آپ عالم باعمل تھے، سیرت و صورت کے لحاظ سے فرشتہ خصلت تھے اور وعظ و نصیحت میں بے مثال تھے، جب وعظ کہتے اور قرآن شریف کی تلاوت کرتے تو کسی کو طاقت نہ تھی کہ وہاں سے چلا جائے اگرچہ اس کے سر پر بوجھ ہی کیوں نہ ہو وہ برابر کھڑے ہوکر آپ کی تلاوت اور وعظ کو سنتا رہتا، دوران وعظ میں خوشخبری اور عذاب کے مختلف مقامات پر آپ کی حالت خود بخود غیر ہوجاتی، شہر کے بلند پایہ علما اور مشائخ آپ کے وعظ میں شریک ہوتے تھے شہر کے اکثر و بیشتر باشندے آپ کے شاگرد تھے۔ آپ کے والد مولانا منہاج اپنے بچپن میں لاہور سے حصول علم کی غرض سے دہلی آئے اور زمانہ طالب علمی میں بے حد تکالیف برداشت کرتے رہے، بعدازفراغت سلطان بہلول کے زمانہ میں مفتی شہر مقرر ہوئے اور یہیں دہلی میں سکونت پذیر ہوگئے۔ حکایت ہے کہ مولانا منہاج بعض اوقات دکانوں سے آٹا اور گھی مانگ لاتے اور اسی کا چراغ بناکرمطالعہ کرتے اور صبح کو اسی کی روٹی پکاکر کھا۔۔۔
مزید
ابن نعمان۔ خزاعی کنیت ان کی ابو شریح۔ عسکری یعنی علی بن سعید نے افراد میں ان کو ذکر کیا ہے ان کے نام میں اکتلاف ہے لہذا میں ان کا ذکر ایک دوسرے مقام میں بھی کروں گا۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن نعمان بن نقع بن زید بن عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار۔ انصاری خزرجی ثم من بنی النجار۔ کنیت ان کی ابو عبداللہ۔ غزوہ بدر میں اور احدم یں اور خندق میں اور تمام مشاہد میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ شریک تھے فضلاء سے صحابہ سے ہیں۔ عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے حارث بن نعمان سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں رسول خدا ﷺ کی طرف سے ہو کے گذرا آپ کے پاس جبرئیل بیٹھے ہوئے تھے میں نے آپ کو سلام کیا اور نکل گیا پھر میں جب لوٹا اور نبی ﷺ بھی فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اس شخص کو دیکھا تھا جو میرے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے عرض کیا کہ ہاں آپنے فرمایا وہ جبرئیل تھے انھوں نے تمہارے سلام کا جواب بھی دیا حضرت ابن عباس نے روایت کی ہے کہ حارث بن نعمان کا گذر نبی ﷺ کی طرف ہوا آپ کے پاس جبرئیل بیٹھے ہوئے تھے آپ ان سے کچھ آہستہ باتیں کر رہے تھے حارثہ نے آپ کو سلام نہیں کیا جبرئیل نے کہا کہ انھوں نے ۔۔۔
مزید
ابن مضرب۔ بقول بعض انھوںنے نبی ﷺ کو دیکھا ہے۔ کوفہ کے رہنے والے ہیں حضرت عمر وغیرہ سے روایت کتیہیں۔ انکا تذکرہ ابو موسی نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن منالک بن غضب بن جشم بن خزرج بعد اس کے یہ بنی مخلد بن عامر بن زریق سے ہوئے انصری ہیں زرقی ہیں۔ واقعدی نے ان کو شرکائے بدر میں ذکر کیا ہے۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ ابن مندہ نے بیان کیا ہے کہ حارثہ بن مالک بن غضب بن جشم انصاری بنی بیاضہ میں سے ہیں بیعت عقبہ میں شریک تھے اور اس کو انھوں نے ابو الاسود سے انھوں ن عروہ سے رویت کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو عمر نے لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ان دونوں کی غلطی ہے کیوں کہ ان دونوں نے جو یہ کہا ہے کہ حارثہ بیٹے ہیں مالک بن غضب کے یہ بہت ہی بعید ہے کیوں کہ نبی ﷺ کے ہمراہ بنی مالک بن غضب سے جو لوگ تھے ان کے اور ان حارثہ کے درمیان میں تقریبا دس پشتوں کا فصل ہے پس کم سے کم یہ انس ے تین سو برس بعد ہوں گ یپس کیوں کر مالک حارثہ کے باپ ہوسکتے ہیں پھر ابو عمریہ بھی کہتے ہیں کہ حارثہ بیٹے ہیں مالک کے اور ان کا نسب بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بنی ۔۔۔
مزید
ابن مالک انصاری۔ حبیب بن عبد کی اولاد سے ہیں۔ بدر میں شریک تھے یہ محمد بن اسحاق کا قول ہے اس کو یونس بن بکیر نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے ابن مندہ نے بھی کہا ہے کہ جو لوگ حبیب بن عبد کی اولاد سے بدر میں شریک تھے ان میں حارث بن مالک بھی ہیں۔ اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ بعض وہم کرنے والوں نے یعنی ابن مندہ نے ان کا ذکر لکھاہے اور اس نے اپنا وہم محمد بن اسحاق کی طرف منسوب کر دیا ہے حالانکہ یہ وہم ہے صلحیح نام ان کا حبیب بن عبد حارثہ بن مالک ہے انھوں نے عبد کے اور حارثہ کے درمیان میں فصل کر دیا اور یہ بت فرض کر لی کہ حارث صحابی کا نام ہے حالانکہ ابن اسحاق نے جو کچھ لکھا وہ اس کے خلاف ہے جو ابن مندہ نے ان سے نقل کی اہے انھون نے ابراہیم بن سعید سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ابن اسحق سے ان لوگوں کے نام میں جو بنی حبیب بن عبد حارثہ بن مالک بن غضب بن جشم بن خزرج سے شہید ہوئے رافع بن ۔۔۔
مزید
مصنف کتاب (شیخ عبدالحق محدث دہلوی) کے نانا تھے، آپ کا اصلی نام زین العابدین تھا، اور عرف شیخ ادھن تھا، بڑے دانش مند اور عابد و زاہد تھے، بے حد خشوع و خضوع، خاکساری و ادب و تہذہب اور وقار و دبدبہ کے بزرگ تھے، شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے والد بزرگوار فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کوئی شخص ایسا نہ دیکھا جس کا ظاہروباطن یکساں ہو، البتہ شیخ ادھن جس آداب سے باہر رہتے وہی طریقے گھر میں بھی برتتےتھے، ہمیشہ ذکر الٰہی سے رطب اللسان رہتے تھے چہرۂ مبارک نہایت خوبصورت تھا، علم و تقویٰ کے انور پیشانی پر چمکتے تھے، اکثر و بیشتر روزے سے رہتے تھے اور کھانے میں بہت احتیاط کرتے تھے، سلطان لودھی نے آپ کو اپنا نگراں مقرر کرنا چاہا لیکن آپ نے انکار فرمادیا، آپ مولانا سماع الدین کے مرید تھے اور میاں عبداللہ طبنی سے شرف تلمذ حاصل کیا، آپ کی وفات934ھ میں ہوئی، حوض شمسی کے مغرب میں آپ کا مقبرہ ہے، اللہ آپ سب پر رحمتیں نا۔۔۔
مزید
آپ سلطان بہلول کے زمانہ میں خواجہ قطب الدین والحق کےملازم اور صحبت یافتہ تھے نیز آپ سے روحانی استفادہ کرتے تھے، ایک مرتبہ کسی ضروری کام کے لیے اپنے وطن سے روانہ ہوئے راستے میں دریا پڑا جب اس کی گہرائی میں پہنچے تو ہلاکت کے قریب ہوگئے، اسی لمحہ دریا میں سے ایک آدمی نمودار ہوا جس نے آپ کو ڈوبنے سے بچالیا، وہاں سے گھر واپس ہوئے، پھر کبھی باہر قدم نہیں نکالا اور بلاواسطہ خواجہ قطب الدین سے استفادہ کی نسبت قائم کرلی اور دوسرے لوگوں کو مُرید کرنے لگے، آپ کا مقبرہ حوض شمسی پر ہے، اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
ابن قطن بن زابر بن کعب بن حصن بن علیم بن جناب بن ہبل بن عبداللہ بن کنانہ بن بکر بن عوف بن عذرہ ابن زید لات بن رفیدہ بن ثور بن کلب بن دبرہ۔ کلبی۔ نبی ﷺ کے حضور میں یہ اور ان کے بھائی حصن وفد بن کے گئے تھے حضرت نے ان دونوں کو یہ تحریر لکھ دی تھی بسم اللہ الرحمن الرہیمن من محمد رسول اللہ لحارثۃ و حصن ابنی قطن لاہل الموات من بنی جناب من الماء الجاری العشر و من العشری نصف العشر فی السنۃ فی عمائر کلب(٭ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرہیم یہ تحریر ہے محمد رسول اللہ کی طرف س حارثہ اور حصن فرزندان قطن کے نام کہ قبیلہ بنی جناب کی افتادہ زمیں میں آب جاری سے جو چیز پیدا ہو اس پر ……… سے پیدا ہو اس پر نصف عشر ہے قبیلہ کلبکی تمام آبدی کا یہی حکم ہے) ان کا تذکرہ ابو عمر اور ابو موسی نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عدی بن امیہ بن ضبیب۔ بعض لوگوں نے ان کا تذکرہ صحابہ میں لکھا ہے۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ یہ ایک مجہول شخص ہیں مشہور نہیں ہیں بخاری نے ان کو ذکر کیا ہے۔ عصمہ بن کمیل بن وہب بن حارث بن عدی بن امیہ بن ضبیب نے اپنے اپنے باپ دادا سے انھوں نے حارثہ بن عدی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں اور میرے بھائی اس وفد میں تھے جو رسول خدا ﷺ کے حضور میں گیا تھا تو حضرت نے فرمایا کہ اے اللہ حارثہ کو ان کے رزق میں برکت دے ابن ماکولا نے ان کا ذکر کیا ہے ور کہا ہے کہ حارچہ بن عدی ان کا شمار اہل شام میں ہے صحابی ہیں۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید