حضرت حاجی محمد نوشاہی گنج بخش کے عالی شان مریدوں اور بلند مرتبہ والے خلیفوں سے تھے۔ سلوک و معرفت میں حالاتِ عجیب اور مقاماتِ بلند رکھتے تھے۔ مرشد صاحب اکثر آپ کے حق میں فرمایا کرتے کہ اگر قیامت کے روز میرے اور صدرالدین کے درمیان دوزخ حائل ہوجائے یقین کلّی ہے کہ صدرالدین دوزخ میں قدم رکھ کر اس راہ سے میرے پاس آئے گا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ صدرالدین ادائل عمر میں دنیا کے لہو و لعب میں بے حد مشغول تھے۔ جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو تمام مکروہاتِ دنیا سے تائب ہوگئے اور ترکِ علائق اختیار کر کے تکمیلِ سلوک کی اور کمالِ فقر کو پہنچے اور مقبولانِ الٰہی کے زمرہ میں داخل ہوئے۔ رفت از دنیا چو در خلدِ بریں! رحلتش ’’غمگیں‘‘ بگو ’’خورشید‘‘ خواں ۱۱۲۰ھ ۱۱۲۰ھ &۔۔۔
مزید
جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے۔ عبادت و ریاضت اور شجاعت و سخاوت میں بے مثال تھے۔ اپنے والد ماجد کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔ تادمِ زیست موضع حجرہ میں مقیم رہ کر ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ صاحبِ سراج الاولیاء فرماتے ہیں: حضرت نور محمّد کا بیان ہے کہ بچپن میں قرآن شریف کا آخری پارہ پڑھ رہا تھا کہ معانیِ قرآن مُجھ پر منکشف ہونے شروع ہوگئے۔ ایک روز میں انتہائے دردِ دل کے باعث رو رہا تھا۔ معلم نے مُجھ سے رونے کا سبب پوچھا۔ والد ماجد میرے حال سے واقف تھے۔ فرمایا: اس سے رونے کا حال مت پُوچھئے اور خاموش رہئے۔ ۷۳ برس کی عمر میں ۱۱۲۶ھ میں وفات پائی۔ مزار موضع حجرہ میں ہے۔ نور محمّد آں مہِ عالم چواز جہاں شاہِ کریم متقی آمد وصالِ او ۱۱۲۶ھ بر عرشِ حق رسید بقُربِ جلیلِ حق دیگر بگو کہ نورِ محمد خلیلِ حق ۱۱۲۶ھ ۔۔۔
مزید
حضرت شاہ سلیمان قادری کے چھوٹے لڑکے تھے۔ وضع قلندرانہ وطبع رندانہ رکھتے تھے۔ ظاہر میں پریشان حال اور باطن میں صاحبِ جمیعت تھے۔ حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کی خدمت میں حاضر رہ کر تکمیلِ سلوک کی اور اپنے والدِ ماجد کی وفات کے بعد بزرگی کے مصلّے پر عبادت میں مصروف رہے۔ جو کچھ زبان سے فرماتے وُہ پورا ہوجاتا۔ صاحبِ تذکرہ نوشاہی لکھتے ہیں: ایک مرتبہ آپ موضع گھگانوالی[1] میں تشریف لے گئے۔ ان دنوں سخت امساکِ باراں تھا۔ ان کاایک مرید چودھری جیا نامی تھا اس نے حاضرِ خدمت ہو کر دعائے بارانِ رحمت کی التجا کی۔ اس وقت دوپہر کا وقت تھا، شدّت کی گرمی پڑ رہی تھی، آپ حجرے سے باہر نکل کر دھوپ میں آبیٹھے اور بارگاہِ الٰہی میں دُعا مانگی۔ اُسی گھڑی بادل آیا اور بارش ہونی شروع ہوگئی۔ جب آپ کے کپڑے بھیگنے لگے تو حاضرین نے درخواست کی کہ حجرے میں تشریف لے آئیے۔ جونہی آپ حجرے میں داخل ہوئے مینہ برسنا بند ہوگیا۔ ل۔۔۔
مزید
