نام ونسب مظہر انوار الجود الاحسان، معدن اسرار ذوق دو جدان، قتیل سیف محبت وعشق رحمٰن ملقب ملقب ذوی النورین، جامع القرآن مقتدائے دین امیر المومنین عثمان ابن عفان سید عالمﷺ کے خلیفہ سوم اور حضرت عمر کے بعد بہترین خلائق ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں آپ کی کنیت ابو عمر تھی جب اسلام میں حضرت بیبی رقیہ بنت رسول اللہﷺ کے بطن مبارک سے آپ کے ہاں فرزند عبداللہ متولد ہوئے تو آپ کی کنیت ابو عبداللہ ہوگئی۔ آپ کا نسب کواجہ کائناتﷺ کے نسب سے عبد مناف پر جا ملتا ہے آپ کی والدہ ماجدہ بھی اہل قریش میں سے تھیں اور مشرف باسلام بھی ہوئیں تھیں حضرت عثمان بہترین قریش اور مقتدائے نبی امیہ سمجھے جاتے ہیں۔آپ بنی امیۃ کے محبوب ترین بزرگ تھے۔ آپ بڑے مالدار اور صاحب جاہ وحشمت تھے۔ اور آپ اقارب واغیار کے ساتھ لطف وکرم، حلم و حیا، تقویٰ وعبادت، اور جو دو سخا میں ضرب المثل تھے۔ آپ کا سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ آنحضرتﷺ سے ۔۔۔
مزید
آپ شاعر قلندر اور جامع خیرالمجالس اور شیخ نظام الدین اولیاء کے مرید تھے اور کبھی کبھی اپنے والد صاحب کی معیت میں شیخ نظام الدین اولیاء کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے۔ شیخ نظام الدین اولیاء کے بعض خلفاء سے اپنی استعداد اور قابلیت کے مطابق استفادہ کیا، اگرچہ آپ کے اشعار ایسے نہیں کہ جن کی وجہ سے آپ کو شاعر کہا جائے، تاہم لوگوں میں شاعر ہی مشہور تھے۔ لیکن زیادہ تر حمید قلندر سے مشہور تھے۔ ابتداً مولانا برہان الدین غریب کے ملفوظات جمع کیے۔ پھر شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کی خدمت میں آئے اور ان کے ملفوظات جمع کرکے ان کا نام خیرالمجالس رکھا۔ اسی کتاب میں آپ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ایک دن شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ ہم آپ کو قلندر کہا کریں یا صوفی؟ قلندر تو اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ ابھی آپ طالب ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ایک دفعہ شیخ نظام الدین اولیاء کا د۔۔۔
مزید
امام اہل برو بجر، متبغِ احکام بہ رے ڈھر، محدث اسرار ذات،مفصح رموز صفات محرم اشارات حضرت رب الارباب، ممتاز بعدالت، امیر المؤمنین حضرت عمر ابن الخطاب حضور سرور کونینﷺ کے دوسرے خلیفہ اور حضرت ابو بکر صدیق کے بعد افضل خلق ہیں۔ آپ کی کنیت ابو حفص ہے۔ آپ کو ابو حفصہ بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کا نسب حضرت سید البشر کے نسب اطہر کے ساتھ آٹھ واسطوں کے بعد حضرت کعب سے جا ملتا ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ بھی اہل قریش سے تھیں۔ خلافت آپ حضرت ابو بکر صدیق کے استصواب سے آپ کے بد مسند خلافت پر متمکن ہوئے کتب معتبرہ میں آپ کی خلافت کا واقعہ یوں ہے کہ حضڑت ابو بکر صدیق نے اپنی آخری مرض کے دوران فرمایا کہ آج رات میں نے خلافت کی تفویض کے متعلق کئی بار استخارہ کیا اور حق تعالیٰ سے درخواست کی کہ مجھے اپنی رضا سے آگاہی فرمائی جاوے تم لوگوں کے جاننا چاہئے کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اور دنیا میں کون۔۔۔
مزید
ابتدا عمر میں آپ کا پیشہ ملازمت تھا، بعد اس سے توبہ کرکے شیخ نظام الدین اولیاء کے حلقہ ارادت میں داخل ہوگئے اور شیخ کے ملفوظات پر ایک کتاب لکھی۔ ایک دن شیخ سے عرض کیا کہ حضرت اگر اجازت ہو تو آنے جانے والوں کے لیے ایک حجرہ تیار کرادوں۔ شیخ نے فرمایا کہ یہ کام اس سے کچھ کم نہیں، جس کو تم ترک کرکے آئے ہو، آپ کا مزار ظفرآباد میں ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ شروع عمر میں دنیاوی دھندوں میں مشغول رہے۔ بادشاہ اور شہزادہ سے یاری تھی، جس زمانہ میں سلطان علاؤ الدین خلجی جاگیردار اور امیر تھے تو آپ نے ان کے ہاں کار ہائے نمایاں انجام دیے، آخر کار شیخ نظام الدین اولیاء سے بیعت ہوئے اور اپنی خوشی سے دنیاوی کاروبار کو خیر باد کہہ دیا۔ جب سلطان علاؤالدین خلجی سلطنت کی مسند پر متمکن ہوئے تو خواجہ مؤیدالدین کری کو یاد کیا، لیکن جب سلطان علاؤالدین کو معلوم ہوا کہ خواجہ مؤید الدین کری شیخ نظام الدین اولیاء کے مرید ہوکر دنیاوی کاروبار ترک فرماچکے ہیں تو انہوں نے شیخ کی خدمت میں پیغام بھیجا، کہ آپ خواجہ مؤیدالدین کو اجازت دےدیں تاکہ وہ ہمارے کاموں میں ہمارے معین و مددگار ہوں، تو شیخ نظام الدین اولیاء نے جواب دیا کہ خواجہ کو اب ایک دوسرا کام درپیش ہے، جس کی وہ تیاری کر رہے ہیں۔ یہ جواب اس کو ناگوار گزرا اور اس نے کہا کہ شیخ نظام الدین! آپ سب۔۔۔
مزید
آپ نے زہد، ورع، ترک دنیا، تجرد اور عزلت (جیسے اوصاف حمیدہ) سے موصوف تھے اور اپنے زمانے کے تمام لوگوں کی نظروں میں مکرم و معظم تھے۔ ایک مرتبہ شیخ نظام الدین کے ان دوستوں کو، جن کی زندگی کتب بینی اور بحث مباحثہ میں گذری تھی، شوق ہوا کہ وہ مولانا جلال الدین اودھی سے کچھ علم حاصل کریں اور باہمی صلاح مشورے سے یہ طے پایا کہ مولانا ہی شیخ نظام الدین سے اس کی اجازت حاصل کریں۔ مولانا نے جب شیخ کی خدمت میں یہ بات پیش کی تو شیخ نظام الدین سمجھ گئے کہ دراصل یہ انہی لوگوں کی خواہش ہے تو آپ نے مولانا سے فرمایا کہ میں کیا کروں۔ میں نے تو ان سے کچھ اور ہی کام لینا ہے اور یہ لوگ پیاز کی مانند پوست در پوست ہیں۔ اخبار الاخیار بہت بڑے دانشمند اور بے حد مشغول بحق تھے اور سماع کے عاشق و شیدا آپ کا ظاہر و باطن اہل تصوف کے اوصاف کے ساتھ موصوف تھا رحمۃ اللہ علیہ۔ کاتب حروف نے اپنے والد چچا۔۔۔
مزید
آپ تاریخ فیروز شاہی کے مصنف اور خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید اور خواجہ صاحب کی کرم فرمائیوں کی وجہ سے ممتاز اور مجسمہ لطائف و ظرائف تھے، آپ کو ہر قسم کے اقوال اور حکایات یاد تھیں۔ علماء، مشائخ اور شعراء کی محفلوں اور مجلسوں سے اکثر لطف اٹھاتے تھے، امیرخسرو اور میر حسن سے بے انتہا محبت کرتے تھے، ان دونوں کی صحبت سے بھی مستفیض ہوئے۔ ابتداً شیخ نظام الدین سے بیعت ہوکر غیاث پور میں رہنے لگے، آخر عمر میں طبعی لطافتوں اور فن مصاحبت کی وجہ سے سلطان محمد تغلق بادشاہ کے خاص مصاحب ہوگئے، سلطان محمد تغلق کے فوت ہوجانے کے بعد فیروز شاہ کی حکومت کے زمانہ میں ضروریات زندگی پر قناعت کرکے گوشہ نشین ہوگئے اور وفات کے وقت دنیا سے تہی دست اور پاک و صاف عالم پائیدار میں تشریف لے گئے، کہتے ہیں کہ خواجہ کے جنارے پر صرف ایک بوریا تھا، شیخ نظام الدین اولیاء کے مقبرے میں اپنی والدہ کے پائیں دفن کیے ۔۔۔
مزید
آپ دیانت اور تقویٰ میں مقتدائے وقت تھے، شرعی احکام پر مضبوطی سے پابندی فرماتے۔ خواجہ نظام الدین اولیاء کے ہمعصر۔ شیخ نظام الدین اولیاء سے سماع کے متعلق ہمیشہ احتساب کرتے رہتے تھے اور شیخ نظام الدین معذرت اور انقیاد کے سوا پیش نہ آتے اور مولانا کی تعظیم و تکریم میں کوئی دقیقہ فر و گذاشت نہ کرتے۔ نصاب الاحتساب آپ کی مشہور کتاب ہے جو احتساب کے دقائق اور قواعد کے ساتھ مختلف قسم کی بدعات کے خلاف احکام شرعیہ کے پیش نظر آپ نے تحریر فرمائی تھی۔ خواجہ ضیاء الدین کے مرض موت کے وقت شیخ نظام الدین اولیاء ان کے ہاں عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو مولانا نے اپنے خادموں کو اپنی دستار دی کہ اسے خواجہ نظام الدین کے قدموں کے نیچے بچھایا جائے اور وہ اس کے اوپر چل کر آئیں، مگر خواجہ نظام الدین نے وہ دستار اٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگائی، پھر جب خواجہ نظام الدین مولانا کے سامنے بیٹھ گئے۔۔۔
مزید
آپ امیر خسرو کے بھانجے اور اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم تھے، خواجہ نظام الدین اولیاء سے غایت درجہ کی محبت رکھتے تھے، کہتے ہیں کہ نماز کی نیت کرتے وقت جب تک مرشد کو نہ دیکھ لیتے تکبیر تحریمہ نہ کہتے، صف سے سر کو آگے بڑھاکر پہلے مرشد کا دیدار کرتے اور اس کے بعد اللہ اکبر کہتے، شیخ مرض موت میں ان کی عیادت کے لیے جا رہے تھے کہ راستہ میں خبر ملی کہ ان کا انتقال ہوگیا تو فرمایا الحمد للہ دوست کے پاس دوست پہنچ گیا، امیر خسرو کے مزار کے پائیں آپ کی قبر ہے جسے لوگ میر کے بھانجے کی قبر کہتے ہیں، ممکن ہے یہی قبر خواجہ شمس الدین کی ہو واللہ اعلم۔ مرشد دا دیدار وے باہو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ہو اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
شاعر اہل سنت مولانا محمد یعقوب حسین ضیاء القادری بد ایونی رحمہ اللہ تعالیٰ ۲۶؍رجب،۲جون(۱۳۰۰ھ؍۱۸۸۳ئ) کو بعد از نماز عشاء بد ایوں میں پیدا ہوئے تاریخ نام محمد فضل رحمن تجویز کیا گیا۔آپ کے مورث اعلیٰ مولانا خواجہ عبد اللہ چشتی بدایوں کے مایۂ نازم عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے۔چار سال کی عمر میں والدین کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خاں،اسیر بد ایونی نے کیا جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں فاضل اساتذہ نے پڑھانا شروع کیا پہلے قرآن مجید پڑھایا،پھر فقہ،تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھائیں۔تقریباً چودہ سال کی عمر میں آپ نے عالمانہ استعداد حاصل کرلی۔آپ نے دس سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا اور آخر عمر تک یہ شغل جاری رکھا۔ ۱۹۱۷ء سے ایک عرصہ تک آپ کے زیر اہتمام بد ایوں می۔۔۔
مزید