جمعرات , 11 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 22 October,2026

بی بی نفیسہ قدس سرہا

  والد کا نام حسن بن زید تھا آپ قدیم محدثہ تھیں، مصر میں پیدا ہوئی حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ مصر گئے تو آپ سے احادیث کی سند حاصل کی حضرت امام شافعی کا انتقال ہوا تو آپ کا جنازہ بی بی نفیسہ کے گھر لے جایا گیا پھر تدفین ہوئی، آپ کی وفات ماہ رمضان ۲۰۹ھ میں ہوئی۔ چونکہ موصومہ زبان نفیسہ رحلتش جو ز لفظ صدیقہ ۲۰۹   شد ز عالم بجنت الاعلی بار لفظش مقدسہ فرما ۲۰۹ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

حضرت رابعہ بصریہ

حضرت رابعہ بصریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا     یہ وہ نیک بی بی اور کرامت والی ولیہ ہیں کہ تمام دنیا میں ان کی دھوم مچی ہوئی ہے یہ دن رات خدا کے خوف سے رویا کرتی تھیں اگر ان کے سامنے کوئی جہنم کا ذکر کر دیتا تو یہ مارے خوف کے بے ہوش ہو جایا کرتی تھیں بہت زیادہ نفلی نمازیں پڑھا کرتی تھیں خدا نے ان کا دل اس قدر روشن کر دیا تھا کہ ہزاروں میل کے واقعات کی ان کو خبر ہو جایا کرتی تھی بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کرتی تھیں بڑے بڑے بزرگان دین ان سے دعا لینے کے لئے ان کی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے ان کی کرامتیں اور ان کے اقوال بہت زیادہ ہیں جو عام طور پر مشہور ہیں۔(جنتی زیور)۔۔۔

مزید

گلزار شاہ کشوی

حضرت گلزار شاہ کشوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

امام المجاھدین حضرت مولانا عبد الغفور صاحب سوات قدس سرہ

            امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سوات قادری رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۱۸۴ھ/۱۷۷۰ء میں پیدا ہوئے۔آپ کو ابتداء ہی سے دینی تعلیم کا اشتیاق تھا چنانچہ ابتدائی کتب اپنے علاقہ کے علماء سے پتھیں ، بعد ازاں پشاور کے مشہور زمانہ فاضل حضرت مولانا حافظ محمد عظیم پشاری رحمہ اللہ تعالیی ( م ۱۲۷۵ھ/۱۸۵۸ئ)کی خدمت میں حاضر ہو کر تقریباً چار برس میں تمام کتب متداولہ کی تحصیل و تکمیل کی ار سند فراغت حاصل کی ، با کمال استاد کی صحبت سے تزکیۂ نفس کا جذبہ پیدا ہوا اور شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد شیعب قدس سرہ ساکن توڈھیری کے دست اقدس پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ، ایک عرسہ تک دریائے کاہل اور دریائے سوات کے جنگلوں میں محو عبادت و ریاضت رہے او سلاسل اربعہ میں ماذون و مجاز ہوئے۔       &۔۔۔

مزید

شیخ طریقت حضرت مولانا عبدالغفار شاہ کشمری قدس سرہ

             حضرت پی محمد عبد الغفار شاہ ابن پیر احمد شاہ ابن مپیر مصطفی شاہ ( قدست اسرارہم )شیخ مسعود نروری ( مدفون محلہ نرورہ سری نگر ) کی اولاد امجاد سے تھے ۔ااپ کے دادا حضرت پیر مصطفی شاہ کشمیر سے آکر ضلع ملتان کے ایک ویرانہ مین بیٹھ گئے جو آپ کے قدوم کی برکت سے آباد ہو گیا اور اس مقام پ چک ۵۷/۱۵۔ اسی کی بنیاد رکھی گئی۔اس چک میں پیر مصطفی شاہ کا مزار مرجع خلائق ہے ، پیر عبد الغفار شاہ اسی چک میں متولد ہوئے اور ابھی گیارہ برس کے تھے کہ آپ کے والد ماجد لاہور تشریف لے آئے ۔ لاہور ہی میں حضرت پیرصاحب نے علوم دینیہ کی تحصیل و تکمیل کی ، یہیں آپ کا نکاح سادات کے ایک گھرانے میں ہوا لیکن ووہی برس بعد آپ کی اہلیہ داغ مفارقت دے گئیں ۔ اس کے بعد پیر صاحب نے دوسری شادی نہیں کی ، صرف ایک فرزند پیر محمد اشرف موحوم آپ کی یاد گار تھے[1] &n۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ یعقوب

آپ شیخ فریدالدین کے چھوٹے بیٹے تھے، جود و سخاوت میں بہت مشہور تھے، اور روحانی کمالات میں ماہر تھے اور اہل ملامت کے راستہ پر چل پڑے تھے (یعنی) جو معاملہ ان کا ظاہر میں تھا اللہ سے تعلق اس کے خلاف تھا (غالباً مطلب یہ ہے کہ بسا اوقات بظاہر لوگ انہیں خلاف شرع افعال کا مرتکب پاکر ملامت کرتے لیکن اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق صحیح تھا، سیرالاولیاء میں لکھا ہے کہ آپ ایک بار امروہہ کے راستے جا رہے تھے کہ وہاں سے مردانِ غیب نے آپ کو اٹھالیا۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت شیخ بدرالدین سلیمان

آپ حضرت شیخ فریدالدین کے مشہور فرزند ارجمند ہیں، آپ اپنے والد بزرگوار کے انتقال کے بعد اپنے بھائیوں اور شیخ کے تمام تر مریدوں کے متفقہ فیصلہ سے سجادہ خلافت کے لیے منتخب کیے گئے، شیخ بدرالدین نے خاندان چشتیہ سے بیعت کی۔ خواجہ زدر اور خواجہ غور جو خاندان چشتیہ کے خلیفہ تھے اور حضرت شیخ فریدالدین کی زندگی ہی میں مقام چشت سے پاک پتن تشریف لائے تھے، ان دونوں مذکور بزرگوں کے پاس حضرت شیخ فرید الدین اپنے دونوں صاحبزادوں کو ان دونوں بزرگوں کا مرید کرادیا۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

علامۃ الدہر مولانا عبد العزیز پر ہاروی قدس سرہ ، صاحب’’نبر اس ‘‘ شرح شرح عقائد

            علامۃ الوریٰ حامل لواء شریعت مولانا الحافظ عبد العزیز بن محمد بن حامد تقریباً ۱۲۰۹ھ/۱۸۹۴ء میں ایک چھوٹی سی بستی پر مضافات کوٹ ادو ( مظفر گڑھ ) میں پیدا ہوئے ۔ قرآن مجید والد ماجد سے حفظ کیا پھر ملتان تشریف لائے اور حضرت خواجہ حافظ محمد جمال چشتی ملتانی ( خلیفۂ مجاز حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے علوم و فنون کا استفادہ کیا ۔ دوران تعلیم درواز بند کر کے مصروف مطالعہ تھے کہ کسی نے دروازہ پر دستک دی ۔ آپ نے فرمایا میں مطالعے میں مصروف ہوں مجھے فرصت نہیں  ہے ۔ آنے والے نے کہا میں خضر ہوں ، آپ نے فرمایا اگر آپ خضر (علیہ السلام ) ہیں تو آپ دروازہ کھولے بغیر بھی تشریف لانے پر قدرت رکتھے ہیں ، چنانچہ حضرت خضر علیہ السلام اندر تشریف لے آئے اور آپ کے کندھول کے درمیان دست اقدس رکھا، اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شہاب الدین

آپ تمام علوم  و فضائل میں شیخ فریدالدین رحمۃ اللہ علیہ سے آراستہ ہوئے، اکثر اوقات آپ کی خدمت میں گزارا کرتے تھے، شیخ نظام الدین اولیاء سے منقول ہے کہ میرے اور مولانا شہاب الدین کے درمیان بہت محبت تھی، ایک مرتبہ میں نے شیخ فریدالدین کے پاس عوارف المعارف کا ایک نسخہ دیکھا جو اکثر آپ کے زیر مطالعہ رہا کرتا تھا، یہ بہت باریک خط سے لکھا ہوا تھا اور اس میں کتابت کی بہت  غلطیاں تھیں جس کی وجہ سے شیخ پڑھتے پڑھتے اکثر توقف فرمایا کرتے تھے، میں چونکہ اس سے پہلے عوارف المعارف کا ایک نسخہ شیخ نجیب الدین متوکل کے پاس دیکھ چکا تھا اس لیے شیخ کے پاس یہ نسخہ دیکھ کر فوراً اس نسخہ کا خیال آیا اور میں نے شیخ فریدالدین سے عرض کیا کہ شیخ نجیب الدین متوکل کے پاس ایک صحیح نسخہ موجود ہے، شیخ کو یہ بات گراں گزری اور فرمایا کہ کیا درویش کو صحیح و غلط میں امتیاز کرنے کی طاقت نہیں ہوتی؟ میں پہلے تو سمجھ نہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نصیرالدین

آپ شیخ فریدالدین کے بڑے صاحبزادے تھے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے، زراعت و کاشتکاری کی کمائی پر جو کسب حلال ہے قناعت پذیر رہے اور تمام عمر اطاعت احکام باری میں بسر کی، اللہ آپ پر رحمت فرمائے۔ تیری رحمت جو میرے ساتھ رہے مجھ کو کس کا ہو پھر خطر یارب عزوجل (قبالۂ بخشش) اخبار الاخیار۔۔۔

مزید