حضرت ابو عبداللہ شیخ محمد بن یوسف سورتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔
مزید
مولانا شیخ احمد تھا نیسری: جامعِ علومِ نقلیہ و عقلیہ،واقفِ فنون رسمیہ و ادبیہ،فصیح اللسان بلیغ البیان تھے۔آنحضرتﷺکی نعت میں جو ایک بڑا قصیدہ آپ نے عربی میں تصنیف فرمایا ہے جس کا اول شعر یہ ہے ؎ اطاہر لہبی حنین الطائر وہاج لوعۃ قلبی التایہ الکمد اس سے آپ کی کمال فضیلت و فصاحت اور بلاغت ثابت ہوتی ہے اگر چہ آپ کو مولانا خواجگی سے نہایت محبت قلبی تھی مگر آپ نے شہر دہلی سے باہر نکل جانے میں ان سے موافقت نہ کی،یہاں تک کہ امیر تیمور کی فوج دہلی میں آگئی اور شہر کو تاراج کر کے آپ کے متعلقین کو گرفتار کرلیا۔جب فتنہ سے تسکین ہوئی تو آپ امیر تیمور کی مجلس میں تشریف لے گئے جہاں آپ۔۔۔
مزید
حضرت علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام ونسب: اسم گرامی: علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی۔لقب: آفتابِ پنجاب،علامۂ زمان۔والد کا اسم گرامی: شیخ شمس الدین۔آپخاندانی طور پر ’’شیخ صدیقی‘‘ تھے۔سلسلہ ٔ نسب کئی واسطوں سے حضرت عبد الرحمن بن حضرت ابوبکر صدیق تک منتہی ہوتاہے۔ماضی قریب کے بزرگ خلیفۂ اعلیٰ حضرت،قطبِ مدینہ،شیخ العرب والعجم شیخ ضیاء الدین مدنی کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی سےجا ملتاہے۔ تاریخِ ولادت:آپ کی تاریخِ پیدائش کسی تذکرے میں نہیں ملی۔البتہ پروفیسر محمد الدین فوقؔ صاحب مرحوم کےقیاس کے مطابق 968ھ ہے۔ تحصیلِ علم: مولانا کی ابتدائی تعلیم و تربیت اور پرورش اُسی طرح ہوئی جس طرح ایک عام غریب گھرانوں کے بچوں کی ہوتی ہے۔البتہ ان کی پیشانی پر ستارۂ بلندی کی جھلک ضرور دکھائی دیتی تھی۔بچپ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ حسن شیخ حسن ،مخدوم محمد اسحاق اربعائی کے تربیت یافتہ بزرگوں میں تھے، منقول ہے کہ ایک مرتبہ شہنشاہ روا کو کوئی اہم کام درپیش تھا، اس نے سلطنت کے تمام اہل دل سے دعائیں کرائیں مگر مشکل حل نہ ہوئی۔ آخرسلطان کو کسی نے مشورہ دیا کہ ٹھٹھہ میں شیخ حسن سے دعا کرائی جائے تو عقدہ حل ہوگا شہنشاہ نے ایک قاصد بعجلت تمام ٹھٹھہ روانہ کیا، جب قاصد ٹھٹھہ پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ حضرت دس روز قبل وفات پا چکے ہیں ، اس کوبڑا افسوس ہوا ، رات کو خواب میں شیخ کی زیارت ہوئی شیخ نے ان کو بشارت دی کہ جاؤ تمہارے بادشاہ کی مشکل حل ہوئی اور اسی قسم کی بشارت خود بادشاہ کو بھی ہوئی، جب قاصد واپس پہنچا تو بادشاہ کی مشکل ہوچکی تھی، آپ کا مزار غلہ بازار ٹھٹھہ میں ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۱۸) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید