا ہے۔ آپ اگرچہ حقیقت میں شاہ قاذن کے خلیفہ تھے لیکن جب آپ نے دیکھا کہ لوگوں کا میری طرف رجحان ہے اور اس سے مرشد کے صاحبزادے شیخ ابوالفتح کو تکلیف ہوتی ہے تو آپ شیخ ابوالفتح کے پاس پہنچ گئے اور ان سے مرید ہوکر خلافت حاصل کی۔ شیخ محمد اپنے شجرۂ ارادت میں شیخ ابوالفتح ک۔۔۔
مزید
آپ نہایت درجہ کے بزرگ، عالم، عامل معمر متبرک اور دین دار تھے سخاوت اور مسلمانوں کی امداد و اعانت خوب کرتے تھے شیخ بہاؤالدین زکریا کی اولاد میں سے تھے، 767ھ میں آپ نے انتقال فرمایا، آپ کے صاحبزادہ شیخ جنید بھی نیک لوگوں میں سے تھے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید