شیخ بڈھ نے ایک خرقۂ خلافت اپنے چھوٹے بیٹے حضرت شیخ منصور کو بھی عطا فرمایا۔ یہ شیخ منصور بڑے باکمال بزرگ تھے۔ آپ اکثر سفر میں رہتے تھے اور اکثر مشائخ وقت مثل حضرت شیخ جلال تھانیسری قدس سرہٗ وغیرہ کی صحبت حاصل کی تھی۔ آپ بڑے صاحب ریاضت ومجاہدہ تھے۔ اور تربیت مریدین میں مشغول رہتے تھے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
غرضیکہ شیخ بڈھ قدس سرہٗ کے کشف و کرامات بہت ہیں جنکی اس کتاب میں گنجائش نہیں ہے آپ نے آخر عمر میں مشائخ چشت کی امانت اپنے بڑے بیٹے شیخ پیر کے حوالہ فرمائی اور پردہ پوشی کرلی۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آں پیشوائے جمیع اہل کمال، آں سیراب از تر شحات ذوق وحال، نور محض در طلسم جسمانی، آئین صحو وسکر رابانی، گم گشتہ ودر بحر ذات سرمد، قطب دائرہ وجود، شیخ المشائخ حضرت شیخ محمد قدس سرہٗ اپنے والد ماجد حضرت شیخ عارف بن شیخ احمد عبدا الھق قدس سرہٗ کے خلیفہ جانشین تھے۔ آپ بادۂ نوشان توحید کے سر حلقہ، اور دُد کشان مشرب تجرید وتفریس کے سر دفتر تھے۔ آپ فقر و فنا اور کشف و صفا میں یگانۂ روزگار تھے۔ آپ اس قدر بلند ہمت تھے کہ ذات مطلق کےمشاہدہ کے بغیر ایک لمحہ نہیں رہ سکتے تھے۔ آپ ہر وقت استغراق ذات مطلق میں غرق رہتے تھے۔ اور عالم کون و مکان سے ہمیشہ آنکھیں بند رکھتے تھے۔ آپ اپنے اسم مبارک ‘‘محمد’’ کی طرح ہر شخص کے نزدیک محمود محمد تھے۔ آپ کے لیے یہی شرف کافی ہے کہ آپکا اسم گرامی حضرت رسالت پناہ کےمشرب ہی سے بہرہ یاب تھے۔ بلکہ اپنے آپکو حض۔۔۔
مزید
آں مدرس مسائل عشق و عرفان، محدث حقائق وجد وپیمان، قبلۂ طالبانِ وصل و شہود، فارغ از قید مشیخیت و نمود، نسان حق کا ترجمان معارف، قطب دوران، شیخ المشائخ حضرت م خدوم شیخ عارف قدس سرہٗ حضرت شیخ احمد عبدالحق قدس سرہٗ کے فرزند وخلیفۂ جانشین تھے۔ آپ فقر وغنا میں بے ہمتا اور ریاضت مجاہدات میں یکتا تھے۔ آپ نہایت ہی بلند ہمت اور اعلیٰ مقامات رکھتے تھے تربیت مریدین میں آپ یگانہ رازگار تے۔ چنانچہ ایک ہی توجہ سے طالبان حق کو بُعد وحرمان کےمقام سےنکال کر مرتبۂ وصل و عرفان پر پنچادیتے تھے۔ توحید کے اسرار درموز بیان کرنے میں آپ ید طولیٰ رکھتے تھے۔ کشف و کرامات میں آپ معجزاتِ محمدی اور متابعت احکام شریعت میں روش احمدی پر قائم تھے۔ آپ جملہ صفات حنسہ سے آراستہ اور حُسن خلق سے پیراستہ تھے۔ میدان طریقت میں آپکی روشن حُجت اور مقبول ہر فرقہ ہے۔ قطب العالم حضرت شاہ عبدالق۔۔۔
مزید
شیخ کمال بن شیخ کبیر ملامتی نے اپنے والد سے تربیت حاصل کی او رملا متیہ مشرف رکھتے تھے۔ بلکہ وہ اپنے باپ سے بھی زیادہ بیباک تھے۔ باپ کی وفات کے بعد وہ گجرات چلے گئے۔ وہاں حضرت شاہ محبوب عالم اُن سے عزت واحترام سےپیش آئے۔ جس سے انکی شہرت میں اضافہ ہوا۔شیخ کمال کا مزار احمد آباد میں ہے۔ دیوار کا چلنا مراۃ الاسرار میں آیا ہے کہ ایک دن حضرت شیخ احمد عبدالحق حجرہ کی دیوار بنارہے تھے خود دیوار پر یتھے تھے اور مرید کام کر رہے تھے۔ اس اثنا میں یخ جمالگوجرہ ایک گھوڑی پر سوار ہوکر وہاں تیزی سے پ ہنچے۔ اور کہنے لگے کہ آیا یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ دیوار چلنے لگے۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ کیا مشکل ہے یہ کہنا تھا کہ دیوار چل پڑی۔ آپ نے فرمایا جمال آؤ۔ لیکن شیخ جمال کی گھوڑی وہیں رُک گئی۔ شیخ جمال نے جتنے تازیانے لگائے گھوڑی اپنی جگہ سے آگے نہ بڑھی۔ اس سے شیخ جمال بہت ناد۔۔۔
مزید
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ شیخ کبیر نے شروع میں مخدوم شیخ تقی بن رمضان حائک سہروردی کےمرید ہوئے جنکا مزار قصبہ جھونسی میں ہے جوالہ آباد سے متصل ہے۔ اسکے بعد وہ رامانند بیراگی کی صحبت میں چلے گئے اور کافی ریاضت ومجاہدہ کے بعد جب ان پر توحید کا غلبہ ہوا تو ظاہری آداب چھوڑ کر بے ریا موحد کہتے ہیں۔ آپکا مسلک رندانہ ملا متیہ تھا۔ آخر انہوں نے خرقہ خلافت سلسلۂ فردوسیہ میں حضرت مخدوم بھیکہ سے حاصل کیا۔ شیخ کبیر کا طریق صلح کل تھا۔ بعض کتابوں میں لکھا ہے ک ہ شیخ کبیر اگر چہ نشاج (روئی دھننے والے) تھے لیکن زبان ہندی میں توحید کے موضوع پر انہوں نے بہت شعر کہے ہیں۔ مسلمان آپکو مسلمان اور کافر آپکو کافر کہتے تھے۔ لیکن ؟آپ نے جواب دیا کہ اگر مجھے پاسکو تو۔ چنانچہ آپنے حجرہ کا دروازہ بند کردیا اور رحلت کر گئے۔ جب دروازہ کھولا گیا تو چند پھولوں کے سوا وہاں کچھ نہ تھا۔ لی۔۔۔
مزید
یہ شیخ جمال گوجرہ جو شیخ اولیا بھی کہلاتے ہیں شیخ مظفر بلخی کے خلیفہ ہیں۔ اور آپ شیخ شرف الدین یحییٰ منبری قدس سرہٗ کے خلیفہ ہیں۔ جنکا سلسلہ پانچ واسطوں سے حضرت شیخ نجم ا لدین کبریٰ قدس سرہٗ تک جا ملتا ہے شیخ جمال گوجرہ کو حضرت مخدوم احمد عبد الحق قدس سرہٗ سے فیض ملا ہے۔ آپکا مزار اودھ میں آج تک خلقت کی زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔ مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ شیخ کبیر حائک ملامتی مخدوم شیخ بھیکہ کے خلیفہ تھے۔ اور شیخ بھیکہ شیخ جمال گوجرہ کے خلیفہ تھے۔ شیخ بھیکہ کا مزار شہر اودھ سے چار کوس دور موضع ملہری میں واقعہ ہے۔ شیخ جمال گوجرہ سلسلہ کبرویہ ردوسیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید