شیخ الحدیث علامہ پیر ابو الخیر سیّد حسین الدین شاہ سلطان پوری کاظمی
نام : حسین
الدین
کنیت : ابو الخیر
والدِ گرامی : علامہ پیر سیدضیاء الدین
شاہ سلطان پوری رحمۃ اللہ علیہ
نسب: آپ کا تعلق سلطان پور کے
مشہور کاظمی سادات سے ہے۔
برادرِ اکبر: حضرت
علامہ پیر سیّد غلام محی الدین شاہ سلطان پوری، سابق
مہتمم جامعہ رضویہ ضیاء العلوم راولپنڈی
ولادت :
آپ کی ولاد ت باسعادت ۱۹۳۳ء میں موضع سلطان پور ضلع اٹک (علاقہ حسن
ابدال) کے ایک علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔
سلسلہ نسب :
علامہ پیر
سید حسین الدین شاہ مشہدی سلطان پوربن پیر سید ضیاء الدین بن سید حمید بن سید
سپارت بن سید نور علی بن سید ضیاء الدین شاہ اول بن سیدمحمد نعیم الدین بن سید
محمد شریف بن سید احمد بن بہاؤالدین بن سید برھان الدین بن سید اسماعیل بن سید
اسحاق بن سید خواج محمد بن سید شریف الدین بن جمال الدین شاہ مشہدی بن سید حبیب
اللہ بن سید حمید شاہ مشہدی بن سید شاہ زین العابدین موسی
المشہدی المعروف شاہ زین سرکار بن سید نصیر الدین بن سید علی شیر بن شاہ عبدالکریم
بن سید وجہ الدین بن سید محمد ولی الدین بن سید محمد ثانی الغازی بن سید سلطان رضا
الدین بن سید سلطان صدر الدین بن سید محمد احمد سابق بن سید الشریف السیدسلطان
ابوا لقاسم حسین الموسوی المشہدی بن سید علی الامیر بن سید عبدالرحمن رئیس الزمان بن سید اسحاق ثانی بن سید
ابو الحسن موسی الزاہد بن سید ابو الحسن
محمد العالم بن سید ابو القاسم عبداللہ بن سید عبداللہ محمد بن سید اسحاق
الامیر بن امام موسی کاظم بن امام جعفر
الصادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن امام علی
تحصیلِ علم:
آپ نے فارسی کی مروجہ کتب سکندر نامہ تک
اپنے عم مکرم حضرت مولانا سید حسن شاہد رحمہ اللہ سے پڑھیں۔ قرآن پاک حافظ محمد
صدیق (دربار شریف) اور مولانا حافظ عبدالغفور مہتمم جامعہ غوثیہ راولپنڈی سے حفظ کی
تکمیل ۔
درسِ نظامی کی تمام کتب متداولہ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۳ء تک اپنے آبائی گاؤں
سلطان پور، دارالعلوم عزیزیہ بھیرہ اور دربارِ عالیہ گولڑہ شریف میں پڑھیں اور
فنون میں آپ نے جن اساتذہ سے استفادہ کیا، ان کے اسماء گرامی ۔
·
والد ماجد حضرت علامہ پیر سیدضیاء الدین
شاہ سلطان پوری رحمۃ اللہ علیہ
·
برادرِ اکبر حضرت علامہ پیر سیّد غلام محی الدین شاہ سلطان پوری رحمۃ
اللہ علیہ
·
استاذالعلماء حضرت علامہ مولانا محب النبی گولڑوی
رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت علامہ مولانا فریدالدین رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت علامہ مولانا خدا بخش بھیروی رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت علامہ مولانا محمود شاہ شاگردِ رشید حضرت مولانا لطف
اللہ علی گڑھی رحمۃ اللہ علیہ
سند فراغت :
آپ نے محدثِ اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ سے جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں درسِ
حدیث لے کر۱۳۷۶
ھ میں سندِ فراغت حاصل کی ، نیز علامہ مولانا محب النبی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو حضرت خواجۂ خواجگان پیر سید مہر علی
شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل حدیث و دیگر
علوم میں اجازت بھی عطا فرمائی۔
بیعت و خلافت :
آپ نے جانشین تاجدار گولڑہ پیرِ طریقت حضرت خواجہ پیر سید غلام محی الدین شاہ گیلانی المعروف بابوجی رحمۃ اللہ علیہ (گولڑہ شریف) کے دست حق پرست پر بیعت کا شرف
حاصل کیا، نیز پیر و مرشِد حضرت بابو جی رحمۃ اللہ علیہ اور
قطب ِمدینہ خلیفہ اعلیٰ حضرت علامہ
مولانا ضیاء الدین احمد قادری مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو سلاسلِ طریقت میں اجازت عطا فرمائی۔
تدریسی فرائض:
آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز دارالعلوم
عزیزیہ بھیرہ سے کیا، جہاں آپ نے دورۂ حدیث سے قبل ایک سال پڑھایا۔ ایک سال مدرسہ
رفیع الاسلام ملک وال اور چار سال جامعہ غوثیہ راولپنڈی میں تدریسی فرائض سرانجام
دینے کے بعد آپ نے ۱۹۶۴ء میں گلستان مہر علی جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کی بنیاد رکھی