حضرت حاجی محمد نوشاہ کے فرزند عالیجاہ اور خلیفہ آگاہ[1] تھے۔ صاحبِ زہد و ریاضت و ذوق و شوق اور وجد و سماع، متقی اور مہمان نواز تھے۔ رات دن جذب اور استغراق اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ میں گزار دیتے تھے۔ خوراق اور کرامات بے شمار آپ سے ظہور میں آتی تھیں۔ ایک دن آپ کو اپنی زمین سیراب کرنے کیلئے چرغِ چوب کی ضرورت پڑگئی جو آپ نے ایک زمیندار بھیرو نام سے ایک دن کے لیے مستعار مانگی۔ وُہ بہانہ کر کے ٹال گیا کہ میرا کنواں خراب ہوجاتا ہے۔ آپ نے فرمایا: خراب ہی ہوجائے گا۔ چنانچہ اُسی روز اس کی عمارتِ چاہ گِر گئی۔ جتنی بار تعمیر کی، قائم نہ رہی۔ نیز تذکرہ نوشاہی میں ہے کہ ایک روز حافظ صاحب پر حالتِ جذب و استغراق طاری تھی اپنے خسر کے گھر بیٹھے ہوئے تھے۔ گھر کے سامنے ایک زمیندار کی لڑکی چرخہ کات رہی تھی اور ساتھ ساتھ کچھ گا بھی رہی تھی اس کے سرور نے آپ پر حالتِ وجد طاری کردی۔ لڑکی کے خاموش ہونے پر فرمایا:۔۔۔
مزید
حضرت حاجی محمد نوشاہی گنج کے فرزند دوم تھے۔ علومِ ظاہری مُلّا عبدالحکیم سیالکوٹی اور مولانا عبداللہ لاہوری سے حاصل کئے تھے۔ اپنے عہد میں علمی فضل و کمال کے باعث فقہأ و محدثین میں ممتاز، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور سخاوت و کرامت میں بے نظیر تھے۔ نقل ہے ایک روز ایک شخص مبارک نا م آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ سے گستاخانہ پیش آیا۔ فرمایا: جو کرے گا ضرور بھرے گا۔ اُسی روز اس کی پیٹھ میں ایک پھوڑا نکل آیا جس کی تکلیف سے وُہ چند روز میں مرگیا۔ نقل ہے ایک روز آپ کی خدمت میں ایک ایسا مریض لایا گیا جس کے ہاتھ پاؤں شل ہوچکے تھے۔ فرمایا: اسے حضرت نوشہ گنج بخش کے مزار پر لے جاؤ اور اسے کہو کہ وہاں بیٹھ کر سورۂ ملک پڑھے۔ اِن شاہ اللہ شفا ہوجائے گی۔ چنانچہ اس نے آپ کے فرمودہ کے مطابق وہاں بیٹھ کر سورۂ ملک تلاوت کی۔ سورہ شریف کے اختتام پر وُہ صحت یاب ہوگیا۔ صاحبِ تذکرہ نوشاہی لکھتے ہیں: آپ کے تین فرزند ۔۔۔
مزید
والد کا نام سیّد سبدالرزاق بن تاج العارفین یحییٰ تھا۔ سلسلۂ نسب حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم تک منتہی ہوتا ہے۔ سلسلۂ قادریہ کے مشائخ کبارے تھے۔ آپ کے آباؤ اجداد عرب سے نقلِ مکانی کرکے ہندوستان آکر پنجاب میں وزیرآباد کے قریب آباد ہوگئے تھے۔ آپ نے ایک گاؤں کوٹلہ بھی آباد کیا تھا۔ تمام عمر ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ ۱۱۳۶ھ میں سکّھوں کی غارت گری میں شہید ہوئے۔ آپ کے بھائی یٰسین بھی بزرگی و کرامت میں دُور دور تک شہرت رکھتے تھے۔ مزار موضع خانپور میں مضافاتِ کوٹلہ میں ہے۔ رفت احمد چو در بہشتِ بریں اعظم الاولیاء ولی گفتم ۱۱۳۶ھ وصلِ آں شیخِ دیں د حق آگاہ ہمدگر شیخ ہند امین اللہ ۔۔۔
مزید
والد کا نام سیّد علی بن حاجی سید ہاشم تھا۔ اپنے زمانے کے فاضل متجر اور عارف کامل تھے۔ عبادت و ریاضت، زہدد اتقا اور توکل و استغنا میں بے نظیر تھے۔ درس و تدریس اور اعلائے کلمۃالحق میں شہرۂ آفاق تھے۔ بڑے بارعب و پُرہیبت تھے۔ آپ کے سامنے کوئی بات نہ کرسکتا تھا۔ قلندرانہ وضع رکھتے تھے۔ ایک دفعہ محمد معزالدین بن شاہ بن عالم گیر خدمت میں حاضر ہُوا۔ ایک لاکھ روپیہ نقد اور چند قطعاتِ اراضی نذرانہ پیش کیے مگر آپ نے کُچھ بھی قبول نہ کیا۔ ۱۱۳۶ھ میں بعہدِ محمد شاہ بادشاہ وفات پائی۔ مزار لاہور میں ہے۔ بدرِ چراغِ زمانہ بدرالدین! سالِ تاریخِ رحلتش سرور شدچو روشن باوجِ باغِ جناں ’’بدرِ دین پیر دیں شریف‘‘ بخواں ۱۱۳۶ھ ۔۔۔
مزید
اصلی نام سعادت مند تھا۔ قصبہ بٹالہ کے رہنے والے تھے۔ آباؤاجداد قوم کھتری پوری سے تھے۔ آپ کے دادا مشرف بہ اسلام ہوئے تھے جو بٹالہ میں قانون گو کے عہدہ پر مامور تھے۔ تعلیم و تربیت اپنے والدِ ماجد سے پائی تھی۔ تیس سال کی عمر میں تھے کہ آپ کے بھائی عبدالرحیم وفات پاگئے۔ آپ ازرہِ ہمدردی و خبر گیری اپنی بھاوج کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔ ان کی بیوی کو ان کا یہ سلوک ایک آنکھ نہ بھایا اور انہیں متہم کیا۔ آپ دل برداشتہ ہو کر لاہور چلے آئے اور شیخ محمد فاضل قادری شطاری کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے اور خدمتِ مرشد میں رہ کر سلسلۂ قادریہ کی تکمیل کی۔ خرقۂ خلافت پایا اور شاہ شرف کے خطاب سے ممتاز ہوئے۔ اس دوران میں آپ کی اہلیہ حاضرِ خدمت ہوئیں اور واپس بٹالہ جانے کی تحریک کی مگر آپ نے قبول نہ کیا۔ تمام عمر لاہور میں گزاری۔ درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ شاہ رضا قادری شطاری آپ کے پیر بھائی تھے۔ ۱۱۔۔۔
مزید
اپنے وقت کے امامِ شریعت، مقتدائے طریقت اور عارفِ حقیقت تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی کی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے پائی تھی۔ جامع علوم و فنون تھے۔ نیز علومِ منقولات و معقولات میں بڑی دسترس حاصل تھی۔ ہندوستان کے مشائخ ِ کبار سے تھے۔ سیکڑوں مشرکین اور فاسق و فاجر آپ کے دستِ مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے اور تائب ہوکر راہِ ہدایت پر آئے۔ حضرت غوث الاعظم کے ساتھ نسبت خاص تھی۔ حضرت غوثیہ ہی سے عبدالقادر ثانی کا خطاب بعالمِ باطن پایا تھا۔ صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں: آپ عفوانِ شباب میں بڑی پُر تکلّف زندگی بسر کرتے تھے۔ سماع کی طرف بڑا التفات تھا۔ سفر میں بھی یہی کیفیت تھی۔ سازو سامان کے کئی اونٹ ہمرا ہوتے تھے۔ مگر سجادہ نشین ہوتے ہی ان تمام تکلفات سے کلی اجتناب اختیار کرلیا۔ طالبانِ سماع کو زجرو توبیخ کرتے تھے۔ اگر کسی موقع پر بطریق شاذ سماع سننے کا اتفاق ہوجاتا تھا تو اس قدر گریہ و زاری کر تے تھے۔۔۔
مزید
داؤد نام، سیّد فتح اللہ بن سیّد مبارک باپ کا نام تھا۔ سلسلۂ نسب امام موسیٰ کاظم تک منتہی ہوتا ہے۔ آپ کے والد عرب سے آکر ہندوستان میں پہلے ہیبت پور (پٹی) میں پھر قصبۂ چونی وال (چونیاں) سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ آپ اسی مقام پر اپنے والد کی وفات کے چار ماہ بعد پیدا ہوئے۔ سنِ رشد کو پہنچے تو حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی کے شاگرد مولانا اسماعیل لاہوری کی خدمت میں آکر علومِ ظاہری کی تکمیل کی پھر حضرت سیّد حامد گنج بخش گیلانی اوچی کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور سلسلۂ قادریہ کی تکمیل کے بعد خرقہ و خلافت سے ممتاز ہوئے اپنے زمانے کے صاحبِ حال و قال اور جامع شریعت و طریقت بزرگ گزرے ہیں۔ زہدو تقویٰ اور عبادت و ریاضت میں بھی بلند مقامات پر فائز تھے۔ تمام رات کبھی قیام، کبھی سجود، کبھی رکوع اور کبھی قعدہ میں گزرجاتی تھی۔ کثرتِ ریاضت و مجاہدہ سے آپ کی نسبتِ خاص حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم س۔۔۔
مزید