جمعہ , 29 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 17 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت شیخ کبیر

آپ شیخ فرید بن عبدالعزیز بن شیخ حمیدالدین صوفی ناگوری کی اولاد میں سے تھے۔ بڑے بزرگ اور بلند مرتبہ ولی تھے، علوم ظاہری و باطنی میں آپ کو کمال حاصل تھا۔ کتاب دہن جو مصباح کی شرح ہے آپ کی ہی تصنیف ہے۔ ناگور سے کافروں کی فرقہ پردازیوں کی وجہ سے ہجرت کر کے گجرات چلے گئے تھے اور وہیں مستقل سکونت اختیات کی۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن خالد بن صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ۔ محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی کے دادا ہیں مہاجرین اولین میں سے ہیں۔ انھوں نے اپنی بی بی ریطہ بنت حارث بن حبیلہ بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم کے ساتھ سرزمیں حبش کی طرف ہجرت کی تھی ان کا اور ان بی بی کا نسب عامر میں جاکے مل جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انھوں نے جعفر بن ابی طالب کے ہمراہ حبش کی طرف پھر دوبارہ ہجرت کی تھی اور وہیں حبش میں ان کی اولاد یعنی موسی اور عائشہ اور زینب اور فاطمہ پیدا ہوئی تھیں یہ سب بچے حبش ہی میں مر گئے تھے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے والد انھیں حبش سے نبی ﷺ کے پاس لئے ہوئے آرہے تھے اثنائے راہ میں انھوں نے کہیں پانی پیا (اس پانی میں نہ معلوم کی اتھا کہ) سب مر گئے صرف یہی تنہا بچ رہے جب یہ مدینہ پہنچے تو نبی ﷺ نے یزید بن ہاشم بن مطلب بن عبد مناف کی لڑکی سے ان کا نکاح کر دیا۔ ابو عمر نے ان کے تذکرہ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن حکیم ضبی۔ ہمیں ابو موسی نے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابوبکر بن حارثنے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو احمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو عمر بن حسن بن علی ش مجھ سے منذر بن محمد نے بیان کیا دیکھت یھے ہمیں حسین بن محمد نے یوسف بن عمر سے انھوں نے صعب بن بلال غیبی سے انھوں نے اپنے والد حارث بن حکیم غبنی سے روایت کی ہے کہ وہ رسول خدا ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے حضرت نے پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے انھوں نے عرض کیا کہ عبد الحارث حضرت نے فرمایا تم عبداللہ ہو پس آپ نے ان کا نام عبداللہ رکھا اور انھیں ان کے قوم کے صدقات کا متولی بتایا۔ انکا تذکرہ ابو موسی نے ابن مندہ پر استدراک کرنے کے لئے لکھا ہے مگر اس میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کیوں کہ انھوں نے ان کا وہی نام لکھا ہے جو جاہلیت میں تھا یعنی عبد الحارث اگروہ ان کا اسلامی نام لکھتے یعنی عبداللہ تو پھر ان کے یہاں کر کرنے کی کو۔۔۔

مزید

حضرت شاہ میا جیو

آپ ایک ہی واسطہ کے ذریعہ میر سید محمد گیسودراز کے مرید تھے بڑے کامل بزرگ تھے۔ مندو میں اس وقت آپ سے بڑھ کر اور کوئی بزرگ نہ تھا آپ مندو کے علاقہ کے بزرگ تھے۔ آپ کی عمر ایک سو بیس برس کی اور آپ کے شیخ کی ایک سو پچاس برس کی تھی۔ کہتے ہیں کہ آپ رجب کے اوائل میں دسویں محرم الحرام تک اعتکاف میں بیٹھا کرتے تھے اور اپنے کمرے کے دروازے کو پتھروں سے بند کروادیا کرتے تھے اور اس چھ ماہ کے درمیان کچھ نہ کھایا کرتے تھے۔ صرف تھوڑا سا پانی پی کر اسی پر اکتِفا کرلیا کرتے تھے۔ اس چھ ماہ کے اعتکاف کو ختم کر کے جب کمرے سے باہر نکلنے کا اِرادہ فرماتے تو اندر سے بلند آواز سے چیختے تاکہ کوئی آپ کے سامنے نہ رہے ورنہ آپ کی جلالی نظر کی تاب نہ لاسکے گا۔ اتفاق سے اگر کوئی آدمی وہاں رہ جاتا اور آپ کی اس پر نظر پڑجاتی تو دو تین دن تک وہ بے ہوش پڑا رہتا تھا شہر کا قاضی آپ کی ولایت و کرامت کا منکر تھا اور اکثر آپ سے اح۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

ابن حکم سلمی۔ نبی ﷺ کے ہمراہ انھوں نے تین غزوے کئے تھے ان سے عطیہ دعاء نے رویت کی ہے مگر یہ وہم ہے (کہ ان کا نام۹ حلم بن ہارث (ہے)یہی ابن مندہ نے لکھا ہے اور ابو نعیم نے ان کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ بعض متاخرین نے ان کا ذکر لکھا ہے اور کہا ہے کہ یہ وہم ہے صحیح نام ان کا حکم بن حارث ہے اور انھوں نے ان کا تذکرہ حکم کے نام میں لکھا ہے۔ اور ابو عمر نے ان کا تذکرہ حکم ہیکے ام میں لکھا ہے اور ان دونوں ے بھی ان کا تذکرہ حکم کے نام میں لکھا ہے) (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

حضرت قاضی نصیرالدین گنبدی

آپ بڑے دانش مند بزرگ تھے، دنیا اور اہل دنیا سے بالکل الگ تھلگ رہتے تھے کہتے ہیں کہ آپ کے طالب علم آپ کی خانقاہ کی زنجیر پکڑ کر کھڑارہا کرتے تھے تاکہ فاقہ اور ضنعف کی وجہ سے گر نہ جائیں۔ قاضی شہاب الدین نے کافیہ کا حاشیہ لکھ کر آپ کی طرف بھیجا اور درخواست کی کہ اس میں کچھ اضافہ فرمادیں تاکہ اور بھی زیادہ فائدہ رساں ہو جائے۔ آپ نے کثرت مشاغل یا بحث و نزاع کے سد باب کے لیے اس پر سر سری نظر ڈال کر لکھا کہ یہ کتاب آپ نے بہترین لکھی ہے اس میں مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں، آپ کا مزار جونپور میں ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

(سیدنا۹ حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن حسان ربعی بکری ذہلی۔ بعض لوگ ان کو حویرث کہتے ہیں۔ کوفہ میں رہتے تھے۔ ان سے ابو وائل نے اور سماک بن حرب نے رویت کی ہے وہ کہتے تھے ہمیں عبد الوہاب نے اپنی سند سے عبداللہ بن احمد تک خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں عفان نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں سلام یعنی ابو المنذر قاری نے عاصم بن بہدلہ سے انھوں نے ابو وائل نے انھوں نے حارث بن حسان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے ہمارا گذر مقام ربذہ میں ایک بوڑھیا پر ہوا جو راستہ بھول گئی تھی خاندان بن تمیمس ے تھی اس نے (ہم سے) پوچھا کہ تم لوگ کہاں جاتے ہو ہم لوگون نے کہا کہ ہم رسول خدا ﷺ کے حضور میں جاتے ہیں اس بوڑھیا نے کہا مجھے بھی اپنے ہمراہ لے چلو مجھے ان سے کچھ کام ہے حارث کہتے تھے میں نے اسے اپنے ہمراہ بٹھا لیا جب میں (مدینہ منورہ) پہنچا تو میں مسجد میں گیا مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی اور ایک سیاہ جھنڈا ہل رہ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن حیال بن ربیعہ بن دعیل بن انس بن خزیمہ بن مالک بن سلامان بن اسلم اسلمی۔ نبی ﷺ کی صحبت سے فیضیاب ہوئے تھے اور آپ کیہمراہ حدیبیہ میں شریک تھے۔ ابن شاہین نے اور طبری نے اور کلبی نے ان کا ذکر لکھا ہے اور کلبینے ان کا نسب بھی ویسا ی بیان کیا ہے جیسا ہم نے بیان کیا اور انھوں نے ابو برزہ کانسب بھی بیان کیا ہیاور کہا ہے ابو برزہ بن عبداللہ بن حارث بن حیال پس اس تقدیر پر حارث ابو برزہ کے دادا ہوں گے اور یہ بہت بعید ہے ابو برزہ کا پورا نسب ان شاء اللہ تعالی بیان کیا جائے گا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن حباب بن ارقم بن عوف بن وہب۔ کنیت ان کی ابو معاذ قاری۔ اس کو ابن شاہین نے بیان کیا ہے ان کا تذکرہابو موسینے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ علی پیرو گجراتی

آپ صوفی اور بڑے موحد عالم تھے۔ علومِ باطنی اور ظاہری میں کامل دسترس رکھتے تھے۔ آپ نے بہت سی کتابیں بھی لکھی تھیں جو بہت عمدہ اور مفید ہیں آپ کی تالیفات مندرجہ ذیل ہیں۔ ۱۔ شرح فصوص الحکم۔ اس میں آپ نے ظاہر کو باطن کے مطابق کرنے کی کوشش کی ہے۔ ۲۔ جاولتہ التوحید، اس میں بہت ہی مختصر اور پاکیزہ مضامین ہیں۔ ان کے علاوہ بھی آپ نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔اور رسالہ ’’جاولتہ التوحید میں‘‘ عقلی و نقلی دلائل سے شکوک و شہبات کا محققانہ اندازہ  سے احاطہ و ازالہ کیا ہے۔ اس رسالہ کے ابتداء میں بہت سی قرآنی آیات اور احادیث نبوی لکھی ہیں جو نفس مضمون کے لیے کافی موضح اور مبین ہیں اور اس کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ وہ دلائل ہیں جو منکرین توحید کے قلوب سے کفرو شرک کے مہیب پردوں کو دُور کرتے ہیں۔ ۱۔        فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللہ اِنَّ ال۔۔۔

مزید