اور وصال تک اسی دارالعلوم میں تدریسی فرائض سر انجام دیتے رہے، اور اسی طرح ۱۹۵۸ء سے جامع مسجد سبزی منڈی راولپنڈی میں خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ۔
تصنیف:
۱۹۵۸ء میں آپ نے اولیائے کرام
کے تصروفات کے موضوع پر ایک کتاب بنام ’’ھَدْیَۃُ الْاَحْبَاب فِی التَّصَرُّفَاتِ مَا فَوْقَ الْاَسْبَاب‘‘ تحریر فرماکر چھپوائی۔
تحریکِ پاکستان میں کردار :
تحریکِ پاکستان کے دوران اگرچہ آپ کا
بچپن تھا، لیکن پھر بھی سنّی گھرانے کے
ایک فرد ہونے کی حیثیت سے آپ پاکستان کے قیام کی خاطر اپنی ہمت اور بساط کے مطابق
کام کرتے رہے۔ آپ کے برادرِ اکبر حضرت مولانا سیّد عبدالرحمٰن شاہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے علاقے میں نیشنل گارڈ کے سالار تھے
اور آپ بھی اس گارڈ میں شامل تھے۔ تحریکِ
ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء میں جب کہ آپ تعلیم حاصل
کر رہے تھے، مختلف مقامات پر تحریک کے حق میں تقاریر کیں اور بھیرہ ضلع سرگودھا سے
گرفتاریاں پیش کرنے والے قافلے کے امیر مقرر ہوئے، سرگودھا سے آپ نے گرفتاری پیش
کی اور تحفّظ ِناموسِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر تین ماہ شاہ پور جیل میں
پابندِ سلاسل رہے۔تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۷۴ء میں آپ تحفّظِ ختمِ نبوّت کی مرکزی
مجلسِ عمل کے رکن رہے۔ پالیسی ساز اجلاسوں اور مختلف علاقوں کے جلسوں میں شرکت اور
تنظیم سازی کے علاوہ آپ نے اپنے زیرِ اہتمام مرکزی راہنماؤں کے جلسے کرائے اور مختلف
کتب خانوں سے مرزائیوں کی کتابیں مہیا کرکےاسمبلی میں پیش کرنے کے لیے قائدین کو
مواد مہیا کیا۔ا س تحریک میں آپ نے ملک بھر کے مشائخ کو بلاکر اپنے دارالعلوم میں
مشائخ کانفرنس منعقد کی اور مرزائیوں سے سماجی بائیکاٹ کی تائید کرکے تحریک کو
تازہ کمک پہنچائی۔
تحریکِ نظامِ مصطفیٰﷺ:
تحریکِ نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ
وسلم میں آپ نے گرفتاریاں پیش کرنے کے لیے کارکن تیار کیے۔ اپنے دارالعلوم جامعہ
رضویہ اور جامعہ کے زیرِ اہتمام مساجد سے گرفتاریاں پیش کرائیں۔ اس طرح عملی طور
پر راولپنڈی میں تحریک کو آگے بڑھا رہے تھے اور اس وقت جب کہ دیگر جماعتیں بالخصوص
جماعتِ اسلامی کے پاس گرفتاریاں پیش کرنے کے لیے کارکن نہیں تھے۔ آپ کے طلبہ اور
معتقدین نظامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کے لیے گرفتاریاں پیش کر رہے
تھے۔
مُناظرہ:
ایوب
خان کے دور میں جب ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی کے چیئرمین ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی غیر اسلامی
تحریرات پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا اور اس کی برطرفی کا مطالبہ ہونے لگا، تو
اس وقت کے وزیرِ قانون جناب ایس ایم ظفر سے علما کے ایک وفد نے ان کی کوٹھی پر
ملاقات کی، اس موقع پر ڈاکٹر فضل الرحمان بھی موجود تھا۔ ڈاکٹر موصوف سے
علامہ سیّد حسین الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے دو گھنٹے مناظرہ کیا، یہاں تک اسے اپنی
غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑا اور اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ ابھی یہ وفد گھر بھی نہ
پہنچا تھا کہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کو برطرف کردیا گیا۔
جمعیتِ علمائے پاکستان:
آپ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی مجلسِ
عاملہ کے ممبر بھی رہے۔
تنظیم المدارس:
تنظیم المدارس (اہل ِسنّت ) پاکستان کےمرکزی
سر پرستِ اعلیٰ نیز جماعتِ اہلِ سنّت پاکستان سنّی سپریم کونسل کے چیئر مین بھی رہے
۔
اَولادِ اَمجاد :
آپ کے ہاں دو صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں
تولد ہوئیں۔
·
صاحبزادہ علامہ پیر سیّد انعام الحق شاہ
·
صاحبزادہ علامہ پیر سیّد حبیب الحق شاہ
وصال:
آپ کا وصالِ
پُر ملال بروز جمعۃالمبارک 7؍ اگست 2026ء مطابق 23؍ صفر المظفر 1448ھ کو ہوا ۔
نمازِ جنازہ :
بروز ہفتہ
8اگست 2026ء مطابق 24؍ صفر المظفر 1448ھ، سلطان پور شریف، ہروئی والا تحصیل حسن
ابدال ، ضلع اٹک، پنجاب پاکستان میں ادا کی گئی ۔
