فاضل متجر مولانا محمد عمر الدین ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب:اسمِ گرامی:مولانا عمرالدین۔لقب:علاقہ ہزارہ کی نسبت سے "ہزاروی"کہلاتے ہیں۔سلسلۂ نسب اسطرح ہے: مولانا عمر الدین بن مولانا قمر الدین بن علاء الدین بن مراد بخش بن گل محمد ۔(علیہم الرحمہ )۔ مولدوموطن: آپ " کوٹ نجیب اللہ" (ضلع ہری پور ہزارہ سے چھ میل دور ایک قصبہ ہے) میں پید ا ہوئے۔ تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم اپنے گھر پرہوئی۔والدِ گرامی جید عالمِ دین تھے،ان سے اکتسابِ علم کیا۔حضرت مولانا شاہ عبیداللہ مکی علیہ الرحمہ سے تحصیل وتکمیل ِ علوم کی۔ آپ نے متحدہ ہندوستان کے مشاہیر علماء ِ کرام سے اکتسابِ علم کیا۔ آپ کو درسِ نظامی کے جملہ علوم وفنون پر حیرت انگیز حد تک مہارت حاصل تھی۔ یہی وجہ کہ حضرت تاج الفحول آپ پر فخر فرماتے تھے۔ بیعت وخلافت: آپ حضرت مولانا ۔۔۔
مزید
قاضی حیدر کشمیری المخاطب بہ قاضی خان رحمۃ اللہ علیہ آپ خطۂ کشمیر کے عالم اجلّ اور فقہیہ اعظم تھے۔ آپ مولانا عبدالرشید زرگر کشمیری کے شاگرد تھے کمالات علمی حاصل کرنے کے بعد کشمیر سے روانہ ہوئے۔ عالمگیر اورنگ زیب کے لشکر میں ملازم ہوگئے۔ صدروالصدور سیادت خان نے آپ جیسے جوہر کو ایک نگاہ دیکھا تو بڑا معتقد ہوگیا۔ بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا بادشاہ نے اپنے شہزادوں کی تعلیم و تربیت پر مقرر کردیا۔ قابلیت کی شہرت عام ہوئی۔ دہلی کے عہدہ قضا پر مقرر کردئیے گئے چند سال تک اسلامی عدل و انصاف کا حق ادا کردیا۔ عہدہ قضاء سے اُبھرے تو بادشاہ نے آپ کو اقضیٰ الاقضاء کا خطاب دیا۔ آپ کی وفات ۱۱۲۲ھ میں دکن میں ہوئی۔ آپ کی نعش شاہی انتظامات کے ساتھ کشمیر پہنچائی گئی اور سرینگر شہر کے باہر ایک باغ میں دفن کردئیے گئے۔ یافت مسکن بقصر خلد بریں رحلتش خاص دہر حیدر گو ۱۱۲۲ھ کر د حیدر تواز زمانہ سفر ہم ب۔۔۔
مزید
حضرت عبید اللہ بن حسین کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عبید اللہ بن حسین بن دلال بن ولہم کرخی: اپنے زمانہ کے امام عالم فقیہ فاضل شیخ ثقہ طبقہ مجتہدین فی المسائل میں سے نزیل بغداد تھے،بد ابی خازم اور ابو سعید بروعی کے ریاست مذہب کی آپ پر منتہی ہوئی،علاوہ فضیلت علم کے آپ بڑے صاحب قدر،عابد،قانع،زاہد،متورع۔ کثیر الصوم والصلوٰۃ تھے۔ابو الحسن کنیت تھی،۲۶۰ھ میں پید ہوئے،فقہ کو ابو سعدی بروعی تلمیذ اسمٰعیل بن حماد سے اخذ کیا اور حدیث کو اسمٰعیل بن قاضی اسحٰق اور محمد بن عبد اللہ حضرمی سے سنا اور روایت کیا اور آپ سے ابو حفص بن شاہین وغیرہ محدثوں نے روایت کی،اور آپ کے تلامذہ میں سے مثل ابو بکؔر الرازی احمد جصاص وابو علی احمد بن محمد الشاشی وابو حامد احمد البطری و ابا القاسم علی التنوخی وابو عبد اللہ الدامغانی اور ابو الحسن قدوری وغیرہم کے بہت سے ائمہ دین ہوئے۔آپ کی عادت تھی کہ خود جاکر بازار سے سود اخری۔۔۔
مزید
حضرت سید علی قوام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑے صاحب کمال و حال تھے جذب و سکر میں مشہور تھے لیکن آپ کی طبیعت ایک حال پر نہ رہتی تھی کبھی خرقہ مشائخ پہنا کرتے کبھی سپاہیانہ لباس پہن لیتے تھے آپ سادات سوانہ سے تھے مگر خلافت شیخ بہاء الدین جونپوری قدس سرہ سے پائی تھی آپ کو مقبولیت خاص اور حالت مخصوص حاصل تھی فتوحات کے دروازے آپ پر کھلے تھے چار بیویاں تھیں فتوحات مریدوں سے کرتے تھے کہتے ہیں چالیس سال تک آپ نے کسی خادم یا ملازم کو نہ حکم دیا اور نہ کوئی چیز مانگی مگر آپ کا ہر کام آپ کی مرضی کے مطابق ہوتا رہا ایک رات اٹھے اور بیٹھے ہوئے تھے وہ خادم جوہررات آپ کے وضو کے لیے پانی لایا کرتا تھا بھول گیا آپ نے اندھیرے میں ہر طرف ہاتھ مارے مگر پانی کہیں نہ ملا پھر سو گئے چند لمحوں بعد پیاس لگی دوبارہ اٹھے پیاس کی شدت ہوئی موت قریب آتی نظر آئی مگر اس حالت میں بھی کسی کو آواز دے کر پانی نہ مانگا مرنا قبول ۔۔۔
مزید