اتوار , 13 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 01 February,2026


نعت   (894)





آغوشِ تصوّر میں مدینے کی زمیں ہے

آغوشِ تصوّر میں مدینے کی زمیں ہے فردوس نظر میں ہے تو دل عرش بریں ہے   دِل جلوۂ محبوب خدا سے ہے منوّر اُس حُسن عطا سے مری جھولی بھی حسیں ہے   ہے پیشِ نظر روضۂ سرکار ِ دو عالم آقا ہیں جہاں میرا تصوّر بھی وہیں ہے   کہتی ہے مدینے کی فضا ذوقِ نظر سے کعبہ ہے یہیں، عرش یہیں، طور یہیں ہے   ہے ان کے تصدّق سے بھرم دونوں جہاں کا سرکار کا ممنونِ کرم کون نہیں ہے   واعظِ یہی سجدہ ہے مری زیست کا حاصل سنگِ درِ محبوب پہ خم میری جبیں ہے   قیدِ غمِ کونین سے آزاد ہوں خاؔلد غمخوار مرا گنبدِ خِضرا کا مکیں ہے۔۔۔

مزید

مری ہستی کی زینت آپ کا غم ہو تو کیا کہنا

مری ہستی کی زینت آپ کا غم ہو تو کیا کہنا یہی مرہم مرے زخموں کا مرہم ہو تو کیا کہنا   جہانِ رنگ و بو کے ہیں نظارے کیف زا لیکن نظر میں حُسن ِ سرکار ِ دو عالم ہو تو کیا کہنا   نگاہیں گنبد خضرا پہ ہوں اور دم نکل جائے دَمِ آخر اگر میرا یہ عالم ہو تو کیا کہنا   فقیر بے نواہیں ہم کرم کی بھیک مانگیں گے درِ محبوب حق سے ربط محکم ہو تو کیا کہنا   مرا ذوقِ پرستش تِشنگی محسوس کرتا ہے دَرِ سرکار پر میری جبیں خم ہو تو کیا کہنا   سہارابن کے خود موجیں مجھے پہنچائیں ساحل تک اگر نام ِ نبی کا ورد پہیم ہوتو کیا کہنا   یہی ہے دولت کونین بخشش کی ضمانت بھی غمِ عشق نبی میں آنکھ پر نم ہو تو کیا کہنا   نبی کا آستاں ہو اور جبینِ شوق ہو خاؔلد ہر اک سجدے میں اِک معراج پہیم ہو تو کیا کہنا۔۔۔

مزید

آیا لبوں پہ ذِکر جو خیر الانام کا

آیا لبوں پہ ذِکر جو خیر الانام کا غوغا ہوا بلند دُورد و سلام کا   مجھ پر نثار ہونے لگیں مستیاں تمام میں کر رہا تھا وِدد محمد کے نام کا   جلوؤں کی بھیک دے مجھے اےجانِ مدعا شہرہ ہے دو جہاں میں ترے فیض ِ عام کا   سب لے کے آرہےہیں مرادیں، میں اپنا دل کر لیجئے قبول یہ تحفہ غلام کا   اسریٰ کی شب اڑا جو غبارِ رہِ حضور غازہ بنا فلک پہ وہ ماہِ تمام کا   کشتی ہماری بحرِ حوادث میں جب پھنسی دیکھا کمال ہم نے محمد کے نام کا   شاہوں کی جس کے سامنے پھیلی ہیں جھولیاں میں ہوں فقیر اس شہ عالی مقام کا   رشکِ ارم ہے دِل غمِ عشق ِ حبیب سے خاؔلد ہے جب سے وِرد محمد کے نام کا۔۔۔

مزید

منہ فق ہے جس کے سامنے ماہِ تمام کا

منہ فق ہے جس کے سامنے ماہِ تمام کا چہرہ ہے وہ رسول علیہ السّلام کا   اِک چھینٹا بھی جو اُچھلا تو مستی میں ڈھل گیا میخانہءِ السّت کے لبریز جام کا   روح الامیں ہیں ششدرو حیراں عروج پر اللہ رے عروج یہ عالی مقام کا   صَلِ علی ٰ یہ فیض مساوات ِ مصطفی جو مرتبہ ہے شاہ کا اَدنی غلام کا   معیار ِ حق اسی کی زباں لا کلام کا جو مصدر ِ مبیں ہے خدا کے کلام کا   مٹنا ہی زِندگی ہے محبت کی راہ میں آ جائے کام میں تو یہ دِل بھی ہے کام کا   ہم کس شمار میں ہیں اویس و بلال بھی حق کر سکے ادا نہ ترے احترام کا   خاؔلد ہے میرا دین ٖغلامی رسول کی قائل نہین ہوں اور کسی بھی نظام کا۔۔۔

مزید

سراپا عکس حق روئے مبیں ہے

سراپا عکس حق روئے مبیں ہے ترا ثانی تو کیا سایہ نہیں ہے   ترے نقشِ کفِ پا کی بدولت در خشاں چاند تاروں کی جبیں ہے   بجا پُر حول ہے محشر کا منظر وہ حامی ہیں تو پھر کچھ غم نہیں ہے   مرے دِل میں ہیں جلوے لا مکاں کے مکین ِ لامکاں دِل میں مکیں ہے   مجھے سمجھے نہ دنیا بے سہارا مرا آقا شفیع المذنبیں ہے   جمالِ مصطفی اللہ اکبر سراپا شرح قرآن ِ مبیں ہے   خبر دیتی ہے یہ معراج کی شب فلک بھی آپ کے زیر نگیں ہے   محبت سرور ِ کون و مکاں سے یقیں، عین الیقیں حق الیقیں ہے   یہی معراج ہے سجدوں کی خاؔلد نبی کے آستانے پر جبیں ہے۔۔۔

مزید

وہ شان پائی کے نبیوں میں انتخاب ہوئے

وہ شان پائی کے نبیوں میں انتخاب ہوئے وہ حُسن پایا کہ اپنا ہی خود جواب ہوئے   پڑی ہے جِن پہ نگاہِ کرم شعار تری وہ ذرّئے طور ہوئے رشکِ آفتاب ہوئے   تمہارا نام مصیبت میں سے کے کام آیا خطا معاف ہوئی دور سب کے عذاب ہوئے   ہے واسطہ کرم بے حساب سے پھر بھی یہ مانا جرم تو عاصی سے بے حساب ہوئے   راہِ نجات ملی سے نہ زِندگی کا سکوں جو اُن کے در سے پھرے در بدر خراب ہوئے   کوئی نظیر نہ کوئی مِثال ملتی ہے غلام آپ کے سار ے ہی لا جواب ہوئے   وہ تاج بخشِ زمانہ ہوئے خدا کی قسم درِ رسول سے جو لوگ فیض یاب ہوئے   جنہیں پناہ ملی دامنِ محمد میں وہ خوش نصیب دو عالم میں کامیاب ہوئے   شمار میں نہیں آئیں گی نیکیاں خاؔلد مرے گناہ اگر داخل ِ ثواب ہوئے۔۔۔

مزید

یہ عشق نبی اللہ و غنی

یہ عشق نبی اللہ و غنی جب زیست کا عنواں ہوتا ہے آنکھوں میں بہاریں رہتی ہیں دل خلد بد اماں ہوتا ہے   اِک فخر ہے اوج قِسمت پر نازاں ہیں تمہاری نسبت پر اَب آپ کا دامن تھام لیا اَب کون پریشاں ہوتا ہے   وہ قلب تو عرش اعظم ہے اس قلب کی عظمت کی کہنا جس قلب کے ہر اک گوشے میں سرکار کا ارماں ہوتا ہے   غم خوارِ اُمم سے اُمت کی دیکھی نہیں جاتی امداد کو آہی جاتے ہیں جب کوئی پریشان ہوتا ہے   بگڑی ہوئی قسمت بنتی ہے منہ مانگی مرادیں ملتی ہیں سرکار ِ مدینہ کے در پر ہر درد کا در ماں ہوتا ہے   کونین کی ہر شے ہے اس کی ہر شے پہ تصّرف ہے اس کا داتا ترے دَر کا منگتا بھی تقدیر کا سلطاں ہوتا ہے   رحمت کی گھٹا چھا جاتی ہے ہو جاتی ہے جلوؤں کی بارش جب ذِکر تمہار ا صلّے علیٰ اے خسروِ خوباں ہوتا ہے   مونس ہیں وہی مجبوروں کے ہمدم ہیں وہی معذوروں کے سب کچھ ہیں محم۔۔۔

مزید

عطا کرتی ہے شان ماؤرائی یارَسول اللہ

عطا کرتی ہے شان ماؤرائی یارَسول اللہ تمہارے آستانے کی گدائی یا رَسول اللہ   ہمارے آنسوؤں کو جذب کر لو اپنے دامن میں یہی ٹوٹے دلوں کی ہے کمائی یا رَسول اللہ   درِ اقدس پہ سر رکھ کر مِٹالوں ہر غمِ ہستی! اگر قسمت سے ہوجائے رسائی یا رسول اللہ   ترے در کے فقیروں کا دو عالم پر تصرَّف ہے بنا دیتی ہے کیا تیری گدائی یا رسول اللہ   سر محشر ہر اک لب پر یہ نعرہ ہو تو کیا غم ہے دُہائی ہے دُہائی ہے دُہائی یا رسول اللہ   جو ہاتھ آے تیری خاکِ کف پا بھی تو میں سمجھوں کہ میں نے دَولت ِ کونین پائی یا رسول اللہ   بَرسنے لگ گیا ابرِ کرم حِرماں نصیبوں پر تمہاری یاد رَحمت بن کے چھائی یا رسول اللہ   جسے جو چاہو دے دو جس قدر چاہو عطا کردو تمہاری ملک ہے ساری خدائی یارسول اللہ   گرفتار ِ غمِ وآلا ہے مدّت سے یہ خاؔلد دُہائی یا رسول اللہ رہائی یا رسول ۔۔۔

مزید

ہر عیاں میں ہیں نہاںسیّدِ مکی مدنی

ہر عیاں میں ہیں نہاںسیّدِ مکی مدنی ہر نہاں سے ہیں عیاں سیّد مکی مدنی   رونق ِ کون و مکاں سیّد مکی مدنی بے نشاں کا ہیں نشاں سیّد مکی مدنی   مہر و ماہ بن کے چمکتے ہیں فلک پر اب تک پائے اقدس ک نشاں سیّد مکی مدنی   تیرا دربار سلامت تو سَلامت ہم بھی ہے یہی جائے اماں سیّد مکی مدنی   آپ ہوتے نہ سہارا جو گنہ گاروں کا پھر ٹھکانہ تھا کہاں سیّد ِ مکی مدنی   نور جاں نام ہے تیرا، تو تِرا ذکرِ جمیل وجہ تسکین ِ جہاں سیّد مکی مدنی   گھیر رکھا ہے مجھے ہجر کی تاریکی نے اِک جھلک نورِ فشاں سیّد ِ مکی مدنی   دیکھنے والوں نے دیکھا ہے تری صورت میں جلوۂ ذات عیاں سیّد ِ مکی مدنی   روز ِ محشر کا نہ کر خوف ذرا بھی خاؔلد ہیں نگہبان وہاں سیّد ِ مکی مدنی۔۔۔

مزید

دل میرا یہ کہتا ہے محبوب خدا کہیئے

دل میرا یہ کہتا ہے محبوب خدا کہیئے ایماں کا تقاضا ہے کچھ اس سے سوا کہیئے   محبوب و محب کہیئے یا سَرِ خدا کہیئے الفاظ نہیں ملتے کہیئے بھی تو کیا کہیئے   نعلین ِ محمد کا ہر ذرہ ستارا ہے خورشید ِ منور کو نقش کفِ پا کہیئے   دیدارِ محمد ہی حاصل ِ ہے عبادت کا بےدیدادا ہو تو سجدے کو قضا کہیئے   ہر ذرّہ مدینے کا صد طور بداماں ہے جنت کی بہاروں کو طیبہ کی فضا کہیئے   جو غایت ِ آدم ہے جو باعثِ عالم ہے اس نور ِ مجسم کی تعریف میں کیا کہیئے   منگتا ہے مگر کس کا؟ نسبت تو ذرا دیکھو سرکار کے در کا ہی خاؔلد کو گدا کہیئے۔۔۔

مزید

آزردہ آب دیدہ ہوں میں اُن کی چاہ میں

آزردہ آب دیدہ ہوں میں اُن کی چاہ میں اِک رنگ ِ حُسن ہے مرے حالِ تباہ میں   آئے ہیں سر جھکائے ہوئے بار گاہ میں لےَ لَو ندامتوں کو اَب اپنی پناہ میں   ایسے درِ قبول سے نسبت ہوئی نصیب تاثیر دیکھتا ہوں دعاؤں میں آہ میں   اے عالمِ حضوری سرکار زندہ باد تیرے سوا کوئی نہ جچے گا نِگاہ میں   تیری عطائے خاص مرے کام آگئی گنجائشِ نِجات نہیں تھی گناہ میں   حیراں کھڑا ہوں کیسے مدینے کو جاؤں میں آنکھیں بچھی ہوئی ہیں ہر اک سمت راہ میں   خاؔلد کی آرزد ہے کہ ہنگامِ موت بھی جلوے بسے ہوئے ہوں تمہارے نِگاہ میں۔۔۔

مزید

جو خوش نصیب مدینے بلائے جاتے ہیں

جو خوش نصیب مدینے بلائے جاتے ہیں نجات کے انہیں مژدے سنائے جاتے ہیں   میں ایسے در کا گدا ہوں مجھے کمی کیا ہے جہاں فقیر بھی سُلطان بنائے جاتے ہیں   نبی کے نور کا صدقہ ہے جاری و ساری کہ اَب بھی دونوں جہاں جگمگائے جاتے ہیں   کسی کی یاد کا ایسا صلہ نہیں ملتا وہ میرے دل کو مدینہ بنائے جاتے ہیں   دیا ہے یہ بھی قرینہ تری محبت نے ہر ایک غم کو ترا غم بنائے جاتے ہیں   عجیب ڈھنگ ہے محشر میں پردہ پوشی کا کہ بے حساب ہمیں بخشوائے جاتے ہیں   وہ سُن رہےہیں یقیناً اسی توقع پَر؟ فسانہءِ غمِ ہستی سُنائے جاتے ہیں   نہیں ہے اور کوئی چیز بھی کہ نذر کریں ہمارے پاس ہیں آنسو بہائے جاتے ہیں   ضرور پہنچیں گے خاؔلد ِ ہم اپنی منزل تک سران کے نقش ِ قدم پر جھکائے جاتے ہیں۔۔۔

مزید