جمعہ , 12 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 23 October,2026

محی الدین عرف (حافظ جمال اللہ)

حضرت محی الدین عرف حافظ جمال اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ واصل الدین

حضرت شاہ واصل الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

ابو الفتح سنجری مقید جبروت

حضرت ابوالفتح سنجری مقید جبروت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شیخ بہاؤ الدین اکبر

حضرت شیخ بہاؤالدین اکبر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

عبد اللہ شاذلی

حضرت عبداللہ شاذلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

محمد غیاث کرمانی

حضرت محمد غیاث کرمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

ابو العباس احمد خزری

حضرت ابوالعباس احمد خزری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حسن مشتولی

حضرت ابو علی حسن مشتولی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

سیّدنا کندیر ابن  سعید رضی اللہ عنہ

   بن حیدہ بن قشیرقشیری۔اوربعض لوگ ان کو مزنی کہتےہیں ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیاہے۔ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہےبعض لوگوں نے کہاہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھااوران کے والد صحابی تھے۔خالد بن عبداللہ نے داؤد بن ابی  ہند سے انھوں نے عباس بن عبدالرحمن سے انھوں نے کندیر بن سعید سے اورایک مرتبہ انھوں نے کہا کہ کندیر بن سعید کے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمیں نے ایک مرتبہ زمانۂ جاہلیت میں حج کیاتھامیں نے وہاں دیکھا کہ ایک شخص طواف کررہاہے اوریہ شعرپڑھ رہاہے؂ ۱؎        یارب روراکبی محمدا                                    روہ لی ۔۔۔

مزید

سیّدنا کعب ابن مانع رضی اللہ عنہ

ابن  مانع۔انہیں کا لقب کعب احبارہے۔کنیت ان کی ابواسحاق ہے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایاتھامگرآپ کو دیکھانہ تھاحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اسلام لائے۔ابو ادریس خولانی نے ابومسلم جلسی معلم کعب الخیر سے روایت کی ہے کہ وہ کعب احبارکورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرنہ ہونے پرملامت کررہے تھےتو کعب نے کہاکہ میں حضرت ہی کی خدمت میں حاضرہونے کے ارادہ سے چلاتھامگرجب میں مقام ذاقرنات میں پہنچاتواس بت نے مجھ سے پوچھاکہ اے کعب تم  کہاں جاتے ہومیں نے کہااس نبی کے پاس جاتاہوں اس نے کہابے شک وہ نبی تھےمگراب وہ زمین کےنیچے ہیں اس کے بعد مجھے ایک سوارملامیں نے اس سے پوچھا کہ کیاخبرہےاس نے کہامحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اوراہل عرب مرتد ہوگئے اس کے بعد پوری حدیث ذکرکی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید